Saturday , October 21 2017
Home / اداریہ / مسلمانوں کی ساکھ

مسلمانوں کی ساکھ

یہ امیر کارواں تُو بتا کہ لُٹا تو قافلہ کیوں لُٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے
مسلمانوں کی ساکھ
ہندوستان میں ذات پات، رنگ و نسل کے سیاسی مسائل بناکر فائدہ اٹھانے کے درمیان اگر حیدرآباد یونیورسٹی کے دلت طالب علم ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کے والدین اس ذات پات کی سیاست سے آزاد ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے بدھ ازم قبول کرلیا ہے۔ تو یہ ملک کے اندر بدلتی سیاسی بدانتظامی کی افسوسناک تصویر کو واضح کرتی ہے۔ زندہ ضمیروں پر مبنی معاشرہ کے مردہ ٹھیکیداروں نے ان دنوں جو حالات پیدا کئے ہیں وہ ملک کی تمام اہم جامعات کے ذریعہ ملک بھر میں ابتری کی کیفیت بنتے جارہے ہیں۔ کشمیر میں بدامنی کو ہوا دینے میں کس کا ہاتھ ہے۔ حیدرآباد یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر کو خودکشی کے لئے مجبور کرنے والے کون ہیں۔ دہلی یونیورسٹی میں قوم دشمنی کے نعرے لگانے والے اور اس مسئلہ کو سیاسی ہوا دینے والے کون ہیں۔ مرکز کی بعض طاقتیں اپنے ارادوں کو تعلیمی اداروں سے متصادم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت لوگوں کو معلوم ہوگا کہ تعلیمی اداروں کے اندر تصادم کے حالات کیوں پیدا کئے جارہے ہیں۔ فرقہ پرستی کو ہوا دینے کا مرکز تعلیمی ادارے بنائے جارہے ہیں تو یہ نہایت ہی خطرناک پالیسی اور سازش ہے۔ ملک کے مختلف طبقات کو تحفظات اور مراعات فراہم کرنے کے وعدہ کے ساتھ اب تک جتنی بھی سیاسی پارٹیوں نے اقتدار کی خاطر طبقات میں امتیاز پیدا کئے ہیں۔ اس کے نتائج آج بھیانک شکل بن کر سامنے آرہے ہیں۔ پسماندہ طبقات کے ساتھ ساتھ دلتوں کے لئے تحفظات فراہم کرنے کا معاملہ اب ہندوستان میں عوامی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ قومی پلیٹ فارم پر جاری احتجاج اور دھرنوں کے ساتھ روزگار، تعلیم اور دیگر شعبوں میں کوٹہ کا مطالبہ ہورہا ہے اور تحفظات کی مخالفت کرنے والوں نے بھی اپنا علیحدہ محاذ کھول لیا ہے۔ آزادی کے تقریباً 70 سال بعد بھی ہندوستان کی بیشتر آبادی کچرے اٹھانے والے، بیت الخلا صاف کرنے والے، رکشہ چلانے والے، بے زمین لیبرس اور مسلم بستیوں میں زندگی گزارنے والے نچلی ذات کے افراد خاص کر دلتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی فرد زمیندار یا مالدار نہیں ہوتا جو لوگ زمیندار اور مالدار ہیں وہ تمام اعلیٰ ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اعلیٰ سطح کے بیورو کریٹس، سیاستداں اور تاجر بھی اعلیٰ ذات سے آتے ہیں۔ روزگار میں تحفظات دینے کی پالیسی نئی نہیں ہے۔ آزادی کے بعد تشکیل پانے والی جمہوری حکومتوں نے ملک کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے پسماندہ طبقات کی نشاندہی کرتے ہوئے تحفظات کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ 67 سال سے کمزور طبقات کو تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں مگر دلتوں کی اکثریتی آبادی کا سماجی موقف جوں کا توں ہے اور یہ لوگ آج بھی دلت کی لعنت کا داغ لئے آج کے سماج میں سانس لے رہے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی اقلیت یعنی مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی رویہ اختیار کیا گیا جس کے نتیجہ میں مسلمان بھی اب تک پسماندگی اور محرومی کا شکار ہیں۔ اس ملک کے مفاد پرست سیاستدانوں نے مسلمانوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔ یہ ہر کوئی جانتا ہے مگر اس طرز سیاست کے سدباب کے لئے کوئی آگے آتا دکھائی نہیں دیتا۔ ہندوستانی مسلمانوں نے جب کبھی اپنے حقوق کا دبے ہونٹ مطالبہ کیا ان پر دہشت گردی، فرقہ پرستی، انتہا پسندی کا ہتھیار چلایا گیا۔ مرکز میں اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے آج تک ملک کے اندر جو تماشے کئے ہیں انہی کا نتیجہ ہے کہ بدامنی، احتجاج اور دھرنوں ، عدم رواداری، قتل اور حق تلفی کے واقعات بھرے پڑے ہیں۔ کشمیر سے لے کر حیدرآباد یونیورسٹی تک یہاں سے دہلی تک سیاسی چل بازیوں کا جو بازار گرم کیا گیا اس کے حتمی نتائج نازک ہوں گے۔ مسلمانوں نے جب کبھی اپنے اندر شعور کے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کی کوشش کی ان کے بزدل لیڈروں کو ہتھیار یا آلہ کے طور پر استعمال کرکے حوصلہ شکنی کا تباہ کن کھیل کھیلا گیا۔ اب یہ کھیل ہنوز جاری ہے۔ مسلمانوں کے نام پر مسلمانوں کو نقصان پہونچانے والوں میں خود مسلمانوں کی مسلم قیادت ہے۔ اپنی اپنی مفاد پرستی میں بھی ایک ’’وقار‘‘ ہوتا ہے مگر مسلم قیادت کا دعویٰ کرنے والی طاقتوں نے اس مفاد پرستی کا وقار بھی ملیا میٹ کردیا تو مسلمانوں کی ساکھ تباہ کن ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT