Monday , August 21 2017
Home / مضامین / مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی

محمد ریاض احمد
ہندوستان مسلمان زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح تعلیمی شعبہ میں دیگر ابنائے وطن کے مقابل بہت پیچھے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسلم طلبہ کے اندراج کی شرح، قومی شرح 23.6 فیصد، سے بہت کم ہے 2000 سے 2010 کے ختم تک اعلیٰ تعلیم کے شعبہ میں مسلم طلبہ کے ناموں کے اندراج کا فیصد 5.2 سے بڑھ کر 13.8 فیصد ہوا۔ اس کے برعکس دیگر پسماندہ طبقات کا تناسب 22.1 فیصد درج فہرست ذاتوں کا 18.5 فیصد رہا۔ صرف درج فہرست قبائل ہی 0.5 فیصد کے ساتھ مسلمانوں سے پیچھے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ ہندوستان میں 18 تا 23 سال عمر کے طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم کے لئے اہل ہوتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ناموں کے اندراج یا داخل اندراج کی قومی مجموعی شرح CER (گراس انرولمنٹ ریٹ ) سال 2000-01۔ 12.4 فیصد رہی جبکہ درج فہرست طبقات کے معاملہ میں یہ شرح 7.5 فیصد، اگر پسماندہ طبقات کے معاملہ میں 7.0 فیصد، درج فہرست قبائل کے لئے 6.8 فیصد اور مسلمانوں کے معاملہ میں 5.2 فیصد رہی۔ اگر آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دیگر پسماندہ طبقات کی آبادی 2000-01 میں 32.0 فیصد، درج فہرست طبقات کی آبادی 16.2 فیصد، درج فہرست قبائل کی آبادی 8.3 فیصد بتائی گئی جبکہ اس مدت کے دوران اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ان کی شرح ایس سی کے لئے 10.5 اور ایس ٹی کے لئے 3.2 فیصد رہی۔ جہاں تک خواندگی کی شرح کا سوال ہے مسلمانوں میں یہ 59.1 فیصد، درج فہرست ذاتوں میں 54.7 فیصد اور درج فہرست قبائل میں 47.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کی حالت درج فہرست طبقات و قبائل سے بدتر ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے کورسیس سے متعلق کل ہند سطح پر کئے گئے سروے 2014-15 کے مطابق ہندوستان کی آبادی میں مسلمان 14 فیصد ہیں لیکن اس قدر کثیر آبادی کے حامل ہونے کے باوجود اعلیٰ تعلیمی اداروں میں صرف 4.4 فیصد مسلم طلبہ نے اپنے نام درج کروائے ہیں۔ مسلمانوں کی تعلیمی حالت پچھلے 50 برسوں میں مزید ابتر ہوتی ہے۔ ہم نہیں بلکہ سابقہ یو پی اے حکومت کی جانب سے مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کے لئے 2006 میں مقرر کردہ سچر کمیٹی نے یہ بات کہی ہے۔ سچر کمیٹی کے مطابق 20 تا 30 سال عمر کے حامل درج فہرست طبقات و قبائل کے گریجویٹس کا تناسب 51 سال یا اس سے زائد عمر کے درج فہرست طبقات و قبائل کے قدیم گریجویٹس سے تین گنا زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس کمیٹی نے مسلمانوں کے معاملہ میں یہ پایا کہ قدیم مسلم گریجویٹس کے مقابلہ نوجوان مسلم گریجویٹس کی تعداد دوگنی رہی۔ مسلم مرد اور خواتین میں بھی کافی تعلیمی تفاوت پایا گیا۔ سچر کمیٹی نے اپنی سفارشات میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر مسلمانوں میں پائی جانے والی تعلیمی پسماندگی دور کرنے عملی اقدامات نہیں کئے گئے تو مسلمانوں کی حالت درج فہرست طبقات و قبائل سے بھی گئی گذری ہو جائے گی۔ جسٹس راجندر سچر کی جانب سے حکومت کو رپورٹ پیش کئے دس برس کا عرصہ گذرچکا ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی حالت کے بارے میں منظر عام پر آئی ایک رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سال 2001 سے درج فہرست طبقات اور درج فہرست قبائل میں اعلیٰ تعلیمی کورس میں داخلوں کی شرح میں بالترتیب 147 اور 96 فیصد اضافہ ہوا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیا اقدامات کئے جائیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب کوئی آسان نہیں ہے جواب سے زیادہ اس پر عمل آوری مشکل بلکہ کسی قدر ناممکن ہے۔ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور ملک کا دستور مذہب کی بنیادوں پر طلبہ میں امتیاز کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مسلمانوں کو تعلیمی شعبہ میں تحفظات فراہم نہیں کئے جاسکتے۔ تاہم اس کے لئے ریاستیں مسلمانوں کو انتہائی پسماندہ قرار دیتے ہوئے انہیں تعلیمی شعبہ میں ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی خاطر تحقیقات فراہم کرسکتی ہے۔ اس کے لئے حکومتیں مسلمانوں کی تعلیمی معاشی پسماندگی کو بنیاد بناسکتی ہیں کیونکہ کسی بھی شعبہ میں پائی جانے والی پسماندگی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اطمینان کی بات یہ ہے کہ بعض ریاستوں نے تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں مسلمانوں کی پسماندگی کو تسلیم کرتے ہوئے مسلمانوں کے بعض طبقات کو پسماندہ طبقات کی فہرست میں شامل کیا۔

ایسی ریاستوں میں کیرالا، کرناٹک، آندھراپردیش اور تلنگانہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شمال میں غیر اقلیتی تعلیمی اداروں کی بہ نسبت اقلیتی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کی تعداد کی شرح زیادہ ہے یہ بات سال 2013ء کے تجزیہ میں بتائی گئی۔ مثال کے طور پر جنوبی ہند کے غیر اقلیتی اداروں میں انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کورس میں مسلم طلبہ کی تعداد 9 اور 11 فیصد کے درمیان رہی اور وہاں 7 فیصد مسلم طلبہ نے اسکالرشپ حاصل کی۔ اس کے برخلاف شمال کے غیر اقلیتی تعلیمی اداروں کے انڈر گریجویٹ اور پیشہ وارانہ کورس میں صرف ایک تا تین فیصد طلبہ کے نام دیکھے گئے۔ دوسری جانب شمال کے اقلیتی یونیورسٹی میں مسلم طلبہ کی تعداد کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ان کی تعداد 40 فیصد اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 70 فیصد ہے۔ میڈیا رپورٹ کا جائزہ لینے سیپتہ چلتا ہے کہ ان دونوں یونیورسٹیز کے 50 فیصد مسلم طلبہ اسکالر شپس حاصل کرتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ مسلم ماں باپ میں اپنے بچوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے کا جذبہ پیدا ہوا ہے کیرالا سے تعلق رکھنے والی جرنلزم کی ایک طلبہ رقوسمیہ بتاتی ہیں کہ وہ اپنے خاندان میں جرنلزم پڑھنے والی پہلی لڑکی ہے۔ خاندان کے بزرگ اسے کیریئر کے انتخاب میں لڑکیوں کی ایک جست سے تعبیر کرتے ہیں۔ 23 سالہ سمیہ کو کیرالا یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ جرنلزم کورس میں تحفظات کی بنیاد پر داخلہ ملا ہے۔ ایک اور مسلم لڑکی بھی تحفظات کے باعث سمیہ کے ساتھ جرنلزم کا کورس کوررہی ہے سمیہ کی جماعت میں 20 طلبہ ہیں جن میں تین مسلم طلبہ ہیں۔ دو کو تو تحفظات کی بنیاد پر داخلے ملے ہیں ایک نے میرٹ کی بنیاد پر داخلہ لیا ہے۔ سمیہ کہتی ہیں کہ بعض مرتبہ اسے یہ سوچ کر اچھا نہیں لگتا کہ اس نے دوسرے کی نشست حاصل کی ہے۔ پھر یہ سوچ کر اطمینان ہوتا ہے کہ اسے ایسا موقع ملنا چاہئے تھا، اس میں شک و شبہ کی کوئی کنجائش نہیں ہے کہ مسلمان تعلیمی لحاظ سے کافی پسماندہ ہیں اور اسے جسٹس سچر کی زیر قیادت کمیٹی کے علاوہ رنگناتھ مشرا کمیٹی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ ہاں شہر میں مقیم مسلمانوں میں خواندگی کی شرح زائد از 81 فیصد ہے جو دیگر اقلیتی گروپوں کے مردوں میں پائی جانے والی خواندگی شرح سے بہت کم ہے۔ ہندوؤں میں یہ شرح 91 فیصد عیسائیوں میں 94 فیصد سکھوں میں 86 فیصد اور دیگر میں 95 فیصد پائی جاتی ہے۔ کام کرنے والے مسلمانوں کی تعداد بھی دیگر مذہبی گروپوں کے مقابل بہت کم ہے۔ 1000 افرادی قوت میں 536 مسلمان ہیں جبکہ سکھوں کا تناسب 1000:568 ریکارڈ کیا گیا۔ عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد 1000 میں 540، ہندووں میں 563 اور دیگر میں 573 ہے اور یہ اعداد و شمار 2010ء کی رپورٹ میں بتائے گئے ہیں۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا تھا کہ ماہانہ اوسطاً فی کس مصارف ہندوؤں میں 1023 روپے، دیگر اقلیتوں میں 1000 روپے، کل ہند سطح پر 712 روپے، ہندوؤں میں پائی جانے والی دیگر ذاتوں یعنی OBC میں 640 روپے ، مسلمانوں میں 635 روپے اور ہندوؤں کے درج فہرست طبقات و قبائل میں 520 روپے ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر جابر حسین خان اس بارے میں کہتے ہیں ’’یہی وجہ ہے کہ مالی ترغیبات (اسکالرشپس) اعلیٰ تعلیمی کورس میں مسلم طلبہ کے اندراج میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ شہید بھگت سنگھ یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر صائمہ اقبال کے مطابق شمالی ہند کی یونیورسٹیز کی بہ نسبت جنوبی ہند کی یونیورسٹیز میں نہ صرف طلبہ کی تعداد زیادہ ہے بلکہ اسکالرشپس حاصل کررہے طلبہ کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اور یہ سب کچھ کرناٹک اور آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والے تحفظات کا نتیجہ ہے۔ یونیورسٹی آف کالی کٹ کے سابق وائس چانسلر سید اقبال حسنین نے 2009 کو منظر عام پر آئی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ تعلیم کے معاملہ میں جنوبی اور شمالی ہند کے مسلمانوں میں بڑا فرق پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی طور پر بھی بااختیار ہونے کے لحاظ سے بھی جنوبی ہند کے مسلمان اگے ہیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں جنوبی ہند کے مسلمان خاص طور پر کیرالا، تامل ناڈو، آندھرا پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹرا میں۔ مسلمانوں نے تعلیمی شعبہ میں غیر معمولی پیشرفت کی ہے۔

ان کی بہ نسبت بہار، اترپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، جموں و کشمیر اور ہریانہ کے مسلمانوں نے علمی میدان میں زیادہ پیشرفت نہیں کی۔ جنوبی ہند کے مسلمانوں کے تعلیمی شعبہ میں آگے بڑھنے کی ایک اور وجہ مقامی رہنماؤں کی سیاسی بصیرت بھی ہے جو مسلمانوں کو تعلیمی شعبہ میں اگے بڑھانے کوشاں رہتے ہیں۔ پروفیسر حسنین کے مطابق سیاسی طاقت کے لحاظ سے مسلمانوں کے طاقتور اور بااختیار ہونے کی کیرالا بہترین مثال ہے۔ جنوبی ریاستوں میں مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے بے شمار تعلیمی ادارے چلائے جارہے ہیں۔ جنوبی ریاستوں میں مسلمانوں کی تعلیمی پیشرفت کے لئے مستحکم اسکولی تعلیم بھی ذمہ دار ہے۔ یہاں کے مسلمانوں نے اسکولی تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا پھر کالجوں پر توجہ مرکوز کی اس کے برعکس شمالی ہند کے مسلمانوں کو صرف چند معیاری اسکولوں تک رسائی حاصل ہے۔ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ ہندوستان بھر میں میڈل اسکول کی تعلیم مکمل کرنے والے نصف سے زیادہ مسلم بچے سکنڈری اسکول کے دوران تعلیم ترک کردیتے ہیں۔ 2014ء کی ایک اسٹڈی میں بتایا گیا تھا کہ اعلیٰ تعلیم میں ترک تعلیم کی شرح 13.2 فیصد رہی جبکہ مسلمانوں میں یہی شرح 17.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ 2013-M میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق راجستھان میں پرائمری اسکولس کے 18.5 فیصد مسلم طلبہ ترک تعلیم کرتے ہیں جبکہ اس ریاست میں ترک تعلیم کی شرح 8.4 فیصد اور 6 فیصد تھی۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینیجمنٹ احمد آباد کے پروفیسر اور سچر کمیٹی کے رکن راکیش بسنت اس ضمن میں کہتے ہیں کہ محلہ داری سطح پر معیاری اسکولس قائم کئے جائیں تو تعلیمی شعبہ میں مسلمانوں کی شرح بڑھے گی۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT