Thursday , August 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں کی ترقی کیلئے 12 فیصد تحفظات ضروری

مسلمانوں کی ترقی کیلئے 12 فیصد تحفظات ضروری

ورنگل میں سدھیر کمیشن آف انکوائری سے مختلف تنظیموں کی نمائندگیاں

ورنگل ۔ 23 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلم طبقہ کو 12 فیصد تحفظات فراہم کے بنائے گئے سدھیر کمیشن آف انکوائری ورنگل کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو سماجی، معاشی اور تعلیمی حالات کا جائزہ لینے کیلئے ورنگل کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس ضمن میں کلکٹریٹ کانفرنس ہال میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں ورنگل کی مختلف تنظیموں کی جانب سے نمائندگیاں کی گئی۔ اس موقع پر جماعت اسلامی ہند ورنگل کی جانب سے جناب خالد سعید نے نمائندگی کرتے ہوئے سدھیر کمیشن کے سامنے مسلمانوں کے معاشی، سماجی اور تعلیمی حالات سے تفصیلی ڈاٹا پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلمان دیگر پسماندہ طبقات سے بھی کم درجہ پر مسلمان پہنچ چکے ہیں۔ سماج میں مسلمانوں کی طرز زندگی کی تبدیلی کیلئے 12 فیصد تحفظات ناگزیر ہیں۔ مسلمان ہر میدان میں پسماندہ ہوچکا ہے۔ بینک لون کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو خودروزگار فراہم کرنے کیلئے خصوصی طور پر سب پلان بنایا جائے، اردو زبان کو روزگار سے جوڑا جائے اور سرکاری ملازمت کے لئے اعلامیہ جاری ہونے سے قبل مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنایا جائے، ورنہ حکومت کا مقصد فوت ہوگا۔

ملازمتیں ختم ہونے کے بعد کس طرح مسلمانوں کی معیار زندگی میں تبدیلی آئے گی۔ مسلمان فٹ پاتھ کے کاروبار، آٹو رکھشا، ٹھیلہ بنڈی و دیگر چھوٹے کاروبار کررہے ہیں۔ اس موقع پر تلنگانہ اردو ٹیچرس اسوسی ایشن کی جانب سے جناب مجیب الرحمن نے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کا اردو میڈیم مدارس پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ اردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کا تقرر نہیں ہورہا ہے۔ اکثر دیہاتوں میں واقع اردو میڈیم پرائمری اسکولس ہیں، لیکن ہال پر ہائی اسکول کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مسلمان بچے ترک تعلیم پر مجبور ہورہے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ ہر اسکول میں اردو سبجکٹ ٹیچرس کا تقرر کیا جائے اور اردو میڈیم خصوصی ٹی ایس سی کو رکھا جائے۔ علاوہ اس کے جناب حبیب خان سابق ضلع پریشد ممبر، جناب ایم اے مجید سکریٹری بلوبرڈس ایجوکیشنل سوسائٹی، سید افتخارالدین، زبیدہ خاتون، توفیق الرحمن، محمد نعیم الدین، محمد قدیر علی (اے آئی ایس ایف)، محمد حبیب الدین، سید دستگیر، سید مجاہد، ابوالحسن و دیگر نے مسلمانوں کو درپیش مسائل کمیشن کو پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کو ناگزیر قرار دیا۔ قبل ازیں کمیشن کے چیرمین جی سدھیر آئی اے ایس، ڈاکٹر عمر خان ڈیولپمنٹ اکنامٹ، ڈاکٹر عبدالثعبان، ایم اے باری پر مشتمل وفد ضلع کلکٹر وائی کروناکر کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ اس موقع پر جوائنٹ کلکٹر پرشانت جیون پاٹل، ایڈیشنل ڈی سی پی یادیا و دیگر عہدیدار موجود تھے۔ کمیشن کے وفد نے ورنگل کے پسماندہ علاقہ کا دورہ بھی کیا۔

TOPPOPULARRECENT