Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کے اعدادوشمار کی طلبی

مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کے اعدادوشمار کی طلبی

سدھیر کمیشن آف انکوائری کی سرکاری محکمہ جات کو ہدایت

حیدرآباد۔/5مارچ، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کا جائزہ لینے والے سدھیر کمیشن آف انکوائری نے سرکاری محکمہ جات کو ہدایت دی ہے کہ وہ مسلمانوں کی ملازمتوں میں نمائندگی اور تعلیم میں حصہ داری سے متعلق اعداد و شمار اندرون ایک ہفتہ داخل کردیں۔ کمیشن کے صدرنشین ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر اور کمیشن کے رکن محمد عبدالباری نے آج تقریباً 10 سرکاری محکمہ جات کے ساتھ جائزہ اجلاس منعقد کیا اور انہیں کمیشن کو درکار تفصیلات کے بارے میں واقف کرایا۔ جن محکمہ جات نے اجلاس میں شرکت کی ان میں اسکول ایجوکیشن، ہائیر ایجوکیشن، ٹیکنیکل ایجوکیشن، میڈیکل ایجوکیشن، میڈیکل اینڈ ہیلت، اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی، کونسل فار ہائیر ایجوکیشن اور اقلیتی بہبود شامل ہیں۔ جی سدھیر نے عہدیداروں کو بتایا کہ انہیں اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کے بارے میں حکومت کو جامع رپورٹ پیش کرنا ہے لہذا تمام محکمہ جات سے وہ تعاون کے خواہاں ہیں۔ محکمہ جات کو چاہیئے کہ وہ اپنی رپورٹ اندرون ایک ہفتہ پیش کردیں۔ انہوں نے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ سرکاری، امدادی اور خانگی مدارس کی تفصیلات داخل کریں اس میں طلبہ کی تعداد بھی درج ہو۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی تعداد، مخلوعہ جائیدادیں اور مضمون واری اساتذہ کی تفصیلات داخل کی جائیں۔ سدھیر کمیشن نے اسکولی سطح پر اقلیتوں کے حصول تعلیم سے متعلق رجحان میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا اور عہدیداروں سے کہا کہ وہ حقائق پر مبنی رپورٹ داخل کریں تاکہ حکومت کو سفارشات پیش کرنے میں سہولت ہو۔ کمیشن نے سرکاری، امدادی اور خانگی مدارس کے نتائج بالخصوص ایس ایس سی اردو میڈیم نتائج کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے اردو میڈیم جونیر کالجس، ڈگری کالجس میں مسلم طلبہ کی تعداد اور اردو ذریعہ تعلیم کی صورتحال پر تفصیلات مانگی ہیں۔ گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن میں مسلم طلبہ کی شراکت اور اردو میڈیم میں تعلیم کی سہولت کے بارے میں اعداد و شمار پیش کرنے کی خواہش کی گئی۔ یونیورسٹیز میں مسلم طلبہ کے تناسب اور اردو میڈیم تعلیم کے انتظام کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئیں۔ سدھیر کمیشن نے محکمہ میڈیکل اینڈ ہیلت کے عہدیداروں سے کہا کہ وہ تلنگانہ میں میڈیکل نشستوں کی تعداد اور سرکاری دواخانوں میں مسلم ڈاکٹرس کی تعداد پر مبنی رپورٹ پیش کریں۔ محکمہ ٹیکنیکل ایجوکیشن کو ایمسیٹ میں مسلم طلبہ کی حصہ داری اور پیشہ ورانہ کورسیس میں داخلوں کے اعداد و شمار پیش کرنے کو کہا۔ کمیشن نے اسٹیٹ لیول بینکرس کمیٹی کے عہدیداروں سے قرض کی اجرائی میں مسلمانوں کے تناسب اور دیگر شعبہ جات کے مقابلہ مسلمانوں کو قرض کی اجرائی کے فیصد کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔کمیشن کا احساس ہے کہ بینکوں کی جانب سے مسلمانوں کو قرض کی اجرائی غیر اطمینان بخش ہے۔ جی سدھیر نے تمام محکمہ جات سے کہا کہ وہ اپنے اداروں میں مسلم ملازمین کی تعداد کی تفصیلات داخل کریں جن میں مستقل اور عارضی ملازمین کی تفصیلات بھی شامل ہوں۔ اقلیتی بہبود کی نمائندگی سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے کی۔ انہوں نے اقلیتی اداروں کی کارکردگی اور مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے کیلئے کئے جارہے اقدامات اور اسکیمات کی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے مزید تفصیلات اندرون ایک ہفتہ پیش کرنے کا تیقن دیا۔

TOPPOPULARRECENT