Sunday , October 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / مسلمانوں کی سربلندی و پستی کا راز

مسلمانوں کی سربلندی و پستی کا راز

سید سلطان شکیل (امریکہ)

جب شمع محمدیﷺ روشن ہوئی اور ظلم کے اندھیروں میں اُجالا ہونے لگا تو اسلام کے پروانے شمع محمدیﷺ کے ارد گرد جمع ہونے لگے۔ قریش کے سرداروں کو یہ بات ناگوار گزری اور یہ احساس ہوا کہ ان کی چودھراہٹ کا خاتمہ نہ ہو جائے، کیونکہ نیا دین اسلامی مساوات کا پیغام اور صرف معبود برحق کی عبادت کرنے کی ہدایت دیتا ہے، اس لئے انھوں نے اپنی پھونکوں سے شمع گل کرنے کی کوشش کی۔

جب یہ نہ ہوسکا تو انھوں نے اسلام کے پروانوں کو اذیتیں دینا شروع کیا، تاکہ وہ شمع محمدیﷺ سے دُور ہو جائیں۔ جس طرح ممکن ہوا، ان کو ستایا، گرم دوپہر میں تپتی ریت پر لٹاکر ان کے سینہ پر پتھر رکھا۔ پتھر بھی اتنے وزنی ہوتے کہ ان کی زبان باہر نکل جاتی۔ کبھی انگاروں پر لٹا دیتے اور سینے پر پیر رکھ کر کھڑے ہو جاتے، تاکہ کروٹ نہ بدل سکیں، یہاں تک کہ وہ انگارے سرد ہوجاتے۔ مارتے مارتے جب تھک جاتے تو کہتے کہ ’’میں تجھ پر رحم نہیں کر رہا ہوں، بلکہ مار مارکر تھک گیا ہوں‘‘۔ جس کے جواب میں اللہ اور اس کے رسول کے چاہنے والے صرف یہ فرماتے کہ ’’اگر تونے اسلام قبول نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ تجھ سے بدلہ لے گا‘‘۔ کبھی ان کے گلے میں رسی ڈال کر اوباش لوگوں کے حوالے کردیتے کہ انھیں شہر میں گھسیٹتے پھریں۔ لوہے کو گرم کرکے داغتے، پانی میں ڈبکیاں دیتے، برچھی مارکر ہلاک کردیتے۔
ان اللہ کے بندوں کو حکم یہ تھا کہ اگر اللہ کی خوشی اور ہدایت چاہئے تو ظلم برداشت کرو، یعنی اپنے دفاع کی بھی گنجائش نہیں تھی۔ اس طرح انھوں نے ہر ظلم برداشت کیا، کیونکہ انھیں نور اور ہدایت چاہئے تھی، جو قرآن کی شکل میں ان کے سینوں میں جمع ہو رہی تھی۔ نہ صرف کمزور لوگوں پر ظلم ہوئے، بلکہ صاحب حیثیت لوگوں کو بھی ان کے رشتہ داروں نے ستایا۔ انھیں رسیوں سے باندھ دیتے، چٹائی میں لپیٹ کر دُھواں دیتے اور بعض کو تو برہنہ کرکے مکان سے باہر کردیا۔ یہ تو تھے اللہ اور اس کے رسول کے چاہنے والے، ان ظالموں نے خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں چھوڑا، آپﷺ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں اور ہر طرح سے ستایا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’تم نے یہ سوچا تھا کہ یونہی جنت میں داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ہم نے ابھی تمھیں آزمایا ہی نہیں‘‘۔ پھر فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمایا جاتا ہے مالوں سے اور جانوں سے، تاکہ تمھیں پاک کیا جائے، خبیث اور ایمان والے علحدہ ہو جائیں۔ اے اہل ایمان! صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے بڑھ جاؤ، اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ فلاح پاؤ‘‘ (آل عمران) اس طرح آزماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ہجرت کا راستہ کھولا تو مسلمانوں کو سکون ملا اور ۲۳سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد ہدایت مکمل ہوئی تو مسلمانوں کے دل قرآن پاک کی روشنی سے منور ہو گئے۔

گزرا ہوا زمانہ آج پھر لوٹ آیا ہے، تاریخ اپنے آپ کو دُہرا رہی ہے، پہلے بھی یہودیوں کی سرپرستی تھی اور آج بھی ان ہی کا بول بالا نظر آرہا ہے۔ مسلمانوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے، انھیں ہر طرح سے بدنام کیا جا رہا ہے، ان کے مکانات جلائے جا رہے ہیں، کاروبار تباہ ہو رہے ہیں، زمینات سے بے دخل کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ جنگلوں کی طرف ہانک کر گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ گڑبڑ کا بہانہ بناکر نہتوں پر فائرنگ کی جا رہی ہے، اِنکاؤنٹر کے نام پر مارکر سڑکوں پر پھینکا جا رہا ہے، گاڑی کی سیٹوں سے باندھ کر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ یہ تو وہ مظالم ہیں، جو لوگوں کی نظر میں آگئے، اندرونی طورپر کیا کیا مظالم ڈھائے جا رہے ہوں گے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو یہ ذلت کے دن کیوں دیکھنے پڑ رہے ہیں؟ شاید اس لئے کہ ہمارے بزرگوں نے جن مشقتوں کے بعد قرآن و حدیث کا علم حاصل کیا تھا، جس سے ان کی زندگی میں ہدایت و نور آیا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ترقی و عزت دی، دورِ حاضر کے مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنا رُخ پھیر کر دنیاوی لیڈروں اور غیروں سے امیدیں وابستہ کرلی ہیں۔ جب کہ ہم جانتے ہیں کہ سارا عالم بے بس ہے سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے اور اس کی مرضی کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا، تو دنیا والوں سے امیدیں وابستہ کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اللہ اور اس کی قدرت کی قدر نہیں کرتے۔ یہ اس لئے ہو رہا ہے کہ ہم نے قرآن کو نہ پڑھا، نہ سمجھا، نہ اس کی ہدایت پر عمل کیا اور جاننے والوں نے بھی ہم کو کچھ نہیں بتایا، جب کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ’’جب لوگ خدا کی نافرمانی کریں، اللہ کی اطاعت سے باغی ہو جائیں، آپس میں گردنیں کاٹنے لگیں، اللہ کے دین کو اپنے اعمال سے غلط پیش کریں، شریعت سے بچنے کے لئے دین میں حیلے بہانے تلاش کریں، تو ان کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جائیں گے اور پھر ذلت و خواری ان کی تقدیر ہو تی ہے‘‘ (سورۃ البقرہ) اور یہ بھی فرمایا کہ ’’ہم ان کے اوپر ظالم حکمرانوں کو مسلط کردیتے ہیں‘‘۔ غور کریں! کیا مذکورہ برائیاں ہم میں نہیں پائی جاتیں؟ بلکہ ہم میں وہ برائیاں بھی پائی جاتی ہیں، جن کی وجہ سے سابقہ امتوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’(اے پیغمبر!) جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دیجئے) میں تو (تمہارے) پاس ہوں۔ جب کوئی پکارنے والا پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں، ان کو بھی چاہئے کہ میرے احکام کو مانیں، مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ نیک راستہ پائیں‘‘ (سورۃ البقرہ) یعنی یکطرفہ بات نہیں بنے گی، بلکہ بندوں کو بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ماننا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توبہ کی توفیق بخشے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرماکر اسلام کو سربلندی عطا فرمائے اور تمام مسلمانوں کو ذلت و خواری سے بچائے۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT