Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ میری اولین ترجیح : چندر شیکھر راؤ

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ میری اولین ترجیح : چندر شیکھر راؤ

نظام کالج گراونڈ پر دعوت افطار سے خطاب۔ تلنگانہ میں مسلمانوںکو دیگر اقوام کے مساوی مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی
حیدرآباد ۔/26 جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے جاریہ ماہ سے 120 اقامتی اسکولس کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے ۔ 3900 کروڑ کی لاگت سے ریاست میں اقلیتوں کیلئے اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ رمضان المبارک میں اسکولوں کا آغاز ہورہا ہے ۔ چیف منسٹر آج نظام کالج گراؤنڈ پر منعقدہ دعوت افطار کے مدعوئین سے مخاطب تھے ۔ دعوت افطار میں سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمائندہ شخصیتوں نے شرکت کی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ مسلم طلبا کی بہتر تعلیمی مستقبل اور ان کے تابناک مستقبل کیلئے وہ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں ۔ ان کی دعا ہے کہ اقلیتوں کیلئے قائم کئے جانے والے اقامتی اسکولس کامیابی کے ساتھ کام کریں اور اقلیتوں میں تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت اقلیتی بہبود کے معاملے میں ملک کی دیگر ریاستوں میں سرفہرست ہے ۔ کسی ریاست میں اقلیتی بہبود کیلئے 1200 کروڑ سے زائد کا بجٹ مختص نہیں کیا گیا ۔ تلنگانہ حکومت نے نہ صرف اس قدر بجٹ مختص کیا بلکہ کئی فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے بطور خاص شادی مبارک اسکیم کا حوالہ دیا جس کے تحت غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے موقع پر 51 ہزار روپئے کی امداد فراہم کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کی مختلف اسکیمات کے علاوہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہیں ۔ چیف منسٹر نے اردو میں تقریر کرتے ہوئے تمام مدعوئین کو اس ماہ مقدس کی مبارکباد پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست حاصل کرنے کے بعد حکومت کا فرض تھا کہ تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب کا احیا کیا جائے ۔ انہیں خوشی ہے کہ ٹی آر ایس حکومت اس راہ پر چل پڑی ہے اور گنگا جمنی تہذیب کی بحالی کے ذریعہ ریاست میں اچھا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک دن میں ریاست کی 200 مساجد میں افطار اور طعام کا انتظام کیا گیا ہے جس میں لاکھوں افراد شرکت کرکے آپس میں خوشیاں بانٹ رہے ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وہ ریاست کے ہر شہری کے چہرے پر خوشی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اس موقع پر کہا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب کے احیا کیلئے سنجیدہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 20 کروڑ روپئے رمضان پیاکیج کیلئے مختص کئے گئے جس میں 5 کروڑ اضلاع اور 15 کروڑ روپئے شہر میں دعوت افطار کیلئے مختص کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ شہر اور اضلاع کی 200 مساجد میں حکومت کی جانب سے افطار کا اہتمام کیا گیا ۔ اس کے علاوہ دو لاکھ غریب خاندانوں میں کپڑے تقسیم کئے گئے ہیں ۔ محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر نے کپڑوں کی تقسیم کے سلسلے میں خواتین کے دو جوڑے پیاکیج میں رکھنے کی سفارش کی تاکہ خواتین کو ایک سے زائد جوڑا بطور تحفہ پیش کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت اور چندر شیکھر راؤ کے اقتدار میں نظامِ حیدرآباد کے دور سے بہتر حالات دکھائی دے رہے ہیں ۔ سیکولرازم کی برقراری اور تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک حکومت کا اہم کارنامہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے عید اور تہواروں کو سرکاری طور پر منایا جارہا ہے اور تمام طبقات آپس میں باہم شیروشکر زندگی بسر کررہے ہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے 71 اقامتی اسکولس کے قیام کا ذکر کیا اور کہا کہ حکومت مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی سے بخوبی واقف ہیں ۔ مسلمان ہر شعبہ میں پسماندہ ہیں ۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ مسلم بچوں کو ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں جدید علوم کا قلم دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی نے مسلمانوں کی پسماندگی پر اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ مسلمان دلت سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں مسلمانوں کو دیگر اقوام کے برابر ترقی کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ مسلمانوں نے 400 برس تک حکمرانی کی لیکن گزشتہ 68 برسوں میں انہیں پسماندگی سے دوچار کردیا گیا ۔ محمود علی نے علما و مشائخین سے بارش ، سنہرے تلنگانہ اور چیف منسٹر کی صحت اور درازی عمر کیلئے دعاؤں کی اپیل کی ۔ چیف منسٹر کے ساتھ 500 انتہائی اہم شخصیتوں کا انکلوژر بنایا گیا تھا ۔ اس کے علاوہ تین علحدہ انکلوژرس بنائے گئے تھے اور ہر ایک میں داخلے کیلئے علحدہ کارڈ تھا ۔ مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے فضائل رمضان بیان کئے اور نماز مغرب کی امامت کی ۔ مولانا حافظ و قاری محمد رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد نے قرأت کلام پاک کا مظاہرہ پیش کیا ۔ عام مدعوئین کے انکلوژر میں حافظ صابر پاشاہ امام و خطیب مسجد حج ہاؤز نے نماز مغرب کی امامت کی ۔ چیف منسٹر اپنی آمد کے فوری بعد مہمانوں سے سب سے پہلے انجمن خادم المسلمین کے یتیم خانے کے بچوں سے ملاقات کی اور ان میں کپڑے تقسیم کئے ۔ انہوں نے بچوں کو حکومت کی جانب سے تمام سہولتیں فراہم کرنے کا تیقن دیا ۔ بعد میں انہوں نے مہمانوں سے فرداً فرداً ملاقات کی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی اور ڈائرکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو عبدالقیوم خاں شخصی طور پر انتظامات کی نگرانی کررہے تھے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے چیف منسٹر کو قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا ۔ دعوت افطار میں مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ ، صدرنشین قانون ساز کونسل سوامی گوڑ ، سکریٹری جنرل ٹی آر ایس ڈاکٹر کے کیشوراؤ ، وزیر داخلہ ایم نرسمہا ریڈی ، رکن راجیہ سبھا ڈی سرینواس ، ارکان قانون ساز کونسل محمد سلیم ، فاروق حسین ، رکن اسمبلی عامر شکیل ، میئر حیدرآباد رام موہن ، ڈپٹی چیف میئر بابا فصیح الدین ، کونسل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد حسن نوریان ، نیوزایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ، ڈی جی پی انوراگ شرما ، کمشنر پولیس مہیندر ریڈی ، کمشنر سائبر آباد سی وی آنند ، صدرنشین اقلیتی کمیشن عابد رسول خاں ، آئی ایس عہدیدار احمد ندیم ، مولانا مفتی خلیل احمد ، مولانا قبول پاشاہ شطاری ، مولانا حبیب العیدروس ، مولانا حامد محمد خاں امیر جماعت اسلامی ، ایم بی ٹی قائد امجد اللہ خاں خالد کے علاوہ ارکان اسمبلی و کونسل ، اعلیٰ حکام ، علما و مشایخین ، ٹی آر ایس اقلیتی قائدین اور کارکنوں نے شرکت کی ۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں سید عمر جلیل ، بی شفیع اللہ ، پروفیسر ایس اے شکور ، محمد اسد اللہ ، سلطان محی الدین ، محمد منور علی و دیگر نے انتظامات کی نگرانی کی ۔

TOPPOPULARRECENT