Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کی سیاسی و مسلکی بنیاد پر تقسیم کا عمل شروع

مسلمانوں کی سیاسی و مسلکی بنیاد پر تقسیم کا عمل شروع

۔2014 ء عام انتخابات کا فارمولہ مہاراشٹرا کے بعد آسام میں کامیاب، اگلا نشانہ یو پی

حیدرآباد۔23مئی(سیاست نیوز) بھارتیہ جنتا پارٹی نے مہاراشٹرا اور آسام میں سیکولر ووٹ کی تقسیم کے تجربہ کی بنیاد پر یہ دعوی کرنا شروع کر دیا ہے کہ اتر پردیش میں بھی بی جے پی اقتدار حاصل کرے گی۔ اتر پردیش میں جو صورتحال پیدا ہو رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کون کس کے لئے کام کر رہا ہے اور کونسی طاقتیں کس جماعت کو مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ بی جے پی نہ صرف سیکولر ووٹ منقسم کرنے میں مصروف ہے بلکہ مسلم ووٹ کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کرنے کی منصوبہ سازی کرچکی ہے اور اس منصوبہ سازی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کن گوشوں کی مدد حاصل ہے یہ بات بھی عیاں ہوچکی ہے لیکن بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور درپردہ حلیف جماعت کو حاصل ہوئی ذلت آمیز شکست کے بعد حکمت عملی میں معمولی تبدیلی کے ذریعہ نہ صرف سیاسی طور پر سیکولر ووٹ تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ مسلمانوں کو مسلک کے خانوں میں تقسیم کرتے ہوئے اس کا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں بھی عروج پر ہیں۔ بہار میں جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس وقت بہار کے عوام نے اپنے سیاسی شعور کا ثبوت دیا تھااور یہ صورتحال نے مغربی بنگال ‘ آسام ‘ تمل ناڈو میں سیاسی سازشوں میں ملوث افراد کے خوابوں کو چکناچور کردیا جبکہ مغربی بنگال میںمسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کا خواب سجائے

یہ اعلان نام نہاد مسلم ہمدردوں کی جانب سے 2009سے کیا جا رہا تھا کہ ہم مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آواز بنیں گے لیکن 2011میں بھی بنگال یاد نہیں آیا اور نہ ہی اب جبکہ مہاراشٹرا اور بہار کا تجربہ ہوچکا تھا اس کے باوجود 2016میں بھی بہار کے مسلمانوں کی پسماندگی یاد نہیں آئی اس کی وجوہات کا بہ آسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے لیکن اب اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کیجانب سے کامیابی کے دعوؤں سے ایسا لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے آسام کے طرز پر درپردہ حلیف تیر کر لیا ہے جو اتر پردیش میں نہ صرف سیاسی طور پر مسلمانوں کو منقسم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ ایسے گوشے بھی تیار کر لئے گئے ہیں جو مسلک کی بنیادوں پر مسلم ووٹ کو منقسم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ بی جے پی کی سازشی ذہنیت کس طرح سے ملک کی سیاست پر اثر انداز ہو رہی ہے اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ فرقہ پرستوں کو مستحکم بنانے کیلئے فرقہ پرست ہی مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دو طرفہ فرقہ پرستی کو ہوا دیتے ہوئے مذہب کے نام پر عوام کو تقسیم کرنے کا کام جو لیا جا رہا ہے وہ سب پر عیاں ہے کہ کون مہاراشٹرا میں مدد گار ثابت ہوا اور کسے بہار میں خفت اٹھانی پڑی ۔ آسام میں بھائی کے بھروسہ مداخلت نہ کرنے والوں کے تعلقات صدر بی جے پی سے کس حد تک بہتر ہے یہ آسام کے علاوہ یہاں کے بھائی بھی جانتے ہیں ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے منصوبہ ساز گروہ نے جو ناگپور سے کام کرتا ہے اس بات پر حیرت زدہ تھا کہ مہاراشٹرا میں کامیاب ہوئی حکمت عملی بہار میں کیوں ناکام ہوئی اور وہی حکمت عملی آسام میں کیسے کامیاب ہو گئی؟

اس مسئلہ پر اس گروہ نے جائزہ اجلاس منعقد کرنے کے بعد اتر پردیش میں کامیابی کے دعوے کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب مہاراشٹرا اور بہار میں صرف سیکولر ووٹ کی سیاسی تقسیم کی حکمت عملی تیار کی گئی تھی مہاراشٹرا کے نتائج نے بہر کے عوام کو چوکنا کردیا تھا لیکن آسام میں عوام پر بہار کے نتائج کا اثر نہ ہونے کی بنیادی وجہ بدر الدین اجمل کی سیاسی جماعت ہے جس نے انتخابات سے قبل بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے سیکولر محاذ کی تشکیل میں رکاوٹ پیدا کی اور ان کے ان دعوؤں کے درمیان ایک گوشے کی جانب سے مسلکی شدت پسندی کو ہوا دیتے ہوئے دو طرفہ وار کیا گیا جس کے بی جے پی کے حق میں بہتر نتائج برآمد ہوئے۔ان نتائج نے بی جے پی کے منصوبہ ساز گروہ کے حوصلوں میں اضافہ کیا ہے اور وہ اتر پردیش کے مجوزہ انتخابات میں سیکولر ووٹ کی تقسیم کیلئے در پردہ حلیفوں کا استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے ہیں ۔ آسام میں مقامی مدد حاصل ہونے کے سبب حیدرآباد کی سمت نہیں دیکھا گیا لیکن اترپردیش میں آسام کی طرح مدد حاصل نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے اتر پردیش میں مہاراشٹرا اور بہار کی طرح نام نہاد قائدین کے استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT