Wednesday , August 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے قانون سازی ضروری

مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے قانون سازی ضروری

سدھیر کمیشن کی سفارشات کا انتظار وقت کا ضیاع، نظام آباد میں مولانا حامد محمد خاں صدر جماعت اسلامی کا بیان

نظام آباد:11؍ اکتوبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند تلنگانہ و اڑیسہ مولانا حامد محمد خان نے آج یہاں نالج پارک انٹرنیشنل اسکول گرائونڈ نظام آباد پر پریس کانفرنس کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کسان اناج پیدا کرتا ہے اور اس کو اننا داتا کہا گیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ آئے دن کسان خودکشیاں کررہے ہیں اس کیلئے حکومت سنجیدہ کوششیں کرے جماعت اسلامی ہند یہ مطالبہ کرتی ہے کہ کسانوں کو بلاسودی قرض فراہم کیا جائے اور قرض کی عام معافی کا اعلان کیا جائے جس طرح ایمرجنسی میں کیا گیا۔ واضح رہے کہ بہت سے کسان سودی لعنت شراب کی لعنت اور اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت نہ کرنے کے نتیجہ میں خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ریاست تلنگانہ میں شراب ، تاڑی، الکحل، نشہ آور اشیاء، وہسکی، گٹکھا،تمباکو وغیرہ پر سختی کے ساتھ پابندی عائد کی جائے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کو کارپوریٹ اداروں کی طرح ترقی دی جائے اور جو کارپوریٹ تعلیمی ادارے ہیں انہیں فوری بند کردیا جائے۔ سرکاری دواخانوں کو کارپوریٹ دواخانوں کی طرح ترقی دی جائے۔ سوامی ناتھن کمیشن کے رپورٹ و سفارشات کو زرعی شعبہ میں نافذ کیا جائے۔ امیر حلقہ نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کے سلسلہ میں سدھیر کمیٹی کے ذریعہ تاخیر کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ سدھیر کمیٹی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں پائی جاتی۔ جبکہ جسٹس سچر کمیٹی کی سفارشات اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات موجود ہیں۔ جسٹس رنگناتھ مشرا نے تو بڑی وضاحت کے ساتھ اپنی سفارش میں کہا کہ ضرورت پڑنے پر دستور میں ترمیم کرتے ہوئے مسلمانوں کو تعلیم روزگار اور دیگر شعبہ جات میں تحفظات فراہم کئے جائیں۔ اتنے واضح سفارشات کے باوجود سدھیر کمیٹی کی سفارشات کا انتظار کرتے ہوئے وقت کو ضائع کرنے سے حکومت کی نیت پر شکوک و شبہات کے بادل چھارہے ہیں۔ سنہرے تلنگانہ سے مراد شراب سے پاک تلنگانہ اور انکائونٹرس سے پاک تلنگانہ ہے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد پانچ مسلم زیر حراست قیدیوں کو آلیر کے قریب قتل کرنا ایس آئی ٹی کے قیام کے ذریعہ حکومت کا اپنا ذمہ داریوں سے پہلو تہی کرنا یہ انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ اسی طرح ورنگل میں نکسلائٹس کا انکائونٹر کیا گیا جبکہ تلنگانہ تحریک کے دورمیں خود ریاستی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تھا کہ اب انکائونٹر نہیں ہوں گے۔ دھرنے نہیں ہوں گے لیکن ہر طرف بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس کا نوٹ لینا حکومت کیلئے نہایت ہی ضروری ہے۔ اسی طرح اوقافی جائیدادوں پر قبضوں کی انکوائری کروانے کیلئے سی بی آئی انکوائری کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ وقف کارپوریشن کا قیام، وقف ٹریبونل کی تشکیل اور وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دینے کا وعدہ ابھی تک پورا نہ ہوسکا۔ مائناریٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ میں بھی اسٹاف برائے نام پایاجاتا ہیکہ کم از کم 350 تعداد کے عملے کی ضرورت ہے۔ پریس کانفرنس میں احمد عبدالعظیم، محمد ریاض الدین، عبدالعزیزسکریٹری خدمت خلق ، عابد حسین فاروقی، انور خان صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیا نظام آباد ، شیخ حسین و دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT