Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے ٹی آر ایس حکومت سنجیدہ

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے ٹی آر ایس حکومت سنجیدہ

سدھیر کمیشن کے اجلاس سے محمد محمود علی کا خطاب،ماہرین کی جانب سے تجاویز کی پیشکشی

حیدرآباد۔/17نومبر، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کی پسماندگی کا جائزہ لینے والے جی سدھیر کمیشن آف انکوائری نے آج ملک کے مختلف ماہرین اور اسکالرس کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی، وجوہات اور اس کے سدباب کے سلسلہ میں تجاویز حاصل کیں۔ ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے اس اجلاس میں شرکت کی اور کمیشن کو اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے تلنگانہ میں مسلمانوں کی پسماندگی کے خاتمہ کے سلسلہ میں ٹھوس اقدامات کی سفارش کی۔ ملک کے مختلف کمیشنوں بشمول سچر کمیٹی میں خدمات انجام دینے والے ماہرین اجلاس میں شریک ہوئے۔ ماہرین کے ساتھ کمیشن آف انکوائری نے دو علحدہ سیشن کا اہتمام کیا تھا۔ پہلے سیشن میں مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق ماہرین کی جانب سے مقالے پیش کئے گئے۔ دوسرے سیشن میں کمیشن آف انکوائری نے اپنے دورہ اضلاع اور اس سے ملنے والی نمائندگیوں کے پس منظر میں اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی بھی اجلاس میں شریک ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں کی ترقی کے بارے میں حکومت کے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے اور اسی سلسلہ میں پہلے قدم کے طور پر کمیشن آف انکوائری قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ ملنے کے بعد حکومت تحفظات کی فراہمی کے لائحہ عمل کو قطعیت دے گی۔ محمود علی نے کہا کہ کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کے بعد علحدہ بی سی کمیشن قائم کیا جائے گا جو تحفظات کیلئے سفارش کرنے کا مجاز ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ کئی نئی اسکیمات کا آغاز کیا گیا جس کے فوائد سے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمان استفادہ کررہے ہیں۔ مختلف ماہرین نے تلنگانہ میں مسلم خواتین اور بچوں میں  ناخواندگی اور ہر شعبہ میں مسلمانوں کو نظر انداز کئے جانے کا حوالہ دیا۔ بعض ماہرین نے تلنگانہ کے سابق مسلم حکمرانوں کی رواداری کے واقعات اور رعایا پروری کی تفصیلات پیش کیں۔ ماہرین نے کہا کہ تلنگانہ کے مسلم حکمرانوں نے تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک اختیار کیا تھا۔ تلنگانہ ریاست کی ترقی میں مسلم حکمرانوں کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا آج بھی ان کے ترقیاتی کام برقرار ہیں۔ ماہرین نے اعتراف کیا کہ جب تک ہر شعبہ میں مسلمانوں کو جائز مقام نہیں ملتا اس وقت تک سماج کی ترقی ممکن نہیں۔ انہوں نے ہر شعبہ میں مسلمانوں کو مساوی حق فراہم کرنے اور ترقی میں حصہ دار بنانے کی سفارش کی۔ ماہرین نے بتایا کہ صرف ایک فیصد مسلمان ہی حکومت کی ترقیاتی اسکیمات سے مستفید ہورہے ہیں۔ اس صورتحال کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کمیشن آف انکوائری دوسرے مرحلہ میں مختلف طبقات اور مسلمانوں کی ترقی کا تقابلی جائزہ لینے کیلئے 10صفحات پر مشتمل سوالنامہ جاری کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس سلسلہ میں ریاست بھر سے حقیقی صورتحال کا پتہ چلے گا۔ صدر نشین انکوائری کمیشن ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کے علاوہ کمیشن کے ارکان عامر اللہ خاں، ایم اے باری اجلاس میں شریک تھے۔ ملک کے جن ماہرین نے اپنی تجاویز پیش کیں ان میں پروفیسر امیتابھ کنڈو، پروفیسر پی سی موہن اور دوسرے شامل ہیں۔ کمیشن کے صدرنشین نے اجلاس کو بتایا کہ وہ ماہرین کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو رپورٹ میں شامل کریں گے۔ کمیشن آئندہ مارچ سے قبل حکومت کو جامع رپورٹ پیش کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT