Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ، بیرون عدالت یکسوئی کی تجویز مسترد

بابری مسجد تنازعہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ، بیرون عدالت یکسوئی کی تجویز مسترد

LUCKNOW, APR 15 (UNI):- Maulana Wali Rahmani (G Sec AIMPLB) left to right, Maulana Rabe Hasani Nadvi, (president AIMPLB) and Maulana Dr. Kalbe Sadiq (Vice President AIMPLB) attend a All India Muslim personal Law board meeting tripple talaq issue at Darul Uloom Nadvatul Ulema (Nadva College) in Lucknow on Saturday. UNI PHOTO-128U

طلاق کے طریقہ کار پر رہنمایانہ ہدایات جاری ، شرعی وجوہات کے بغیر طلاق دینے والے کا سماجی بائیکاٹ ، شرعی قوانین میں تبدیلی ناقابل قبول ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں قراردادمنظور

لڑکیوں کو جہیز کے بجائے جائیداد میں ان کا حصہ دیں ، اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کے ازالہ کیلئے سوشیل میڈیا سے استفادہ

لکھنؤ ۔ /16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی مسئلہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کیلئے سپریم کورٹ کی تجویز آج مسترد کردی اور کہا کہ عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی وہ قابل قبول ہوگا ۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے بورڈ عاملہ کے دو روزہ اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے باہر معاملہ کی یکسوئی ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے ۔ بورڈ عاملہ نے قرارداد منظور کرتے ہوئے بابری مسجد کے مسئلہ پر کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ پرسنل لا بورڈ کیلئے قابل قبول ہوگا ۔ اس طرح یہ واضح کردیا گیا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سپریم کورٹ کی تجویز قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے /21 مارچ کو ایودھیا تنازعہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کی تجویز دی تھی اور کہا تھا کہ مذہب اور مذہبی جذبات سے تعلق رکھنے والے مسائل بات چیت کے ذریعہ بہتر طور پر حل کئے جاسکتے ہیں ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر نے اس معاملہ میں ثالثی کی پیشکش بھی کی تھی ۔ پرسنل لاء بورڈ نے طلاق ثلاثہ پر جاری تنازعہ کا بھی جائزہ لیا اور کہا کہ مسلمانوں کو اپنے پرسنل لاء پر عمل آوری کا دستوری حق حاصل ہے ۔ مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ بورڈ نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کے تحت اگر کوئی اسلامی قوانین کے مطابق طلاق نہ دیں تو اسے سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق جاری کیا جارہا ہے اور یہ واضح کیا جائے گا کہ اسلام میں طلاق کن وجوہات کی بنا دی جاسکتی ہے اور اس کا طریقہ کار کیا ہوگا ۔ غیر شرعی وجوہات کی بنا طلاق دی جائے تو ایسے شخص کو سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ پرسنل لاء بورڈ تمام ائمہ و خطیبوں سے یہ اپیل کرے گا کہ جمعہ کے خطبات میں اس ضابطہ اخلاق کو پڑھ کر سنائیں اور مسلمانوں کو اس پر عمل کی تلقین کریں ۔ بورڈ نے یہ واضح کیا ہے کہ شرعی قوانین میں کوئی بھی مداخلت  برداشت نہیں کی جائے گی ۔ مولانا ولی رحمانی نے کہا ہے کہ ملک میں مسلمانوں کی اکثریت مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی نہیں چاہتی ۔ مولانا ولی رحمانی نے بتایا ہے کہ بورڈ کی حالیہ دستخطی مہم کے دوران مردوخواتین دونوں نے کہا تھا کہ دستور ہند کی دفعات اپنے مذہب پر عمل آوری کی اجازت دیتی ہیں ۔ انہوں نے پُرزور انداز میں کہا کہ کوئی بھی مسائل پرسنل لاء کی عمل آوری کی کسوٹی پر حل کئے جائیں گے ۔ مرکزی حکومت نے گذشتہ سال 7اکٹوبر کو سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ ‘ نکاح حلالہ اور مسلمانوں میں کثرت ازدواج کی مخالفت کرتے ہوئے صنفی مساوات اور سیکولرازم کی بنیاد پر قوانین پر ازسرنو نظرثانی کی اپیل کی تھی ۔ وزارت قانون و انصاف نے اپنے حلفنامہ میں دستوری اصولوں جیسے صنفی مساوات ‘ سیکولرازم ‘ بین الاقوامی قوانین‘ مذہبی عوامل اور مختلف اسلامی ممالک میں جاری ازدواجی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج کو عدالتی دائرہ کار میں لانے کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔ سپریم کورٹ سے خواہش کی تھی کہ ان قوانین پر ازسرنو غور کیا جائے  ۔ مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ بورڈ ان خواتین کی مدد کرے گا جنہیں طلاق کے بیجا استعمال کا سامنا کرنا پڑا ہو یا جن کے ساتھ نا انصافی کی گئی ہو ۔ بورڈ کی شعبہ خواتین کی سربراہ اسماء جہاں آراء نے کہا کہ مسلم خواتین میں طلاق کا مسئلہ مذہبی نہیں بلکہ سماجی ہے ۔ ایسے حالات میں مسلم قوانین کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے پرسنل لاء بورڈ کی دستخطی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 5.81 کروڑ افراد بشمول 2.71 کروڑ خواتین نے شرعی قوانین میں تبدیلی کے خلاف رائے دی ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر کافی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ۔ بورڈ نے ایک اور اہم سفارش منظور کرتے ہوئے کہا کہ جہیز کی بجائے مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو جائیداد میں ان کا حق دیں ۔ بورڈ نے اسلام اور شریعت کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے سوشیل میڈیا سے بھی موثر استفادہ کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستانی دستور میں ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی فراہم کی گئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT