Friday , July 28 2017
Home / مضامین / مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا سبب اُردو میڈیم نہیں

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا سبب اُردو میڈیم نہیں

محمد مصطفی علی سروری
اس ہفتے کے دوران ہم بھارتیوں کے لیے دو خبریں ایسی تھی جو کہ ہر ایک کے لیے موضوع بحث رہی ہیں۔ ایک تو امریکہ صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی کامیابی کے امکانات اور دوسرا موضوع راتوں رات پانچسو اور ایک ہزار کی نوٹوں کی یکلخت برخواستگی تھی۔ خیر اب بھارتی مسلمانوں کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ بیرون ملک ملازمت کے حصول کی خاطر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی کا مسئلہ انتخابی موضوع بن گیا ہے۔ مشرق وسطی میں معاشی حالات اور سیاسی منظر نامہ جس تیزی سے بدل رہا ہے اُس میں مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں ملازمت کا حصول اب ایک دیرینہ خواب بننے لگا ہے۔ پٹرول کے گرتے دام اب پٹرول پر منحصر معیشتوں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کرنے لگے ہیں۔ اس سارے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد بھارتی مسلمانوں اور خاص کر تلنگانہ کے مسلمانوں کو اسباب کی ترغیب دلانا ہے کہ اب ہمیں اپنی تعلیم اور روزگار کے لیے اندرون ملک و ریاست ہی جدوجہد کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ جو افراد اور انجمنیں مسلمانوں کی ترقی اور بھلائی کے لیے پالیسی تشکیل دے رہے ہیں اُن کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ زمینی حقیقتوں کا صحیح تجزیہ کیے بغیر اعلیٰ سطح پر آپ جو بھی پالیسی بنالیں وہ فائدہ تو دور بلکہ منفی نتائج مرتب کرسکتی ہیں اور میں مبالغہ سے کام نہ لوں تو کررہی ہیں۔ مسلمانوں کی تعلیمی ترجیحات کے حوالے سے گذشتہ قسط میں مَیں نے انٹرمیڈیٹ کی سطح پر امتحان میں شرکت کرنے والے مسلم طلباء کی تعداد کے حوالے سے لکھا تھا کہ اُردو میڈیم سے بہت کم مسلم طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ مسلمانوں کی اکثریت انگریزی میڈیم سے ہی حصول تعلیم کو ترجیح دے رہی ہے جن میں کی تقریباً نصف تعداد ہی کامیابی حاصل کرپائی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے ناکام ہونے والے عوامل کا تجزیہ کیا جائے اور حکومتی اسکیمات ایسی بنائے جائے کہ ناکامی کا فیصد کم سے کم ہو۔ کوچنگ اور اسکالرشپ اس ضمن میں کارآمد ثابت ہوسکتی ہیں۔ تعجب اس بات پر ہے کہ انٹر سال اول اور دوم میں (81912) مسلم طلباء شریک ہوتے ہیں اور ان میں سے نصف سے زائد طلباء (42180) ناکام ہوجاتے ہیں۔ ان حقائق سے قطع نظر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر زر کثیر کے بجٹ سے انگلش میڈیم اقلیتی رہائشی اسکولس کا پراجکٹ شروع کیاگیا جس سے اُردو میڈیم سے پڑھنے والے طلباء کی اقلیتی تعداد بھی زوال آمادہ ہونے لگی ہے۔ پالیسی ساز اسبات کو کیوں کر فراموش کررہے ہیں کہ مسئلہ انگلش میڈیم سے تعلیم حاصل کرتے نہیں ہے۔ مسئلہ مسلم طلباء کی نصف تعداد انگلش میڈیم سے پڑھنے کے باوجود کیوں کر فیل ہوجاتی ہے اس کے سدباب کا ہے۔
اس ہفتے مارچ 2016ء میں منعقد یس یس سی کے امتحانات کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ قانون حق معلومات 2005ء کے تحت لکھی گئی درخواست کہ جواب میں ڈپٹی کمشنر فار گورنمنٹ ایکزام اور اسسٹنٹ کمشنر فار گورنمنٹ ایکزامس نے بتلایا کہ اس برس ریاست تلنگانہ میں (5,55,265) طلباء نے شرکت کی جن میں سے (4,44,828) طلباء نے کامیابی حاصل کی جہاں تک یس یس سی 2016 میں مسلم طلباء کی تعدادکا سوال ہے۔ اس کے متعلق ڈپٹی کمشنر نے بتلایا کہ مارچ 2016 کے یس یس سی امتحان میں جملہ (71,411) مسلم طلباء نے شرکت کی۔ ان مسلم طلباء میں سے کتنے طلباء نے کس میڈیم سے یس یس سی کا امتحان لکھا اُس کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ (59,590) طلباء نے انگلش میڈیم سے یس یس سی کا امتحان لکھا۔ جی ہاں مسلمانوں کی اکثریت پہلے ہی سے انگلش میڈیم سے تعلیم حاصل کررہی ہے۔ یعنی یس یس سی کے امتحان میں (70%) فیصدی مسلم طلباء انگلش میڈیم سے امتحان لکھتے ہیں اور صرف (16.6)فیصدی مسلم بچے اُردو میڈیم سے پڑھتے ہیں اور یس یس سی امتحان اُردو میڈیم سے ہی لکھتے ہیں۔ ہاں یہ بھی سچ ہے کہ (71,411)مسلم بچوں میں سے صرف (11,900) طلباء نے ہی یس یس سی کاامتحان لکھا اور اُن میں سے (5824) طلباء نے ہی کامیابی درج کی۔ یعنی 52 فیصدی مسلم طلباء اُردو میڈیم سے امتحان لکھنے کے بعد ناکام ہوگئے۔ کیا ان بچوں کو اُردو میڈیم کے بجائے انگلش میڈیم سے پڑھنے کے لیے مشورہ مفید ہے یا اُن کی ناکامی کے اسباب کا پتہ چلاکر اُس کا سدباب کرنا ہے۔ مسلمان اُردو کے بعد تلگو میڈیم سے بھی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اس مرتبہ مارچ 2016ء کے یس یس سی امتحان میں (8865) مسلم طلباء نے تلگو میڈیم سے امتحان لکھا (36) مسلم طلباء نے ہندی سے اور (14)مسلم طلباء نے کنڑا ذریعہ تعلیم سے اور6 مسلم طلباء نے مرہٹی ذریعہ تعلیم سے یس یس سی کا امتحان لکھا ہے۔ اُردو میڈیم کے متعلق ایک بات نوٹ کرلینی چاہئے کہ اُردو میڈیم سے پڑھنے والے ننانوے فیصدی طلباء مسلم طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ اُردو میڈیم کے اساتذہ کی نوے فیصدی تعداد بھی مسلمانوں کی ہے انگلش میڈیم کے سرکاری اسکولس کھول کر اُس میں مسلمانوں کے داخلے کی تشہیر اور بحث افزائی سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ‘ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ اس طرح کا سارا کام اُردو میڈیم اسکولس اُردو میڈیم کی ٹیچرس کی جائیدادوں کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے اور سب سے اہم کام تو یہ ہے کہ جب پتہ لگے مسلم طلباء کی اکثریت یس یس سی یا انٹرمیڈیم میں ناکام ہوجاتی ہے تو اس بات کا پتہ لگایا جائے کہ اس کے اسباب کیا ہیں۔ سرکاری اسکولس کی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں جن اسکولوں میں مسلم طلباء زیر تعلیم ہیں اور امتحان میں ناکام ہورہے ہیں۔ وہاں پر امتحان کی تیاری کے لیے کوچنگ کا نظم کیا جائے۔ خصوصی کلاسس کا اہتمام کیا جائے تاکہ مسلم طلباء کی امتحان میں ناکامی کا فیصد کم سے کم کیا جائے۔ شہر حیدرآباد کے امدادی اُردو میڈیم اسکولس مسلم کمیونٹی میں فروغ تعلیم کے لیے گرانقدر تعلیمی خدمات کا ریکارڈ رکھتے ہیں اور ان اسکولس میں تقریباً (20) برسوں سے نئے تقررات بند ہیں۔ اگر تلنگانہ حکومت مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے سدباب کے لیے سنجیدہ ہے تو امدادی اسکولس میں تقررات کرے یہ وہ اسکولس ہیں جہاں بنیادی ڈھانچہ اور مکمل سسٹم پہلے سے موجود ہے۔ نئے اقامتی اسکولس کی طرح ہر چیز کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں اور سرکاری اسکولس کے مقابلے امدادی اسکولس Aidedنتائج کے اعتبار سے کئی گنا بہتر اور معیاری ہیں۔ اعداد وشمار خود حکومت کے ہاں موجود ہے لیکن اقلیتوں کے لیے پالیسی بنانے والے افراد اور اداروں کی نظروں سے یہ چوک کیسی ہوگئی نہیں معلوم ۔ تلنگانہ کے مسلمانوں کو انگلش میڈیم اسکولس کی جتنی ضرورت ہے اُس سے کہیں زیادہ اُردو میڈیم اسکولس کو بند ہونے سے بچانا ہے۔ مسلمانوں کی سماجی ‘ معاشی اور تعلیمی پسماندگی کے سدباب کے لیے زمینی صورتحال کا درست تجزیہ ضروری ہے اور سبھی زاویوں سے مسئلہ کا مطالعہ بھی بقول شاعر
بوجھ بے معنی سوالوں کے اُٹھا رکھے ہیں
ہم نے سو فکر دل و جاں کو لگا رکھے ہیں
[email protected]

TOPPOPULARRECENT