Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے حکومت مکمل سنجیدہ

مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کیلئے حکومت مکمل سنجیدہ

کئی منفرد اسکیمات روبعمل، تحفظات سے متعلق اپوزیشن کے اندیشے مسترد: محمد محمود علی
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلمانوں سے کئے گئے تمام وعدوں کی تکمیل میں سنجیدہ ہیں اور تعلیمی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے اسمبلی کے جاریہ سیشن میں تحفظات بل پیش کیا جائے گا ۔ جناب محمود علی نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر حکومت کی جانب سے بل کی پیشکشی کی تیاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بی سی کمیشن کی جانب سے جلد ہی حکومت کو رپورٹ پیش کردی جائے گی جس کی بنیاد پر اسمبلی اور کونسل میں مسلم تحفظات  میں اضافہ کیلئے قانون سازی کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حکومت تحفظات کے وعدہ پر عمل آوری میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی تحفظات کے مسئلہ پر ماہرین کے ساتھ مشاورت کو جاری رکھا۔ حکومت کا ہر قدم تحفظات کو یقینی بنانے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے ۔ تحفظات کو کسی بھی قانونی رکاوٹ سے محفوظ رکھنے کیلئے حکومت نے پہلے مرحلہ میں سدھیر کمیشن سے مسلمانوں کے حالات پر رپورٹ حاصل کی۔ کمیشن نے 9 تا 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کی سفارش کرتے ہوئے ہر شعبہ میں مسلمانوں کی پسماندگی کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ کانگریس پارٹی جس نے اپنے دور اقتدار میں مسلمانوں کے ساتھ صرف وعدوں سے کام لیا ، آج ان کے قائدین مسلمانوں کی پسماندگی پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مرکز اور متحدہ آندھراپردیش میں کانگریس نے طویل عرصہ تک حکمرانی کی اور اس کے دور میں کئی کمیشنوں نے مسلمانوں کی پسماندگی کے بارے میں رپورٹس حوالے کئے اور حکومت کو سفارشات پیش کی تھیں لیکن کانگریس حکومت نے ایک بھی  کمیشن کی رپورٹ پر عمل کرنے زحمت نہیں کی اور تمام رپورٹس برفدان کی نذر کردی گئیں۔ برخلاف اس کے ٹی آر ایس نے اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سدھیر کمیشن کی رپورٹ ملتے ہی علحدہ بی سی کمیشن تشکیل دیا تاکہ تحفظات کو عدالتوں میں کوئی خطرہ نہ رہے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ صرف ٹی آر ایس ہی مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی میں سنجیدہ ہیں اور آئندہ ڈھائی برسوں میں حکومت اس کا عملی ثبوت فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی کوئی ریاست بھی اقلیتی بہبود کے بجٹ اور اسکیمات کے سلسلہ میں تلنگانہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ملک میں سب سے زیادہ بجٹ اور فلاحی اسکیمات نو قائم شدہ ریاست تلنگانہ میں ہیں۔ جناب محمود علی نے کہا کہ جب ڈھائی سال میں کے سی آر کی قیادت میں تلنگانہ حکومت نے 30 ہزار کروڑ کی فلاحی اسکیمات سے ملک بھر میں پہلا مقام حاصل کیا ہے تو پھر آنے والے برسوں میں اس رقم میں اضافہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کے پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔ جناب محمود علی نے مسلم طلبہ کو سیول سرویسز کی کوچنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں منفرد اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت ہر سال سرکاری خرچ پر 100 اقلیتی طلبہ کو خانگی ، معیاری کوچنگ سنٹرس میں داخلہ دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایس اور آئی اے ایس میں مسلم نمائندگی انتہائی کم ہے اور تلنگانہ میں مسلم نوجوانوں کو اس معیار تک پہنچانے کیلئے کسی بھی حکومت نے کوشش نہیں کی۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ مسلمان تعلیمی طور پر ترقی کرتے ہوئے آئی اے ایس اور آئی پی ایس میں موثر نمائندگی حاصل کریں۔ جناب محمود علی نے کہا کہ جب مسلم نوجوانوں کا آئی اے ایس اور آئی پی ایس میں انتخاب ہوگا تو وہ مسلمانوں کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کو یقینی بناسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس اسکیم کے تحت طلبہ کو اپنے پسند کے اداروں کے انتخاب کا اختیار دیا ہے اور تمام اخراجات حکومت ادا کرے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ہر سال 100 طلبہ کو معیاری کوچنگ سنٹرس میں ٹریننگ کی صورت میں کم سے کم 5 تا 10 طلبہ کے سیول سرویسز میں انتخاب کی توقع کی جاسکتی ہے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر نے اقلیتوں کیلئے مزید 89 اقامتی اسکولس کے قیام کو منظوری دی ہے جبکہ 71 اقامتی اسکولس کامیابی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ارکان اسمبلی سے اقامتی اسکولس کے قیام کے سلسلہ میں مشاورت کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر جمعرات کو اجلاس طلب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی سال 2017-18 ء میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کی تیاری کی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ اور وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ بورڈ کی موجودہ آمدنی جو صرف 7 کروڑ ہے ، اسے بڑھاکر ایک ہزار کروڑ کرنے کا منصوبہ تیار کیا جائے گا ۔ ہزاروں کروڑ مالیتی اوقافی جائیدادیں موجود ہیں اور اگر ان کا موثر انداز میں استعمال کیا گیا تو بورڈ کو حکومت کی گرانٹ کی ضرورت نہیں پڑ ے گی ۔ وقف بورڈ کے ذریعہ اقلیتوںکی تعلیمی اور معاشی ترقی کی کئی اسکیمات شروع کی جاسکتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT