Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو ’مخالف قوم‘قرار دینے کی کوشش

مسلمانوں کو ’مخالف قوم‘قرار دینے کی کوشش

سوالنامہ سے دستبرداری کی اپیل ‘حکومت یکساںسیول کوڈ پر پہلے مسودہ جاری کرے  : عابد رسول خان

حیدرآباد ۔ 17اکٹوبر ( پی ٹی آئی) صدر نشین ریاستی اقلیتی کمیشن نے کہا کہ طلاق ثلاثہ اور یکساں سیول کوڈ پر عوامی رائے حاصل کرنے کیلئے لاء کمیشن کا جاری کردہ سوالنامہ صرف مسلمانوں کو ’’ مخالف قوم ‘‘ قرار دینے حکومت کی ایک کوشش ہے ۔ جناب عابد رسول خان  نے جو آندھراپردیش و تلنگانہ اقلیتی کمیشن کے صدرنشین ہیں‘ کہا کہ حکومت ایک ایسا ماحول تیار کرنے کی کوشش کررہی ہے جہاں مسلم طبقہ برہم ہوجائے اور ایسا کچھ کرجائے جو پسندیدہ نہیں ۔ اس کے جواب میں مسلمانوں کو پھر مخالف قوم قرار دینے کا موقع مل جائے گا ۔ یہ کہا جائے گا کہ مسلمان ہندوستان کے دستور پرعمل نہیں کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم طبقہ کو دائیں بازو عناصر اور ایجنسیوں کے جال میں پھانسنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ جناب عابد رسول خان نے حکومت کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کا مسودہ عوام میں جاری کئے بغیر ہی اس طرح کی رائے حاصل کرنے کوشش کو انتہائی بدبختانہ قرار دیا اور کہا کہ ایسا پہلا کبھی نہیں دیکھا گیا ۔ حکومت دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے یہ نہیں کہہ رہی ہے کہ ان کے حقوق میں کس طرح کی تبدیلی کی جائے گی۔ دیگر طبقات کا یہاں تذکرہ بھی نہیں کیا جارہا ہے ۔ ٹی وی پر مذاکرات اور مباحث میں وزراء ’’ ہندو غیر منقسمہ خاندان ‘‘ کے ٹیکس فوائد پر بات بھی نہیں کرتے  ‘ ان تمام اُمور کو دیکھتے ہوئے انہیں یہ اندیشہ ہورہا ہے کہ اس سوالنامہ کے پس پردہ خفیہ ایجنڈہ ہے ۔ جناب عابد رسول خان نے کہا کہ ہندوستان میں ہر 200مربع کلومیٹر کے بعد ایک نیا کلچر ‘ ایک نئی تہذیب دیکھنے میں آتی ہے ۔ اس لحاظ سے سوالنامہ میں کم از کم 500تا 600سوالات ہونے چاہیئے ۔ آخر صرف 16سوالات کے ذریعہ کیا ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بنیادی طور پر حکومت ایک ایسی پالیسی وضع کررہی ہے جس کے ذریعہ مسلمانوں کو مخالف قوم اور غیر محب وطن قرار دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آخر حکومت دستوری اور جمہوری اصولوں پر عمل کیوں نہیں کررہی ہے ۔ انہوں نے حکومت کے اس ردعمل پر شدید اعتراض کیا ۔ جناب عابد رسول خان نے لاء کمیشن سے سوالنامہ سے دستبرداری کی اپیل کی اور کہا کہ پہلے حکومت کو یکساں سیول کوڈ کا مسودہ پیش کرنا ہوگا ۔ اس کے بعد تمام طبقات کو خاطرخواہ وقت بھی دینا ہوگا ۔ اس سوالنامہ میں سکھ طبقہ ‘ اترپردیش میں کوڈاجو فرقہ کا ذکر نہیں ہے جن کے پاس ایک عورت کو پانچ شوہر رکھنے کی اجازت ہے ۔ ریاست کے کئی پہاڑی علاقوں اور دیہاتوں میں یہ عام رواج ہے ‘ اسی طرح ناگالینڈ میں بیوی کو ایک چھوٹا سا تحفہ دے کر تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس سارے معاملہ سے جس طرح نمٹ رہی ہے وہ صرف اترپردیش انتخابات کے پیش نظر سیاسی شعبدہ بازی ہے ‘ جس کے بعد اس موضوع کو فراموش کردیا جائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT