Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کی سماجی ‘ معاشی و تعلیمی حالت سدھارنے تحفظات ہی واحد راستہ

مسلمانوں کی سماجی ‘ معاشی و تعلیمی حالت سدھارنے تحفظات ہی واحد راستہ

ریاست کے مسلمانوں کی رائے ۔ مقصد کے حصول تک ’ سیاست ‘کی تحریک سے وابستگی کا عزم ۔ اضلاع میں شعور بیداری ریلیاں اور نمائندگیوں کا سلسلہ جاری

حیدرآباد 9 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے مہم نے ریاست بھر کے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کردیا ہے کہ مسلمانوں کی موجودہ نسل اور ان کی آئندہ نسلوں کی معاشی ‘ تعلیمی اور سماجی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے تحفظات کی فراہمی ہی اہمیت کی حامل ہے اور تحفظات حاصل کرتے ہوئے ہی مسلمانوں کی نئی نسل ترقی کی منزلیں طئے کرسکتی ہے ۔ روزنامہ سیاست کی جانب سے 12 فیصد مسلم تحفظات کو یقینی بنانے کیلئے جو مہم شروع کی گئی ہے وہ مسلسل عوامی مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہے اور ریاست کے مسلمان جوش در جوش اس مہم سے جڑتے ہوئے حکومت سے مختلف سطح پر مسلسل نمائندگیاں کرتے جا رہے ہیں۔ ریاست کے مسلمانوں کا احساس ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ تحریک کے دوران اور انتخابی مہم کے دوران 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا انہیں اس وعدہ کو بہرصورت پورا کرنا چاہئے ۔ اس وعدہ کی تکمیل کی بجائے نت نئے انداز سے ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کرنے کو مسلمان قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ریاستی حکومت نے اسمبلی میں جو قرار داد منظور کرتے ہوئے اسے مرکزی حکومت کو روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس پر مسلمانوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے ۔ مسلمانوں کا یہ احساس ہے کہ حکومت کو ٹال مٹول کی پالیسی ترک کرتے ہوئے راست مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ بی سی کمیشن سے یہ مسئلہ رجوع کرے ۔ بی سی کمیشن کو ہی یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مسلمانوں کی سماجی ‘ معاشی اور تعلیمی پسماندگی کو بنیاد بناکر انہیں تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کرے ۔ اس کے علاوہ بی سی کمیشن کی سفارش کے ذریعہ دئے جانے والے تحفظات ہی قابل بھروسہ ہوسکتے ہیں اور انہیں قانونی کشاکش میں بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس سے مسلمانوں کو فوری طور پر فائدہ ہوسکتا ہے ۔ صرف ضابطہ کی تکمیل کی جاتی ہے تو یہ عمل قانونی رسہ کشی کا شکار ہوجائیگا اور مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی محض خواب بن کر رہ جائیگی ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے وعدہ کو پورا کرنے کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کرے اور حکومت کی سنجیدگی صرف بی سی کمیشن کی تشکیل کے ذریعہ ظاہر ہوسکتی ہے ۔ ریاست کے مسلمان 12 فیصد تحفظات کے حصول تک جدوجہد کا عزم کرچکے ہیں اور انہوں نے روزنامہ سیاست کی جانب سے شروع کردہ مہم کو مستحکم کرنے کا بیڑہ اٹھالیا ہے ۔ وہ اپنے مقصد کے حصول تک جدوجہد کرنے کمربستہ ہیں۔ اسی سلسلہ کی کڑی کے طور پر آج بھی تلنگانہ کے تمام اضلاع میں نمائندگیاں کی گئیں اور عوام میں شعور بیداری پروگرامس منعقد ہوئے ۔ نظام آباد میں سیاست کی تحریک کا زبردست اثر دیکھا جا رہا ہے ۔ یہاں مسلم لیگ کی جانب سے آج جمعہ کے موقع پر مسلم لیگ قائدین نے محمدیہ مسجد محمدیہ کالونی میں دستخطی مہم چلائی ۔ مسلمانوں میں تحفظات کی اہمیت اور نوجوانوں کو ہونے والے فائدہ سے واقف کرواتے ہوئے تقریبا ایک ہزار دستخطیں حاصل کیں۔ نظام آباد کے عوام کا تاثر تھا کہ ٹی آر ایس کو اقتدار سنبھالے ہوئے 15 مہینے سے زیادہ وقت ہوچکا ہے اس لئے اب حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ تحفظات کی فراہمی کا عمل بی سی کمیشن کی تشکیل کے ذریعہ شروع کرنا چاہئے ۔ مسلم لیگ کے ضلع صدر و سابق کارپوریٹ ایم اے مقیت کی قیادت میں نائب صدر رفیق الرحمن ارشد ‘ شرجیل پرویز ‘ متین ‘ محمد سمیر و دیگر نے دستخطی مہم منعقد کی ۔ سر پور ٹاؤن میں نائب قاضی سید عنایت علی صابری اور دوسروں کی نگرانی میں جامع مسجد پر تمام مصلیان نے ایک جلوس کی شکل میں ریلی منعقد کی ۔ جلوس و ریلی میں نائب قاضی سید عنایت ‘ جی صابر ‘ حافظ محمد علی الدین ‘ وظیفہ یاب مدرس ماسٹر خورشید علی خاں ‘ سابق معاون رکن محمد حسین سعید ‘ دکن گرام پنچایت محمد عفت حسین ‘ حافظ ایم اے فاروق ‘ ایم اے خیر ‘ توفیق احمد اور نوجوانان سرپور کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ بعد ازاں مختلف گروپس کی شکل میں یہ ریلی تحصیلدار آفس پہونچی اور تحصیلدار آفس کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تحفظات فراہم کرنے کیلئے اقدامات کرے ۔ احتجاجی قائدین اور عوام نے کہا کہ صدر ٹی آر ایس کو اپنے وعدہ کی تکمیل سے منہ نہیں موڑنا چاہئے ۔ مکتھل میں میں بھی 12 فیصد تحفظات کے مطالبہ پر یادداشت پیش کی گئی ۔ مسلمانان مکتھل کے ایک وفد نے تحصیلدار آفس پہونچ کر مسٹر انجی ریڈی کو ایک یادداشت حوالے کی اور مطالبہ کیا کہ چیف منسٹر کو مسلمانوں کے احساسات سے واقف کروایا جائے اور مسلم تحفظات کے وعدہ کو پورا کرنے پر زور دیا جائے ۔ وفد نے کہا کہ ریاست میں اب جو تقررات ہو رہے ہیں انہیں روک کر پہلے تحفظات فراہم کئے جائیں تاکہ تقررات میں مسلم نوجوانوں کو بھی فائدہ ہو اور وہ بھی روزگار سے وابستہ ہوسکیں۔ اس وفد میں غلام عباس علی ‘ مولانا عبدالقوی حسامی ‘ ایم اے حمید پٹیل ‘ ڈاکٹر ابوبکر ‘ عبدالباری ‘ اصغر علی کونسلر ‘ انور علی کونسلر ‘ سالم چاؤش ‘ عاصم حسین ‘ عبدالمنان ‘ خواجہ نصیر الدین ‘ خطیب مجسد غیاث الدین ‘ نصیر الدین برہان ‘ ڈاکٹر منور علی ‘ محمد اسمعیل اور دوسرے شامل تھے ۔

TOPPOPULARRECENT