Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / ’ مسلمانوں کو ہراسانی کاسلسلہ بند کیا جائے‘:ٹرمپ

’ مسلمانوں کو ہراسانی کاسلسلہ بند کیا جائے‘:ٹرمپ

’’مجھ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ، میں امریکہ کو دوبارہ متحد و متحرک بنانا چاہتا ہوں‘‘
واشنگٹن ۔ 14 نومبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی فتح کے بعد ملک میں مسلمانوں ، افریقی امریکیوں اور لاطینیوں کو ہراساں کئے جانے کی اطلاعات پر غمزدہ ہوکر پہلی مرتبہ عوام سے برسرعام کہا ہے کہ یہ (ہراسانی کا سلسلہ ) بند کیا جائے ۔ ٹرمپ نے سی بی ایس کے ’60 منٹ‘ پروگرام میں گزشتہ روز کہا کہ ’’یہ اطلاعات سن کر مجھے بیحد افسوس ہوا ۔ اور میں نے فوری کہا کہ ’’یہ بند کرو ‘‘۔ اگر میرے ایسا کہنے سے مدد مل سکتی ہے تو میں نے ایسا کہا ہے ۔نیز میں کیمروں کے روبرو پھر یہی کہوں گا کہ ’’یہ (ہرسانی) بند کرو‘‘۔ ڈونالڈ ٹرمپ حالیہ دنوں کے دوران امریکی مسلمانوں ، ہسپانوی ، سیاہ فام ، دیگر نسلی اقلیتوں کے علاوہ زنخوں اور ہم جنس پرستوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملوں کی لہر کے بارے میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے ۔ ٹرمپ سے دریافت کیا گیا تھا کہ آپ اس مسئلہ پر کچھ کہیں گے ؟ ۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’’میں یہی کہوں گا کہ ایسا نہ کیا جائے ۔ یہ انتہائی ہولناک اور میں اس ملک کو متحد کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ امریکہ کے منتخب صدر نے کہاکہ سماج کے چند طبقات ان سے خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ (طبقات) اُنھیں (ٹرمپ کو) نہیں جانتے ۔ انھوں نے ان طبقات کے افراد سے کہا کہ وہ ان سے خوفزدہ نہ ہوں۔ ٹرمپ سے پوچھا گیا تھاکہ ’’آپ کے خلاف ان کے مظاہروں کو آپ کیا سمجھتے ہیں؟ ‘‘۔ انھوں نے جواب دیا کہ ’’یہ اس لئے ہورہا ہے کہ وہ مجھے نہیں جانتے‘‘ ۔ انھوں نے وکی لیکس میں دیئے گئے چند سوالوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے خیال میں ایسا بھی ہے کہ بعض صورتوں میں پیشہ ور احتجاجی بھی شامل ہیں‘‘ ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم اپنے ملک کو دوبارہ متحد فعال اور متحرک بنانے جارہے ہیں لیکن یقینا کسی کو بھی خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے ۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم انتخابی مرحلہ سے گذرے ہیں۔ آپ کو بھی کچھ وقت دیا جانا چاہئے ۔ میرا مطلب ہے کہ عوام احتجاج کررہے ہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اگر ہلاری جیت جاتیں اور میرے لوگ باہر نکل آتے اور احتجاج کرتے تو ہر کوئی کہتا کہ یہ بڑی ہولناک بات ہے ۔ اور اس سے بھی کہیں زیادہ مختلف رویہ ہوسکتا تھا ۔ اس کا جداگانہ رویہ ہوتا آپ کو جان لینا چاہئے کہ یہاں دوغلا معیار ہے ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT