Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی یقین دہانی کے باوجود حکومت کا غیر جمہوری و غیر دستوری عمل

مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی یقین دہانی کے باوجود حکومت کا غیر جمہوری و غیر دستوری عمل

ذمہ داری سے راہ فراری کے لیے اسمبلی میں قرار داد کی منظوری کی تیاری ، کانگریس قائدین کا شدید ردعمل
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : حکومت تلنگانہ ایک طرف مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم ہونے کا تاثر دے رہی ہے ۔ دوسری طرف غیر دستوری اور غیر قانونی عمل کو جاری رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے اسمبلی میں قرار داد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو روانہ کرنے کی تیاری کررہی ہے ۔ جس سے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے کیوں کہ بی جے پی مسلمانوں کے تحفظات کی مخالف ہے ۔ کانگریس کی جانب سے تعلیم اور ملازمتوں میں فراہم کئے گئے 4 فیصد تحفظات کو بی جے پی نے ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کرچکی ہے ۔ پھر بھی چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر وزیراعظم نریندر مودی سے دستور ہند کے شیڈول 9 میں ترمیم کی امید کرتے ہوئے جہاں خود کو دھوکہ دے رہے ہیں وہیں مسلمانوں اور ریاست کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ حکومت کے اس موقف پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ مسلمانوں کے جذبات اور احساسات سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ 4 ماہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا مسلمانوں سے وعدہ کیا گیا ۔ 31 ماہ گذرنے کے باوجود پھر ایکبار مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اسمبلی میں قرار داد منظور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کی سراسر خلاف ورزی ہے اور مسلمان اس کو ہرگز قبول نہیں کریں گے ۔ اسمبلی میں قرار داد منظور کرنے سے مسلمانوں کو تحفظات ملنے والے نہیں ہے کیوں کہ ابھی تک جو بھی تیاری کی گئی ہے وہ غیر قانونی اور غیر دستوری ہے ۔ بی سی کمیشن نے سوائے حیدرآباد کے تلنگانہ کے باقی 30 اضلاع میں کوئی عوامی سماعت کا اہتمام نہیں کیا اور نہ ہی عوامی رائے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے چلائی گئی تحریک سے مسلمانوں میں شعور بیدار ہوچکا ہے ۔ جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین نے کہا کہ مسلم تحفظات کیسے فراہم کئے جاتے ہیں کانگریس سے سبق حاصل کرنے کا ٹی آر ایس کو مشورہ دیا ۔

کانگریس نے وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا ۔ کے سی آر نے خود وعدہ کیا نریندر مودی سے 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ کو رجوع کرتے ہوئے مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ چیف منسٹر کو بہانے تراشنے کے بجائے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ مسلمان کبھی معاف نہیں کریں گے اور ٹی آر ایس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اسمبلی میں قرار داد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کرنا سوائے وقت گذاری کے دوسرا کچھ بھی نہیں ہے اور یہ تمام سرگرمیاں بے فیض ثابت ہوں گی ۔ تاریخ گواہ ہے ماضی میں ایسی کئی قرار دادیں منظور کر کے مرکز کو روانہ کی گئی جس پر آج تک کوئی سنوائی نہیں ہوئی ہے ۔ ٹی آر ایس کے دور حکومت میں بھی ضلع کھمم کے 7 منڈلس کو آندھرا پردیش میں ضم کرنے کے خلاف بھی قرار داد منظور کی گئی ۔ مگر مرکز نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی ۔ جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی و ترجمان سید عظمت اللہ حسینی نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے مسئلہ پر ٹی آر ایس حکومت کی ٹال مٹول پالیسی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جرات مندانہ فیصلے کرنا انتہائی مشکل ہے اور وعدے کرنا سب سے زیادہ آسان ہے ۔ کانگریس کے دور حکومت میں جرات مندانہ فیصلہ کرتے ہوئے تعلیم اور ملازمتوں میں 4 فیصد تحفظات فراہم کیا گیا اور اس پر عمل آوری جاری ہے جس سے لاکھوں مسلمانوں کو فائدہ پہونچ رہا ہے ۔ 31 ماہ گذرنے کے باوجود ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو وعدے کے مطابق تحفظات فراہم کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۔ زیادہ دنوں تک مسلمانوں کو کھلونے دے کر بہلایا نہیں جاسکتا ۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خاں نے تلنگانہ کے تمام علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں میں جو شعور بیدار کیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ حکومت ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کے بجائے اس سے سبق حاصل کرے اور موثر اقدامات کرے ورنہ مسلمان ٹی آر ایس کو کبھی معاف نہیں کریں گے ۔ جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عظمیٰ شاکر نے مسلم تحفظات کے معاملے میں چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر پر مسلمانوں کو مونگیری لعل کے حسین سپنے دکھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا ہے ۔ باوجود مسلمانوں نے ٹی آر ایس کے 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدے سے متاثر ہو کر ٹی آر ایس کو اقتدار میں لانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ کیوں کہ 4 فیصد مسلم تحفظات سے حاصل ہونے والے فائدوں سے مسلمان متاثر ہیں ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات سے مسلمانوں کی مزید ترقی کی امید کرتے ہوئے ٹی آر ایس پر اپنے بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ چیف منسٹر تلنگانہ نے 12 فیصد مسلم تحفظات کو بی جے پی حکومت کے حوالے کررہے ہیں جنہوں نے ابتداء سے مسلم تحفظات کی مخالفت کی ہے ۔ چیف منسٹر اسمبلی میں قرار داد منظور کرتے ہوئے مسلمانوں سے کئے گئے وعدے سے انحراف کررہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT