Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا چیف منسٹر کا وعدہ، عمل کرنا بھی کے سی آر کا کام

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا چیف منسٹر کا وعدہ، عمل کرنا بھی کے سی آر کا کام

تلنگانہ میں مسلمانوں کے سماجی و اقتصادی موقف پر مباحثہ ،جناب ظہیرالدین علی خان ، یوگیندر یادو، کودنڈارام و دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔16جنوری(سیاست نیوز) کوئی بھی سیاسی جماعت مسلمانوں سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کے لئے سنجیدگی کے ساتھ کام نہیں کرتی ‘ مسلمانوں کو ورغلانہ اور ووٹ حاصل کرنے سیاسی قائدین کی پرانی عادت ہے ‘ وزیراعظم نریندر مودی ہی نہیں بلکہ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر اور تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے عوام سے ہی جھوٹ بولتے ہیں۔تلنگانہ میں مسلمانوں کی حالت زار سے واقفیت حاصل کرنے کے لئے کسی کمیٹی یا کمیشن کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ چا رلاکھ سے زائد مسلمانوں بیرونی ممالک میں چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئے مجبور ہیں اگر انہیں ریاست میںموقع فراہم کیاجاتا تو کیاوہ بیرونی ملک جاکر خدمات انجام دیتے ۔مذکورہ مسلمان اپنے خاندان سے دو رہ کر بھی ریاست کی معیشت کو مضبوط کررہے ہیںاور حکومت مسلمانوں کے ساتھ سیاسی دائو پیچ کھیل رہی ہے۔آج یہاں مدینہ ایجوکیشن سنٹر میں تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام منعقدہ مباحثہ بعنوان ‘ ریاست تلنگانہ میںمسلمانوں کی سماجی اور اقتصادی موقف ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خان نے یہ بات کہی۔سواراج ابھیان کے قومی صدر یوگیندر یادو کے علاوہ چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈارام ‘ صدر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ واڑیسہ مولانا حامد محمد خان ‘صدر مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس خواجہ معین الدین‘پروفیسر محمد غوث عثمانیہ یونیورسٹی‘ قومی کنونیر سواراج ابھیان عادل محمد‘ کے علاوہ دیگر نے حصہ لیا۔ معاون کنونیر ٹی جے اے سی پرشتم ریڈی نے مباحثہ کی کاروائی چلائی ۔ اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب ظہیرالدین علی خان نے کہاکہ جب کبھی مسلم تحفظات کی بات ہوتی ہے اور اس مسلئے کو اجاگر کرنے کی کوششیں کی جاتی ہے تو حکمران طبقہ دیگر پسماندہ طبقات کو مسلمانو ںکے مد مقابل کھڑا کردیتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ایس سی کو ایس ٹی کے خلاف ایس ٹی کو بی سی کے خلاف کھڑا کرتے ہوئے حکمران طبقے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کرلیتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سیاست میںاقتدار عارضی رہتا ہے اگر کوئی سونچ رہا ہے کہ میرے بعد میرا بیٹا اور پھر اس کے بعد میرا پوترا چیف منسٹر بنے گاتویہ ایک گمان ہے کیونکہ عوامی انقلاب کے سامنے تمام گمان اور توقعات ناکام ہوجاتے ہیں۔جناب ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ تلنگانہ میںمسلمانو ںکے ساتھ دیگر طبقات کی پسماندگی کو دور کرنے کی ذمہ دار ی حکومتوں پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ 99فیصد پسماندہ طبقات پر ایک فیصد آبادی کاتناسب رکھنے والے اعلی ذات سے تعلق رکھنے والے حکمران طبقے پر یہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ پسماندہ طبقات کے ساتھ کئے گئے اپنے وعدوں کی تکمیل کے لئے سنجیدگی کے ساتھ غور کرے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت تلنگانہ مسلم تحفظات کے ضمن میںسنجیدگی کے ساتھ کام کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ کئے گئے وعدے کی تکمیل کرے اور مسلمانوں کو کسی بہانے بازی کے بغیر بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔یوگیندر یادو نے کہاکہ جو حکمران اُردو زبان میںشعر وشاعری کرتے ہوئے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ایسے حکمرانوں سے ہی مسلمانوں کا اب تک نقصان ہوا ہے ۔انہوں نے کہاکہ تحفظات کے مسلئے کو آگے لے جاکر اگر سدھیر کمیٹی کے سفارشات کو نظر انداز کیاجائے گاتو مسلمانوں کو اور بھی نقصانات کاسامنا کرناپڑیگا۔ یوگیندر یادو نے کہاکہ سدھیر کمیٹی کے چند سفارشات ایسے ہیں جس پر فی الفور عمل کیاجاسکتا ہے اور یہ حکومت کے اختیارات میں ہے ۔انہوں نے کہاکہ نو سے بارہ فیصد تحفظات کا جہاں تک مسئلہ ہے حکومت نے تلنگانہ کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے سواء کچھ نہیںکیاہے ۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے ٹاملناڈو میں پچاس فیصد سے زائد تحفظات پر سنوائی کررہا ہے ایسے میں تلنگانہ میںبھی مسلمانوں کو نو سے بارہ فیصد تحفظات فراہمی کے لئے ایوان اسمبلی میںقرارداد کی منظوری کے بعد مرکزی حکومت کو قرارداد روانہ کی جائے گی تو امید نہیں ہے کہ آنے والے تین سالوں تک بھی مرکزی حکومت مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کی حمایت کریگی۔یوگیندر یادو نے کہاکہ مرکزی حکومت ہر گز نہیںچاہتی کہ مسلمانوں کوتحفظات فراہم کئے جائیں اور تلنگانہ حکومت اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی کوشش کررہی ہے ۔تحفظات کے مسلئے کو زیر بحث لانے اور یقینی بنانے کے علاوہ بھی سدھیر کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہاکہ مساویانہ حقوق کمیٹی کی تشکیل عمل میںلائے اور یہ کام حکومت کے اختیار میںہے ۔ انہوںنے کہاکہ اس قسم کی کمیٹی سے ایسے تعلیمی ادارے جو مسلما نوں میں تعلیم کوعام کرنے کی غرض سے قائم کئے گئے ہیںان کی جوابدہی لازمی ہوجاتی ہے ۔ یوگیندر یادو نے کہاکہ مذکورہ کمیٹی کے قیام کا مطلب اگر کوئی تعلیمی ادارے مسلمانوں کی تعلیمی حالات میںسدھار لانے میںکامیاب رہا ہے تو اس کی مجوزہ گرانڈ میںاضافہ کیاجاسکتا ہے اور اس پر عائد ذمہ داری میںوہ ناکام رہے گاتو یقینی طور پر اس تعلیمی ادارے کی گرانڈ میں کمی کردی جائے گی اور اس کو بلیک لسٹ بھی کیاجاسکتا ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ ایسا کرنے سے تعلیمی اداروں میں جوابدہی کا خوف پیدا ہوگا اور وہ مسلمانوں کی تعلیم پر توجہہ دیں گے۔انہوں نے مسلمانوں کی فلاح وبہبود میں حکومت تلنگانہ کی سنجیدگی کا انحصار سدھیر کمیٹی کی سفارشات پر عمل سے ہوگا۔پروفیسرکودنڈارام نے کہاکہ تلنگانہ میںمسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کا اور چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو نے کیاہے اور اس پر عمل آواری کی بھی ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی۔کودنڈارام نے مزیدکہاکہ مسلمانوں نے کبھی نہیںکہاکہ وہ دیگر پسماندہ طبقات کو دئے گئے تحفظات میںکمی کے ذریعہ مسلمانوں کو تحفظات فراہم کریں بلکہ مسلمانوں نے ہر وقت یہی بات دہرائی ہے کہ بی سی طبقے کے تحفظات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے بغیرتلنگانہ میںمسلمانوں کو تحفظات فراہم کئے جائیں۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی بھی تلنگانہ تحریک کے دوران ہی مسلم تحفظات کی حمایت کی تھی۔ تلنگانہ تحریک کاکوئی ایسا پروگرام نہیں ہے جس میں ریاست کے مسلمانوں نے آگے بڑ ھ کر حصہ نہ لیا ہو۔ کودنڈارا م نے کہاکہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کسی کی مخالفت میں یہ مباحثہ منعقد نہیں کیا ہے بلکہ ریاست تلنگانہ میںمسلمانو ںکی حالت زارکے متعلق حکومت کو واقف کروانا اور مسلم تحفظات کو یقینی بنانے کے لئے حکومت پر دبائو کی حکمت عملی کا یہ ایک حصہ ہے۔ پروفیسرکودنڈارام نے مزیدکہاکہ مباحثہ میںپیش کردہ تجاویز او رمشوروںکو دستاویزی شکل دیکر ہم اس کو آگے لے جانے کی حکمت عملی بھی تیار کریں گے ۔ عنقریب جے اے سی اسٹرینگ کمیٹی کا ایک اجلاس ہوگا جس میں آگے کی حکمت عملی تیار کی جائے گا۔مولانا حامد محمد خان نے کہاکہ سدھیر کمیٹی کی سفارشات کے بعد تلنگانہ میںمسلمانوں کو بارہ فیصد تحفظات کی فراہمی سے کنارہ کشی حکومت تلنگانہ کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔انہوں نے حکومت تلنگانہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ وہ سب سے پہلے تلنگانہ میں پسماندگی کے 88فیصد تناسب کاحوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کرے تاکہ ریاست کو دئے گئے پچاس فیصد تحفظات کی حد میںاضافہ کرے۔ پروفیسر محمد غوث سے اپنے پائو ر پوائنٹ پرزنٹیشن میں سدھیر کمیٹی کے سفارشات اعداد وشمار کے ساتھ تفصیلات کو پیش کیا۔ جناب عادل محمد نے کہاکہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کے لئے سب سے پہلے مسلم نوجوانوں کے ساتھ کئے جانے والے امتیاز بالخصوص پولیس مظالم کی روک تھا م ضروری ہے۔انہو ںنے کہاکہ ریاست میںجتنا آبادی کا تناسب مسلمانوں کو ہے اس سے زیادہ تناسب جیلوں میںبند مسلم نوجوانوں کا ہے ۔ جناب خواجہ معین صدر ایم پی جے شکریہ پر مباحثہ کا اختتام عمل میںآیا۔

TOPPOPULARRECENT