Tuesday , October 17 2017
Home / ہندوستان / مسلمانوں کی سماجی،سیاسی اور اقتصادی بہتری تعلیم میں پوشیدہ

مسلمانوں کی سماجی،سیاسی اور اقتصادی بہتری تعلیم میں پوشیدہ

بہار میں تعلیمی بیداری مہم شروع کرنے کا منصوبہ۔ریاستی وزیر اقلیتی اُمور پروفیسر عبدالغفورکا بیان
نئی دہلی، 11 فروری (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے بہار کے اقلیتی امور کے کابینی وزیر پروفیسر عبدالغفور نے کہاکہ اس کے لئے تعلیمی بیداری مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مسلمانوں کی تمام سطح کی پسماندگی کو دور کرنے میں مدد مل سکے ۔گزشتہ دنوں نئی دہلی میں قیام کے دوران انہوں نے یو این آئی اردو سروس سے خصوصی بات چیت میں کہاکہ مسلمانوں کی پسماندگی خواہ وہ اقتصادی ہو یا سماجی، تعلیمی ہو یا سیاسی اس کی تمام جڑ تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ جب تک ہم اسے گھر گھر نہیں پہنچائیں گے اس وقت تک اس سلسلے میں کوئی بھی کوشش پائیدار اور سودمند ثابت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ کوئی مدد اور اسکیم عارضی ہوتی ہے لیکن تعلیم ترقی کا دائمی زینہ ہے ۔ اس سوال کے جواب میں کہ آپ تعلیم کو گھر گھر کیسے پہنچائیں گے اور اس کے لئے لوگوں کو کس طرح بیدار کریں گے، عبدالغفور نے کہاکہ اس لئے ہم نے ایک منصوبہ بنایا ہے جس پر ابھی انفرادی طور پر کام شروع ہوچکا ہے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بڑے پیمانے پر اجتماعی شکل میں ہو اور لوگ ٹیم بناکر تعلیمی بیداری کے لئے گھروں پر دستک دیں، اس کے لئے وہ خود بھی جائیں گے۔

انہوں نے مسلمانوں میں دینی بیداری کے لئے تبلیغی جماعت کی خدمات کا اعترا ف کرتے ہوئے کہاکہ ہم اسی طرز پر ٹیم بناکر لوگوں کے گھروں میں جائیں گے اور تعلیم کے تئیں ان میں بیداری پیدا کریں گے۔ انہوں مسلمانوں کی تمام تنظیموں سے گزارش کی کہ وہ تعلیم کو پہلے نمبر پر رکھیں تاکہ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ اس کی طرف راغب کیا جاسکے ۔ اسی طرح انہوں نے علمائے کرام  سے گزارش کی کہ وہ اپنے متبعین سے کہیں کہ وہ بھی اس میدان میں اپنا گراں قدر رول ادا کریں۔ انہوں نے کہاکہ تبلیغی جماعت کی طرح ہمیشہ محنت نہیں کرنی پڑے گی ۔ایک نسل اگر تعلیم یافتہ بنادی گئی تو پوری نسل کی حالت سدھر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بہار اس سلسلے میں عہدکی پا بند ہے اور تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دے رہی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملازمت میں 35 فیصد خواتین کے لئے سیٹیں مختص کی ہیں لیکن افسوس یہ ہے اس سے مسلم خواتین بہت زیادہ فائدہ نہیں اٹھاسکیں گی کیوں کہ مسلم خواتین میں تعلیم کی شرح بہت کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ بہار میں کوئی ایسا گاؤں ایسا نہیں ہے جہاں اسکول یا تعلیم کا نظام نہ ہو ۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی ہمارے اور مسلم قائدین کے لئے لمحہ فکر ہے ۔ وزیر موصوف نے مسلمانوں سے بھیک مانگنے والوں کی فہرست سے باہر آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مسلمان اس وقت لینے والوں کی حالت میں ہیں اور اس وقت تک یہ قوم ترقی یافتہ قوم نہیں کہلا سکتی جب تک وہ دینے کی حالت میں نہ آجائے ۔

TOPPOPULARRECENT