Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کی ترقی میں اہم رکاوٹ تعلیمی پسماندگی

مسلمانوں کی ترقی میں اہم رکاوٹ تعلیمی پسماندگی

تعلیمی ترقی کے ذریعہ مسلمانوں کو اونچا مقام پیدا کرنے کا مشورہ ، مرکزی وزیر بی دتاتریہ کا خطاب
حیدرآباد۔/2اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر لیبر بنڈارودتاتریہ نے کہا کہ مسلمانوں کی ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹ تعلیمی پسماندگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی اور تلنگانہ حکومتوں نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے کئی اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ تلنگانہ حکومت کو اقلیتی طلبہ کی اسکالر شپ کے سلسلہ میں 135کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں۔ بنڈارودتاتریہ آج حج ہاوز نامپلی میں اقلیتی افراد کیلئے شروع کی گئی آٹو رکشا فراہمی کی اسکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ بنڈارو دتاتریہ نے کہا کہ مسلمانوں کو بہتر تعلیم کے حصول کے ذریعہ آئی اے ایس، آئی پی ایس ہی نہیں بلکہ ایم ایل اے، ایم پی اور وزیر بننے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ترقی کے ذریعہ اقلیتیں یقینی طور پر اہم عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے سلسلہ میں اسکیمات کی ستائش کی اور کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود قابل مبارکباد ہے جو ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی نگرانی میں اقلیتوں کی ترقی کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دراصل دو آنکھوں کی طرح ہیں اور دونوں آنکھوں کا تحفظ اور ان کا بہتر ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے ’شادی مبارک‘ اور آٹو رکشا فراہمی اسکیم کا خیرمقدم کیا اور آٹو ڈرائیورس کیلئے ای ایس آئی ہاسپٹلس میں علاج کی سہولتوں کی فراہمی کا اعلان کیا۔ دتاتریہ نے کہا کہ آٹو ڈرائیورس کو مرکزی حکومت کی جانب سے ای ایس آئی ہاسپٹل میں علاج کیلئے بہت جلد کارڈز جاری کئے جائیں گے۔ ملک میں 40کروڑ افراد کو اس سہولت سے استفادہ کیلئے کارڈز جاری کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جاری کیا جانا والا کارڈ اسمارٹ کارڈ کی طرح ہوگا جن میں اولڈ ایج پنشن اور انشورنس کی سہولت بھی حاصل رہے گی۔ جن سرکھشا یوجنا اور جیون جیوتی اسکیمات کے تحت آٹو رکشا ڈرائیورس ماہانہ ایک روپیہ ادا کریں تو حادثہ کی صورت میں انہیں 4لاکھ روپئے حاصل ہوں گے۔ بنڈارو دتاتریہ نے کہا کہ وہ مسلمانوں میں آئی اے ایس اور آئی پی ایس عہدیدار دیکھنا چاہتے ہیں اور مسلم طلباء ڈاکٹر اور وکالت جیسے معزز شعبوں سے خود کو وابستہ کریں۔ دتاتریہ نے کہا کہ وہ آٹو ڈرائیورس کو پولیس کی جانب سے ہراساں کئے جانے کے سخت خلاف ہیں اور وہ مرکزی وزیر لیبر کی حیثیت سے ہراساں کرنے کے ذمہ دار عہدیداروں کو جیل بھیجنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف پیشہ ورانہ کورسیس میں ٹریننگ حاصل کرتے ہوئے اقلیتی طلباء و طالبات بڑی کمپنیوں میں روزگار حاصل کرسکتے ہیں۔ وہ مرکزی حکومت کے تعاون سے ٹیلرنگ، نرسنگ اور دیگر شعبہ جات میں ٹریننگ کا اہتمام کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت  ایک سال میں ایک کروڑ افراد کو روزگار فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اس میں مسلمانوں کی مناسب حصہ داری رہے۔ انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کی اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں سنجیدگی کی ستائش کی اور کہا کہ ڈپٹی چیف منسٹر ایک صاف گو اور سنجیدہ شخصیت ہیں جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوؤں میں بھی یکساں طور پر مقبول ہیں۔
مسلم لڑکی کی تعلیم اور ملازمت کی ذمہ داری دتاتریہ نے قبول کی
حیدرآباد۔/2اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر لیبر بنڈارودتاتریہ نے ایک غریب مسلم لڑکی کی گریجویشن تک تعلیم اور پھر اسے کسی بڑی کمپنی میں روزگار دلانے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ وہ آج حج ہاوز میں ’ شادی مبارک‘ اسکیم کے ایک سال کی تکمیل کے موقع پر بعض غریب خاندانوں میں امداد کی منظوری سے متعلق مکتوب حوالے کررہے تھے۔ عنبر پیٹ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی اسریٰ بیگم کو جب منظوری سے متعلق مکتوب حاصل کرنے کیلئے اسٹیج پر بلایا گیا تو بنڈارو دتاتریہ نے اس لڑکی سے تعلیمی قابلیت دریافت کی، لڑکی نے بتایا کہ وہ ساتویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہے اور اب اس کی شادی ہورہی ہے۔ دتاتریہ نے اسریٰ بیگم کو جو مکمل حجاب میں تھیں مشورہ دیا کہ وہ شادی کے بعد بھی تعلیم جاری رکھیں اور کم از کم گریجویشن تک تعلیم حاصل کریں اس کے بعد ملازمت فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ لڑکی کی تعلیم کیلئے بھی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار ہیں۔ دتاتریہ نے کہا کہ وہ مرکزی وزیر کی حیثیت سے کسی بڑی کمپنی میں اسریٰ بیگم کو موزوں جائیداد پر تقررکو یقینی بنائیں گے۔ بنڈارودتاتریہ کے اس اعلان کا سامعین نے زبردست خیرمقدم کیا۔

TOPPOPULARRECENT