Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی میں حکومت کی عدم دلچسپی

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہمی میں حکومت کی عدم دلچسپی

سدھیر کمیٹی کی خدمات پر حکومت کی لاپرواہی ، محمد علی شبیر کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے سدھیر کمیشن آف انکوائری کو حکومت کی جانب سے نظرانداز کئے جانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تحفظات کی فراہمی کیلئے قائم کردہ اس کمیشن کے ساتھ حکومت کے سلوک کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت کو مسلم تحفظات کی فراہمی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اس نے صرف وقت گذاری کیلئے کمیشن قائم کردیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کمیشن کے ذمہ داروں کو تنخواہوں کی عدم اجرائی اور بنیادی سہولتوں سے محرومی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ سینئر آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر جو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں حکومت ان کی خدمات کو نظرانداز کررہی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی اور تنخواہ کی عدم اجرائی کے باوجود کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے شکایت نہیں کی۔ اس سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے برخلاف اس کے حکومت کا رویہ قابل مذمت ہے جس نے کمیشن کو انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور اسٹاف جیسی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی۔ کمیشن کے قیام کو آٹھ ماہ گذر گئے لیکن آج تک بنیادی سہولتیں فراہم نہ کرنا تحفظات کے سلسلہ میں حکومت کی غیرسنجیدگی کا ثبوت ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ نے جس طرح انتخابات سے قبل ووٹ حاصل کرنے کیلئے کئی ایک وعدے کئے تھے اسی طرح مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا وعدہ برفدان کی نذر کردیا گیا ہے۔ اب جبکہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات قریب ہیں شہر کے رائے دہندوں کو خوش کرنے کیلئے مختلف اسکیمات کا جنگی خطوط پر سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے۔ حکومت نے آج تک یہ وضاحت نہیں کی کہ شہر میں جن اسکیمات کا سنگ بنیاد رکھا گیا ان کیلئے کتنا بجٹ مختص کیا گیا۔ قائد اپوزیشن نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ کو محض انتخابی حربہ قرار دیا اور کہا کہ کمیشن آف انکوائری کو نظرانداز کرنا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت خود بھی اس معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ جلد سے جلد کمیشن کو بجٹ جاری کرے اور تمام سہولتیں فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو کمیشن کو آئندہ مارچ تک رپورٹ پیش کرنے میں دشواری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی سفارش سے متعلق ادارہ کے ذمہ داروں کے ساتھ حکومت کا یہ سلوک ہے تو پھر اقلیتی بہبود میں حکومت کس طرح سنجیدہ ہوگی اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس مسئلہ پر چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT