Friday , September 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں کی ترقی کیلئے کانگریس کے مگر مچھ کے آنسو

مسلمانوں کی ترقی کیلئے کانگریس کے مگر مچھ کے آنسو

12فیصد تحفظات کیلئے کانگریس اگر سنجیدہ ہوتو مرکز پر دباؤ ڈالے: جگدیش ریڈی

نلگنڈہ۔/6اپریل، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت مسلمانوں کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کے عہد کی پابند ہے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے اس خصوص میں سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر بجٹ مختص کیا ہے، کانگریس پارٹی مسلمانوں کے جذبات کو ہر وقت مجروح کیا کرتی تھی۔ یہ بات ریاستی وزیر برقی مسٹر جی جگدیش راؤ نے نلگنڈہ میں واقع اپنے کیمپ آفس میں صحافتی کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ حصول تلنگانہ کی جدوجہد میں یاترا کے دوران مسلمانوں کی سطح غربت سے نچلی زندگی گذارنے سے متعلق تفصیلات حاصل ہونے پر ٹی آر ایس سربراہ نے اقتدار حاصل ہونے پر 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ اس خصوص میں اقتدار پر فائز ہونے کے بعد سدھیر کمیشن کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ اس کی رپورٹ کے بعد حکومت یہ رپورٹ بی سی کمیشن کو روانہ کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی رکاوٹیں پیدا نہ ہونے کے اقدامات کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنانے پر سنجیدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سدھیر کمیٹی نے سچر کمیٹی میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کی ہے۔ جسٹس راجندر سچر نے مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق واضح رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی اس میں مسلمانوں کو دلتوں سے زیادہ ابتر صورتحال ہونے کا انکشاف کیا۔ لیکن یو پی اے سرکار نے کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری پر توجہ نہیں دی۔ ریاستی وزیر برقی نے کانگریس پارٹی پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے بتایا کہ اقتدار پر فائز رہتے ہوئے گزشتہ 60 برسوں میں مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا گیا، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے 60برسوں میں مختص کردہ فنڈ کو ٹی آر ایس پارٹی نے صرف 2برسوں میں مختص کرتے ہوئے کئی ایک فلاحی و ترقیاتی اسکیمات کو روشناس کروایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل، حیدرآباد اور میدک کے انتخابات سے سبق حاصل کرنے کے بجائے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کرنے کیلئے 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر مگرمچھ کے آنسو بہارہی ہے۔ اگر یہ قائدین مسلمانوں کی ترقی کیلئے سنجیدہ ہوں تو ان کی ترقی اور تحفظات کی فراہمی کیلئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کا کانگریس پارٹی کو ہی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی اجلاس میں حکومت کے مستحکم موقف کو دیکھتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی غرض سے کانگریس پارٹی قائدین چیف منسٹر اور حکومت پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں تلگودیشم پارٹی کی طرح ریاست میں کانگریس کا بھی برا حال ہوگا۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ریاست میں ٹی آر ایس پارٹی کو سماج کے تمام طبقات کی مکمل تائید حاصل ہے اور مسلمانوں کو تحفظات کے معاملہ میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رکھنی چاہیئے، حکومت بہر صورت مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرے گی۔ اس موقع پر اسمبلی انچارج مسٹر ڈی نرسمہا ریڈی، شریمتی شرینہ ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT