Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ ، پارلیمنٹ اجلاس میں مسئلہ کو اٹھانے کا عزم

مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کیلئے مرکزی حکومت کو مکتوب روانہ ، پارلیمنٹ اجلاس میں مسئلہ کو اٹھانے کا عزم

ٹی آر ایس پارٹی کے سنجیدہ اقدامات ، نظام آباد میں مسلمانوں کا اجلاس ، رکن پارلیمنٹ کے کویتا اور دیگر کا خطاب
نظام آباد:25؍ نومبر (سیاست نیوز ) رکن پارلیمنٹ نظام آباد شریمتی کے کویتا نے کل شام پرگتی بھون میں نظام آباد پارلیمانی حلقہ کے مسلمانوں کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل کا جائزہ لیا۔ اس اجلاس میں جماعت اسلامی، اہلسنت و الجماعت، جمعیت اہلحدیث،جمعیت العلماء کے علاوہ سینئر سٹیزنس ، ٹیچر تنظیم پی آرٹی یو، و دیگر سیاسی جماعتوں سے وابستہ قائدین کے علاوہ ٹی آرایس قائدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام افراد نے متفقہ طور پر رائے پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو فوری  12 فیصد تحفظات فراہم کریں تو بہتر ہوگا۔ اس پر رکن پارلیمنٹ شریمتی کے کویتا نے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے پر ٹی آرایس حکومت پابند عہد ہے اور اس کیلئے مرکزی حکومت کو تحفظات کی فراہمی کیلئے مکتوب روانہ کیا ہے اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں اس مسئلہ پر آواز اٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ مسلمانوں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے حل کیلئے یہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ کے سی آر نے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے انتخابی منشور میںشامل کرنے سے قبل پارٹی کے اجلاس میں اس پر جائزہ لیااور یہ اس پر سنجیدہ اقدامات کرنے کیلئے کوشاں ہے۔مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ایس ٹی طبقات کو بھی 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے جملہ 72 فیصد تحفظات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔کرناٹک طرز پر تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔ مسلمانوں کے مسائل کا بنیادی طور پر جائزہ لیتے ہوئے اس کے حل کیلئے کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے سے قبل اقلیتوں کو علیحدہ طور پر اقامتی مدارس کے قیام عمل میں لایا ہے تاکہ مسلمان لڑکیوں کو سہولت فراہم کرسکے، حکومت کے پاس 800 کروڑ روپئے کا غیراستعمال شدہ بجٹ ہے اور اس بجٹ کے ذریعہ، عیدگاہوں، مساجد و دیگر بنیادی سہولتوں کو فراہم کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمود علی سے رائے کے بعد اس مسئلہ کو حل کرنے کا اُردو ڈی ایس سی علیحدہ طور پر انعقاد کیلئے بھی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ حکومت کو ورثے میں مسائل کے انبار ہیں اس کے حل کیلئے سلسلہ وار کوشش کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ میناریٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ و دیگر اقلیتی اداروں کو علیحدہ طور پر قیام کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ضلع کلکٹر سے بات چیت کے بعد میناریٹی ویلفیر آفس علیحدہ بلڈنگ قائم کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو مسلمانوں کو ہر طرح کی امداد کرنے کیلئے کوشاں ہے اور اس خصوص میں سنجیدہ طور پر اقدامات کئے جارہے ہیں اور آئندہ آنے والے دنوں میں اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ اس موقع پر جمعیت العلماء کے صدر حافظ لئیق خان نے 12 فیصد تحفظات کے فراہم کے علاوہ ایرگٹلا کے متاثرین کی امداد، مرحوم شیخ حیدر ناگارام کے ورثاء کو مکان کی تعمیر، امام و موذنین کو انتخابات کے موقع پر کئے گئے اعلان کے تحت ڈبل بیڈ روم مکان کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ احمدعبدالعظیم جماعت اسلامی نے کہا کہ 12 فیصد تحفظات کے قیام کیلئے سچر کمیٹی کی رپورٹ کافی ہے۔ 12 فیصدتحفظات نہ صرف ملازمتوں میں بلکہ سیاسی طور پر بھی فراہم کرنے، اُردو ڈی ایس سی اور نظام آباد میں یونانی میڈیکل کالج کا قیام اور موجودہ یونانی دواخانہ میں تمام سہولتیں فراہم کرنے اُردو میڈیم ڈگری کالج کے قیام، حج ہائوز کے قیام کا مطالبہ کیا۔

سنی جماعت کے صدر مولانا کریم الدین کمال نے انتخابات کے موقع پر کئے گئے اعلان کے تحت 12 فیصد تحفظات  کے وعدہ کو پورا کرنے، مدینہ عیدگاہ کو 25لاکھ روپئے فراہم کرنے، امام کو 8 ہزار روپئے اور موذنین کو وقف بورڈ کے ذریعہ 5 ہزار روپئے تنخواہ فراہم کرنے اور نظام آباد شہر کیلئے 25 ایکر اراضی قبرستان کیلئے مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ اہلحدیث کے وجہہ اللہ نے بھی 12فیصد تحفظات کے علاوہ عیدگاہوں کی حصاربندی اور دیگر مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ پی آرٹی یو کے سکریٹری خواجہ معین الدین نے رکن پارلیمنٹ کے کویتا کو واقف کراتے ہوئے کہا کہ اُردو ڈی ایس سی کے ذریعہ فوری اساتذہ کی بھرتی عمل میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نظام آباد ضلع میں 25 ہزار طلبہ اُردو میڈیم میں زیر تعلیم ہے اور جملہ 500 سے بھی زائد اساتذہ کی جائیدادیں مخلوعہ ہے۔ روسٹر سسٹم کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصانات ثابت ہورہے ہیں لہذا روسٹر سسٹم کو برخواست کرنے کا مطالبہ کیا۔ شہزاد رضا نے تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے امتحانات میں اُردو میں پرچہ جات فراہم کرتے ہوئے اُردو میں امتحان تحریر کرنے کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ عابد فاروقی بودھن نے نظام شوگر فیکٹری کو فوری حکومت کی تحویل میں لینے اور مدرسہ انوار العلوم رئیس پیٹھ کو اراضی فراہم کرنے ،12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سینئر سٹیزنس ویلفیر سوسائٹی کے صدر ایم اے شکور نے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی اور سینئر سٹیزنس کو اراضی مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ کریم نگر جماعت اسلامی کے صدر کورٹلہ حلقہ سے تعلق رکھنے والے نعیم الدین نے 12 فیصد تحفظات کیلئے پارلیمنٹ میں مسئلہ کو اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ شیخ فیروز نظام آباد ایل ایل بی کے طالب علم نے رکن پارلیمنٹ کے کویتا کو تفصیلی طور پر واقف کراتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم نہ ہونے کی صورت میں سیول سرویس میں نقصانات ہورہے ہیں اور آزادی کے بعد سے اب تک مسلمانوں کو کسی قسم کی سہولتیں فراہم نہیں کی گئی جبکہ ایس سی، ایس ٹی طبقات سے بھی انتہائی ابتر صورتحال میں مسلمان ہیں اور اسکالرشپ کی فراہمی کیلئے ٹول فری نمبر قائم کرنے اور مسلمانوں کو ایس سی کی طرح سب پلان قائم کرنے اور مغرب بنگال حکومت کی طرح غیر استعمال شدہ بجٹ سے یونیورسٹی قائم کرنے اور اسٹیڈ ی سرکل کا قیام عمل میں لاتے ہوئے تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے اور آبادی کے تناسب سے اسٹیڈی کا قائم عمل میں لانے اور حکومت کی پالیسیز سے مسلمان واقف نہ ہونے کی وجہ سے پالیسی سے متعلق اطلاع مسجدوں کے اماموں کے ذریعہ اعلانات کرانے کی خواہش کی ۔ اس موقع پر صدر ضلع اقلیتی سیل ٹی آرایس نوید اقبال نے کہا کہ حکومت تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر سنجیدہ اقدامات کررہی ہے اور بی سی کمیشن کے قیام کیلئے سدھیر کمیٹی کی رپورٹ حاصل کی جائے گی اور محترمہ کویتا اس خصوص میں اقدامات کرتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل کو بنیادی طور پر جائزہ لینے کیلئے ہی یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے اس سے قبل کسی نے بھی اس طرح کے اجلاسوں کو منعقد نہیں کیا تھا ۔ اس اجلاس کی کارروائی ٹی آرایس کے قائد ایس اے علیم نے چلائی ۔ جلسہ کا آغاز قرأت کلام پاک سے شروع کیا گیا ۔ اس اجلاس میں ڈی سی ایم ایس کے چیرمین ایم کے مجیب الدین ، ٹی آرایس قائدین طارق انصاری ، صدر ٹائون اقلیتی سیل ٹی آرایس عمران شہزاد، حلیم قمر، یٰسین صابری ، اختر احمد ، عمر ستار، شیخ علی صابری ، محمد رفیع، مجاہد علی ببو کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔ اس اجلاس میں نظام آبادپارلیمانی حلقہ سے تعلق رکھنے والے جگتیال اور کورٹلہ کے علاوہ بانسواڑہ ، بودھن ، آرمور، نظام آباد ، نظام آباد رورل حلقہ سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے کویتا سے نمائندگی کی اور اس پر سنجیدہ اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں کثیر تعداد میں تمام مکتوب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور سارے شرکاء نے 12 فیصد تحفظات کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔

TOPPOPULARRECENT