Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات پر ٹی آر ایس کی سنجیدگی کا عنقریب اندازہ

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات پر ٹی آر ایس کی سنجیدگی کا عنقریب اندازہ

27 اپریل کو برسر اقتدار پارٹی کا پلینری سیشن ، قرار داد کمیٹی میں ایک مسلم قائد کی بھی شمولیت
حیدرآباد۔/8اپریل ، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی میں ٹی آر ایس کی سنجیدگی کا اندازہ 27اپریل کو پارٹی کے پلینری سیشن میں ہوجائے گا۔ ٹی آر ایس نے پلینری سیشن میں قراردادوں کی پیشکشی کیلئے تیاری کمیٹی تشکیل دی ہے جس کے سربراہ سکریٹری جنرل ٹی آر ایس و رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشوراؤ ہیں۔ قراردادوں کی تیاری سے متعلق اس کمیٹی میں ایک مسلمان کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ٹی آر ایس کے قائد فرید الدین کو اس کمیٹی میں جگہ دی گئی لہذا ان کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انہیں 12فیصد مسلم تحفظات کے حق میں قرارداد کی پیشکشی کو یقینی بنانا ہوگا۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس نے انتخابات سے قبل وعدہ کیا تھا کہ اقتدار کے چار ماہ بعد مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے لیکن حکومت کے 22ماہ گذرنے کے باوجود آج تک وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ حکومت نے مسلمانوں کی صورتحال کا جامع سروے کرنے کیلئے سدھیر کمیشن آف انکوائری قائم کیا جس کی میعاد میں تیسری مرتبہ توسیع کی گئی۔ اب جبکہ 27اپریل کو کھمم میں پلینری سیشن منعقد ہوگا ٹی آر ایس کو مسلم تحفظات کے بارے میں اپنے موقف کی وضاحت کرنی ہوگی۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائدین بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ پلینری میں تحفظات کے حق میں قرارداد منظور کی جائے۔ بعض اقلیتی قائدین اس سلسلہ میں قرارداد تیاری کمیٹی سے نمائندگی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو مسلم ارکان مقننہ پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تحفظات کے حق میں قرارداد کو یقینی بنائیں۔ پلینری سے قبل 18اپریل کو سپریم کورٹ میں تحفظات مقدمہ کی سماعت مقرر ہے۔ تلنگانہ حکومت کو تحفظات کے حق میں ماہر وکلاء کے ذریعہ حلف نامہ پیش کرنا ہوگا۔ موجودہ ایڈوکیٹ جنرل رام کرشنا ریڈی پر انحصار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ سابق میں تحفظات کے خلاف مقدمہ میں اہم فریق رہ چکے ہیں اور سپریم کورٹ میں موجودہ مقدمہ میں بھی ان کا نام ابھی بھی مخالف تحفظات وکیل کی حیثیت سے آن ریکارڈ برقرار ہے۔ الغرض جاریہ ماہ مسلم تحفظات کے مسئلہ پر دو مواقع پر ٹی آر ایس کی سنجیدگی کا امتحان ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT