Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / مسلمانوں کیلئے اچھی خبر

مسلمانوں کیلئے اچھی خبر

ظفر آغا
شکر ہے پروردگار تیراکہ تیرے کرم سے ایک اچھی خبر پڑھنے کو ملی، جانتے ہیں آپ وہ اچھی خبر کیا ہے! میں کیوں بتاؤں آپ خود اخبار ’ ٹائمس آف انڈیا ‘ سے ملاحظہ فرمالیجئے۔ میں اس خبر کو آپ کی خدمت میں من و عن پیش کئے دیتا ہوں۔ پچھلے ہفتہ ’ ٹائمس آف انڈیا ‘ ( دہلی ایڈیشن )نے یہ خبر بطور پہلی سرخی یوں لگائی : ’’ 2001 اور 2011 کے درمیان ملک میں طلبہ کی آبادی میں 30 فیصد اضافہ ، مسلمان قومی اوسط میں سب سے آگے ۔‘‘ یہ تو تھی اُس خبر کی سرخی۔ اب ذرا ’ ٹائمس آف انڈیا ‘ اس سلسلہ میں آگے کیا لکھتا ہے ذرا وہ بھی ملاحظہ فرمایئے۔ اس خبر کا ترجمہ پیش ہے : ’’ مسلمانوں میں طلبہ کی تعداد ( 10برس میں ) 44فیصدبڑھی اور اسی اعداد و شمار میں ( مسلم ) لڑکیوں کی تعداد میں زبردست 53فیصد کا اضافہ ہوا، اس کے نتیجہ میں ( مسلم ) طلبہ کی تعداد کا کل اوسط اب 5-19عمر کے بچوں میں 63فیصد ہے۔‘‘

کیوں جناب ، ہے نا خوش کن خبر، اس ماحول میں جبکہ مسلمان پر عرصہ حیات تنگ ہے ایسے ماحول میں مسلمان اگر کسی طرف دھیان دے رہا ہے تو وہ تعلیم ہے۔ بھلا وہ تعلیم کی طرف کیوں دھیان نہ دے! قرآن مجید کا پہلا حکم جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورامت کے لئے آیا اس سے آپ بخوبی واقف ہیں اور وہ تھا ’’ اقراء ‘‘ یعنی پڑھو اور تعلیم حاصل کرو۔ یہ سمجھ لیجئے کہ نماز سے پہلے جو حکم ہوا وہ تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔  خدا کا شکر ہے کہ اب بڑی تعداد میں مسلمان کم از کم 5-19 سال کی عمر میں تعلیم حاصل کرنے کی طرف رجوع ہورہا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اور اہم بات ان اعداد و شمار سے اُبھر کر آئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلم لڑکیوں میں تعلیم کی طرف رجحان لڑکوں سے بھی زیادہ ہے۔ اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے کیونکہ اگر لڑکی پڑھی لکھی ہوگی تو آگے چل کر وہ بحیثیت ماں اولاد کو بھی تعلیم یافتہ بنائے گی۔

ایک بات میں اس سلسلہ میں عرض کرنا بھول گیا اور وہ یہ کہ یہ اعداد و شمار حکومت ہند کی مردم شماری کے اعداد و شمار ہیں۔ گویا اس سے معتبر اعداد و شمار حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ میں تعلیم کے سلسلہ میں تازہ ترین مردم شماری کے جو اعداد و شمار شائع ہوئے ہیں اس میں مختلف مذہبی گروہوں میں جو بیروزگاری کے اعداد و شمار ہیں وہ بھی شائع کئے گئے ہیں۔ تازہ ترین مردم شماری اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کے 20-29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری 20فیصد پائی جاتی ہے جبکہ اس عمر کے ہندو نوجوانوں میں بے روزگاری 20 فیصد ہے اور پورے ملک کا قومی بے روزگاری کا اوسط بھی 20فیصد ہے۔ مسلمانوں کے مقابل عیسائیوں میں بے روزگاری کا اوسط 26فیصد ہے جبکہ عیسائیوں میں حصول تعلیم کا اوسط 80فیصد ہے۔ ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بے روزگاری کے معاملے میں مسلمان ہندوؤں سے پیچھے نہیں ہیں بلکہ اس کی حالت اس تناظر میں پڑھے لکھے عیسائیوں سے کہیں بہتر ہے۔ آخر یہ کیوں ہوا، لیکن اس سے قبل یہ سمجھنا لازمی ہے کہ مسلمان تعلیم کی جانب کیسے رجوع ہوئے۔ کیونکہ قومی سطح پر مسلمانوں کی نہ تو کوئی لیڈر شپ ہے اور نہ ہی کوئی ایسی تحریک جو کہ مسلمانوں کا رُخ تعلیم کی جانب موڑدے۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ یہ رجحان ملت میں خودبخود پیدا ہوا، لیکن کوئی نہ کوئی عوامل تو ضرور رہے ہوں گے جس کے سبب مسلمان مجموعی طور پر تعلیم کی طرف رجوع ہوئے۔ اگر آپ پہلے 10سال یعنی 2001-2011 پر نگاہ ڈالیں تو یہ دور مسلمانوں پر انتہائی سخت گذرا ہے۔ یہ وہی دور ہے جب گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی ہوئی جبکہ مسلمانوں نے آزاد ہندوستان میں خود کو بے یاردو مدگار محسوس کیا۔ گجرات فسادات میں انصاف ملنا تو درکنار، کہیں سے کسی آسرے کی بھی اُمید نہیں تھی۔ خود مسلمانوں کے اندر قیادت کا جو فقدان تھا اور اب بھی ہے اس کا ذکر کرنا مشکل ہے۔ ایسے منفی و بدترین حالات میں مسلمانوں کا ایک مثبت پہلو کی طرف توجہ دینا حیرت ناک بات ہے۔ لیکن اس سے بھی حیرت ناک بات یہ ہے کہ 2001-2011 کی دہائی سے دس برس قبل یعنی 1990-2001 کی دہائی میں بھی مسلمانوں پر قیامت ٹوٹی تھی۔ یہ وہ دہائی ہے کہ جب 6ڈسمبر 1992 کو بابری مسجد ڈھائی گئی اور سارے ہندوستان میں مسلم خون کی ہولی کھیلی گئی۔ پھر 1993 میں ممبئی کے بدترین فسادات ہوئے۔ یعنی پچھلے 20برس سے مسلمان آزاد ہندوستان میں خودکو غلام اور دوسرے درجہ کا شہری اور بے یارومددگار محسوس کررہا ہے۔

یہی وہ راز ہے کہ جس نے مسلمانوں کی آنکھ کھول دیں۔ مسلمان اور غلام ! مسلمان اور دوسرے درجہ کا شہری! ارے سات آٹھ سو برس جس قوم نے اس ملک پر حکومت کی ہے اس کو اگر اپنی غلامی کا احساس ہوجائے تو وہ حیرت سے جاگ تو اُٹھے گی۔ بس پچھلی دو دہائیوں میں مسلمانوں کے ساتھ کچھ یہی ہوا کہ وہ مذہب جو تمام انسانیت کو انسانی مساوات کا پیغام دیتا ہے اس کے ماننے والے اگر خود کو غلام اور دوسرے درجہ کا انسان محسوس کرنے لگیں تو ان کے لئے اس سے بڑھ کر باعث شرمندگی اور کیا ہوسکتی ہے۔ چنانچہ یہی ہوا جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو مسلمانوں نے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کردیا ، ان کے ذہنوں میں جو پہلا خیال آیا وہ یہ تھا کہ بھائی ہماری یہ حالت اس لئے ہے کہ ہم دورِحاضر میں اپنے دفاع اور اپنی ترقی کی راہیں بنانا نہیں جانتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ مسلمانوں کو دورِ حاضر کوبرتنے کا سلیقہ ہی نہیں آتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جدید تعلیم سے بے بہرہ ہے۔ جو قوم اپنے دور کی تعلیم سے بے خبر ہوگی وہ اپنے دور کے تقاضوں سے بھی بے خبر ہوگی۔ اور جب وہ لاعلم ہوگی تو کسی مشکل کا سامنا کیسے کرے گی؟۔ یہ بات مجموعی طور پر کم از کم لاشعوری طور پر بابری مسجد سانحہ سے لیکر گجرات فسادات کے سفر کے دوران مسلمانوں کو سمجھ میں آگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خود تو پڑھ لکھ نہیں سکا اور غلام ہوگیا۔ لیکن اب وہ اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنائے گا تاکہ وہ آزادی کی سانس لے سکیں۔ بس اس فیصلے کا نتیجہ آپ نے تازہ ترین مردم شماری کے تعلیمی اعداد و شمار میں ملاحظہ کیا۔

یقیناً یہ خبر باعث سکون ہے لیکن ابھی بھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ یعنی ابھی بھی محض پرائمری سطح پر کُل مسلم تعلیمی اوسط 63فیصد ہوا ہے یعنی ابھی 37 فیصد مسلم آبادی تعلیم سے بالکل بے بہرہ ہے ۔ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں جلد از جلد کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پرائمری یعنی بنیادی سطح کی تعلیم کے آگے مسلمان ابھی بہت پیچھے ہیں اور کامیاب زندگی یعنی صحیح معنوں میں خود مختاری اور آزادی محض پرائمری تعلیم سے نہیں حاصل کی جاسکتی۔ مطلب یہ کہ ابھی صبر کے امتحان اور بھی ہیں اور ابھی بہت منزلیں طئے کرنی ہیں لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی مسلم سماج میں اُمید کی پہلی کرن پھوٹی ہے۔ انشاء اللہ جلد ہی تعلیم کا سورج بھی چمکے گا اور قوم پھر ویسے ہی ترقی کرے گی جیسے کبھی قرون وسطیٰ کے دور میں ترقی یافتہ تھی۔ لیکن یہ کام ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہنے سے نہیں ہوگابلکہ اس کے لئے ایک تحریک چاہیئے جو مسلمانوں کو حکم ’ اقراء ‘ کی جانب واپس لے جائے۔

TOPPOPULARRECENT