Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں مختلف علمی تحریکوں کا اہم کردار

مسلمانوں کی تعلیمی ترقی میں مختلف علمی تحریکوں کا اہم کردار

شعبہ اسلامک اسٹڈیز ، اردو یونیورسٹی میں پرفیسر اقتدا ر محمد خان کا خطاب
حیدرآباد ۔ 22 ۔ فروری : ( پریس نوٹ) : ’’انیسویں صدی کے وسط سے انگریزوں نے مسلمانوں کو سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور معاشی طور پر کمزور کرنا شروع کیا تو قوم کے رہنماؤں نے مسلمانو ں کے دین ومذہب کی حفاظت ، تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے اور معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لئے مختلف تحریکوں ، اداروں اور تنظیموں کو قائم کیا ، مولانا قاسم نانوتویؒ نے دار العلوم دیوبند1866 میں اور سرسیدؒ نے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج 1878 میں قائم کیا، جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی وعصری تعلیم کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، جب دینی ودنیاوی تعلیم کی تقسیم شروع ہوگئی تو مولانا محمد علی مونگیریؒ نے 1894 میں تحریک ندوۃ العلماء شروع کی اور 1898 میں اُسی تحریک کے تحت دار العلوم ندوۃ العلماء قائم کیا، اسی طرح عوامی اصلاح کے لئے مولانا الیاسؒ نے 1934 میں تبلیغی تحریک کی بنیاد رکھی، اور تعلیمی ومذہبی ترقی کے لئے مولانا مودودیؒ نے 1941 میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی،ان تمام تحریکوں اور اداروں نے ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی، تعلیمی، معاشی اور سیاسی و سماجی اصلاح کا کام کیا، اور یہ ابھی تک اپنے کام میں مصروف عمل ہیں‘‘۔ ان خیالات کا اظہار شعبہ اسلامک اسٹڈیز ، مانو میں پروفیسر اقتدار محمد خان، صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی نے کیا، انہوں نے ’’آزاد ہندوستان کی مسلم تحریکیں‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے چند اہم تحریکوں کو اپنا موضوع بنایا، انہوں نے مزید کہا کہ امام احمد رضا خاں بریلوی نے حب رسول کو مسلمانوں کے سینہ میں اجاگر کرکے ان کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی، تمام تحریکوں نے اپنے اپنے منہج کو اختیار کرتے ہوئے اسلام کی خدمت کی، اور اخلاص کے ساتھ کام کیا، ان تحریکوں سے جڑنے والے افراد کا فرض بنتا ہے کہ وہ تحریکی سرگرمیوں کو مثبت انداز میں آگے بڑھائیں، اور اختلافات سے گریز کریں۔ڈاکٹر محمد فہیم اختر صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز مانو نے صدارتی خطاب میں کہا کہ اختلاف ختم کرنا شریعت کا مقصود ہوتا تو عہد رسالت میں ختم ہوچکا ہوتا ، لیکن اس کو باقی رکھنا شریعت میں مطلوب ہے، جو ایک فطری عمل ہے، البتہ اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ عملی اور رفاہی کاموں میں تعامل ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر شاہد رضااور ڈاکٹر شمس الہدی بھی پروگرام میں موجود تھے۔پروگرام کا آغاز شارق علی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ محمد عمر عابدین نے شعبہ کا تعارف پیش کیا، جناب محمد ابرار الحق نے مہمان مقرر کا تعارف پیش کیا، مولانا سید عبد الرشید نے پروگرام کی نظامت کی، سید منہاج کے شکریہ پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

TOPPOPULARRECENT