Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات: ’’ حکومت زاہد علی خاں صاحب اور عامر علی خاں کو مایوس نہیں کرے گی‘‘

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات: ’’ حکومت زاہد علی خاں صاحب اور عامر علی خاں کو مایوس نہیں کرے گی‘‘

کے سی آر وعدہ کرکے مکر جانے والے شخص نہیں ، مسلم تحفظات کیلئے سیاست کی مہم پر کے ٹی آر کا ردعمل
حیدرآباد ۔ /12 جنوری (نمائندہ خصوصی) اپنے مفادات پر ملی مفادات کو ترجیح دی جائے ۔ ملت کی ترقی و خوشحالی کیلئے دیانتدارانہ کوشش کی جائے اور خلوص نیت کے ساتھ مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے اقدامات کئے جائیں تو حکومتیں اور حکمراں خود آپ سے رجوع ہوکر اس بات کا وعدہ کریں گے کہ بھائی مسلمانوں کیلئے آپ جو بھی مطالبہ کریں گے اسے پورا کیا جائے گا اور ہمارے (حکومت) کے اقدام سے آپ کو مایوسی نہیں ہوگی ۔ ایسا ہی کچھ فی الوقت سیاست کی جانب سے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے چلائی جارہی تحریک کے ساتھ ہورہا ہے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست ریاست کے گاؤں گاؤں پہنچ کر مسلمانوں میں 12 فیصد تحفظات کے تعلق سے نہ صرف شعور پیدا کررہے ہیں بلکہ بار بار کے سی آر حکومت کو اس کا وعدہ بھی یاد دلارہے ہیں ۔ اس تحریک کا اثر حکومت پر بھی ہورہا ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے فرزند اور ریاستی وزیر پنچایت راج و انفارمیشن ٹکنالوجی نے آج مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کی جانب سے چلائی جارہی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بے شک کے سی آر نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تحریک اور پھر اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اقتدار پر فائز ہونے کے بعد مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے ۔ کے سی آر اپنے وعدے پر قائم ہیں ۔ کے سی آر ایسے شخص ہیں جو ایک مرتبہ وعدہ کرتے ہیں تو پھر اپنے وعدہ سے نہیں مکرتے ، ریاست میں مسلمانوں کو ہرحال میں 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے ۔ اس سلسلہ میں زاہد علی خاں صاحب اور عامر علی خاںصاحب کو ’’مایوسی نہیں ہوگی اور ایک دن ایسا آئے گا جب اخبار سیاست میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں کے شعبوں میں 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جانے کی خبر سیاست میں شائع ہوگی ‘‘ ۔ کے ٹی آر تلنگانہ اسٹیٹ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس (TUWJ) اور حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام پریس کلب بشیر باغ میں منعقدہ میٹ دی پریس پروگرام میں حصہ لے رہے تھے ۔ سارا پریس کلب صحافیوں سے کھچاکھچ بھرگیا تھا ۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں کی کثیر تعداد کی موجودگی میں کہا کہ مسلم بھائیوں کو 12 فیصد تحفظات ضرور فراہم کئے جائیں گے ۔ حکومت کو جی سدھیر کمیٹی کی سفارشات کا انتظار ہے جو ریاست کے تمام اضلاع میں مسلمانوں کی تعلیمی معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لے رہی ہے ۔ سدھیر کمیٹی کی سفارشات موصول ہوتے ہی حکومت مسلم تحفظات کیلئے ٹھوس اقدامات کرے گی ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ ہونے والے تقررات اور ملازمتوں پر بھرتیوں کے عمل میں بھی مسلمانوں کو موجودہ 4 فیصد تحفظات پر عمل کیا جائے گا ۔ ایک سوال کے جواب میں کے ٹی آر نے کہا کہ شیڈول کے مطابق 2017 ء کے ختم تک شہر میں میٹرو ٹرین کا آغاز ہوجائے گا اور جہاں تک پرانے شہر کے بعض علاقوں تک میٹرو ٹرین کی خدمات کو وسعت دینے کا سوال ہے ۔ عوام کے اس مطالبہ پر ضرور غور ہوگا ۔ میٹ دی پریس میں کمشنر آئی اینڈ پی آر مسٹر نوین متل اور یونین کے دیگر قائدین بھی موجود تھے ۔ کے ٹی آر نے حیدرآباد کو گنگا جمنی تہذیب کی بہترین مثال قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہ انہیں عظیم  شہر کو بابائے دستور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے ملک کا دوسرا دارالحکومت بنانے کا مشورہ دیا تھا ۔ ٹی آر ایس حکومت حیدرآباد کو ایک صاف ستھرا ، محفوظ ، سرسبز و شاداب اور اسمارٹ شہر بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھے گی ۔ انہوں نے 18 ماہ کے دوران ٹی آر ایس حکومت کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کے سی آر کی قیادت میں ریاست نے زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے شہر کے غریبوں کے برقی اور آبرسانی بلز (بقایہ بلز) معاف کردیئے ہیں یہ کوئی انتخابی حربہ نہیں ہے بلکہ ہندوستان جیسے ملک میں بعض مرتبہ غریبوں کو اس طرح کی رعایتیں دینی ضروری ہیں ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے سیاست کی شروع کردہ تحریک ریاست کے چپہ چپہ میں پہنچ گئی ہے ۔ اس تحریک کے روح رواں نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کے مطابق اگر ریاست میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جاتے ہیں تو اس سے کم از کم 20 ہزار مسلمانوں کو سرکاری ملازمتیں حاصل ہوں گی ۔ 30 ہزار سے زائد مسلم طلبہ پیشہ وارانہ کالجس میں سرکاری فیس پر تعلیم حاصل کرسکیں گے ۔ یہ تحفظات مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی دور کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ ان سے مسلمانوں کی حالت میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی ، اس سلسلے میں  حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو مسلمانوں کیلئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کوئی بڑی بات نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT