Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو قانونی رکاوٹوں سے پاک تحفظات فراہم کئے جائیں گے : کے ٹی آر

مسلمانوں کو قانونی رکاوٹوں سے پاک تحفظات فراہم کئے جائیں گے : کے ٹی آر

کانگریس اپنی غلطی تسلیم کرے ، 5% تحفظات دینے کا وعدہ لیکن 4% کی فراہمی، بی سی کمیشن بھی قائم ہوگا

حیدرآباد۔/5اپریل، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے اس بات کو دہرایا کہ ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے عہد کی پابند ہے اور تمام قانونی رکاوٹوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو بہر صورت تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔ تلنگانہ بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کانگریس پارٹی کی جانب سے شروع کردہ دستخطی مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو مسلمانوں سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے کہ اس نے 5فیصد کا وعدہ کرتے ہوئے صرف 4فیصد تحفظات ہی فراہم کئے اور وہ بھی عدالت میں زیر دوراں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کو تحفظات کی فراہمی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور محض مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے بغیر کسی جامع سروے تحفظات فراہم کردیئے گئے اور یہ معاملہ نہ صرف عدالتی کشاکش کا شکار ہوگیا بلکہ تحفظات ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے جو غلطی کی ہے ٹی آر ایس اس کا اعادہ نہیں کرے گی۔ جامع سروے اور بی سی کمیشن کی سفارشات کے بعد پارلیمنٹ کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ٹی آر ایس حکومت تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے دستوری ترمیم کیلئے مرکز کو راضی کرے گی اور 9 ویں شیڈول میں تحفظات کو شامل کرنے کی مساعی کی جائے گی۔ انہوں نے کانگریس پارٹی کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے پارلیمنٹ میں منظوری اور دستوری ترمیم کے سلسلہ میں صدر کانگریس سونیا گاندھی کو تائید کیلئے راضی کریں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل سے قبل ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو تحفظات کا وعدہ کیا اور انتخابی منشور میں شامل کیا گیا۔ تشکیل حکومت کے بعد جولائی 2014ء میں پہلے کابینی اجلاس میں مسلم تحفظات کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ کانگریس کی دستخطی مہم میں پہلے ان قائدین کو شامل کیا جائے جنہوں نے 5فیصد کا وعدہ کیا تھا لیکن اس میں ناکام رہے انہیں مسلمانوں سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے۔ کے ٹی آر نے کانگریس کی دستخطی مہم اور ٹی آر ایس پر تنقید کو سستی سیاست کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ کانگریس کے پاس اب مسائل نہیں ہیں لہذا اس مسئلہ کو ہوا دی جارہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ کے مسلمانوں کو ٹی آر ایس پر مکمل بھروسہ ہے اور وہ کانگریس کی ہرگز تائید نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 50فیصد سے زائد تحفظات کی مخالفت کی ہے اور مذہب کی بنیاد پر کسی بھی طبقہ کو تحفظات فراہم نہیں کئے جاسکتے لہذا ٹی آر ایس مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مسلمانوں کی صورتحال کی جانچ کیلئے سدھیر کمیشن قائم کیا ہے جو آئندہ چند ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کردے گا۔ یہ رپورٹ بی سی کمیشن سے رجوع کی جائے گی جو تحفظات کی سفارش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں سچر کمیٹی نے مسلمانوں کی پسماندگی پر رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں سے ابتر ہے۔ اس رپورٹ کے باوجود کانگریس نے مسلمانوں کی بھلائی اور ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیشن میں سچر کمیٹی سے وابستہ افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے واضح کردیا کہ مسلمانوں کی حالت کے بارے میں ایسی جامع رپورٹ کی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے جائیں گے جسے عدالت بھی قبول کرے اور لوک سبھا میں دستوری ترمیم کی راہ ہموار ہوسکے۔

TOPPOPULARRECENT