Tuesday , August 22 2017
Home / اے پی ڈائری / مسلمانوں کی ضروریات اور حکومت کی پالیسیاں

مسلمانوں کی ضروریات اور حکومت کی پالیسیاں

 

تلنگانہ ؍ اے پی ڈائری        خیر اللہ بیگ
حج ہاوز میں عازمین حج کے قافلوں کی روانگی کے روح پرور مناظر کے درمیان عازمین کو بے شمار مشکلات اور ناقص انتظامات کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔اس ہفتہ حکومت تلنگانہ کی اہم پالیسیوں کا اعلان بھی ہوا ہے۔ تقریباً تین ماہ بعد منعقد ہوئے کابینی اجلاس میں حکومت نے سستی شراب کی پالیسی ترک کردی تو تلنگانہ میں مزید نئے اضلاع قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست کے ہر ضلع کی آبادی کم از کم 19 لاکھ نفوس پر مشتمل ہونی چاہیئے جبکہ تلنگانہ میں ہر ضلع کی آبادی اس وقت تقریباً 35 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جس سے ضلع کا نظم و نسق سنبھالنا ایک محکمہ کیلئے مشکل بن جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اضلاع کی تشکیل سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ضلع کلکٹر کے طور پر آئی اے ایس آفیسرس کو ان کا جائز عہدہ مل جائے گا۔ آئی پی ایس کامیاب کرنے والوں کو ضلع سپرنٹنڈنٹ پولیس بنایا جائے گا اور دیگر بیورو کریٹس کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق عہدے ملیں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ چین کا دورہ کرکے آنے کے بعد ریاست کی ترقیاتی پالیسیوں کو مزید موثر بنائیں گے۔ چیف منسٹر نے خالی سرکاری خزانہ پر زائد بوجھ ڈالتے ہوئے 2کروڑ روپئے کے خرچ کے ساتھ خصوصی طیارہ میں سفر کیا۔

ہندوستان جیسے ملک میں جہاں 100 سے زائد کھرب پتی شہری رہتے ہیں اور ان کی آمدنی 175بلین امریکی ڈالر ہے، وہاں ایک ایسی ریاست وجود میں آئی ہے جس کو اپنی سرزمین پر پائے جانے والے وسائل کو مجتمع کرکے اپنے شہریوں کو ترقی دینے سے مواقع حاصل ہوسکتے ہیں۔ تلنگانہ کے وسائل پر ہر ایک صنعت کار کی نظر ہے مگر سابق میں ان وسائل کو آندھرائی قائدین نے اپنے اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کیا تھا جس کی شکایت کی بنیاد پر ہی تلنگانہ تحریک شروع کی گئی اور حصول تلنگانہ کو یقینی بنایا گیا تھا۔ اب  چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ان وسائل کو کس حد تک استعمال کرکے اپنے عوام کو لے کر ایک ترقی یافتہ ریاست بنائیں گے ان کی خوبیوں اور پالیسیوں سے واضح ہوگا۔ فی الحال اکنامک فورم کانفرنس سے واپسی کے بعد چیف منسٹر میں کیا تبدیلی آئے گی یہ عوام دیکھنے کیلئے منتظر ہیں۔ ریاست کے دارالحکومت حیدرآباد میں روز مرہ ہونے والے افسوسناک واقعات میں کوئی کمی تو نہیں آئی ہے، حادثے ہورہے ہیں، سڑکیں موت کا کنواں ہونے کا موقف برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ شہریوں، بچوں اور ضعیفوں کے مزاج اور جسمانی صحت پر منفی اثرات کے درمیان کالجوں، اسکولوں میں ریاگنگ بچوں کی اموات کے دلسوز واقعات نے ہر ایک کو دکھی کردیا ہے۔ انجینئرنگ کالج کے نوجوان طالب علم نے ساتھیوں کی ریاگنگ سے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کرلی تو ایک خانگی اسکول کے دسویں کے طالب علم کو ساتھی طالب علم نے زدوکوب کرکے موت کی نیند سلادیا۔ ایسے حادثے شہر کی ترقی کی فضاء پر حکومت کے بلند عزائم کی لہروں کا رُخ بدلتے ہیں تو اس سے بدنامی ہی ہوگی۔ خانگی اسکولوں اور انجینئرنگ کالجس میں اصول و ضوابط پر عمل آوری کے فقدان نے حالات کو جوں کا توں چھوڑ دیا ہے۔

بچوں میں جارحیت پسندانہ رویہ ان کے ضدی پن اور سرپرستی کی بد مزاج مثال رونما ہورہی ہے۔ ریاگنگ کو غیرانسانی حرکت قرار دیا جاتا ہے، ذہنی طور پر کسی کو زچ کرنا اور جرائم کا سہارا لے کر ایک طالب علم کو مرنے پر مجبور کرنے کی حد تک ستانا غلط حرکت ہے۔ ریاگنگ کے ہمیشہ ہی بھیانک نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ لیکن کالجوں اور اسکولوں میں ہونے والی اس طرح کی متوقع حرکتوں کے باوجود متعلقہ انتظامیہ طلباء پر نگرانی رکھنے کے انتظامات نہیں کرتا۔ ایک طرح سے ریاگنگ اور طلباء میں گھونسہ بازی کے واقعات پر چشم پوشی اختیار کرنے سے بھی جانی نقصانات ہوئے ہیں۔ ریاگنگ ایک نرم گوشہ رکھنے والا مسئلہ ہے اور جب یہ مسئلہ ان حدوں کو پار کرلیتا ہے تو جانی نقصان ہوتا ہے۔ طلباء میں دوستی اور تعلق کی ایک حد مقرر ہونی چاہیئے، جب طلباء دوستی کے مرحلہ کو شدت پسندی کے ساتھ کسی کو ہراساں کرنے کی حد عبور کرلیتے ہیں تو نوجوان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے جہاں ایک طرف اسکولوں اور کالجوں کے طلباء کے لئے اسکالر شپ اور بہتر سہولتیں فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے وہیں ایسے خانگی انجینئرنگ کالجس اور اسکولوں کے لئے بھی سخت اُصول و ضوابط بناکر ہر اسکول میں سرکاری نگرانکار کا تقرر کرنے کو لازمی قرار دیا جانا چاہیئے تاکہ جرائم کی حد تک ہونے والے نقصانات کا تدارک ہوسکے۔ اسکولوں میں پولیس کی وقتاً فوقتاً گشت بھی ہونی چاہیئے۔ اسکول و کالج انتظامیہ کو اس خصوص میں سخت اقدامات کرنے ہوں گے، مگر جن طلباء کے ساتھ اسکول انتظامیہ کا نرم رویہ رہتا ہے وہی لوگ سارا اسکول اور کالج سر پر اُٹھائے پھرتے ہیں۔

چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حج ہاوز پہونچ کر جب عازمین کے تیسرے قافلے کو جھنڈی دکھائی تو اس موقع پر ان کی اقلیت نواز پالیسی بھی ظاہر ہونے لگی تھی۔ انہوں نے عازمین حج کے سامنے وعدہ کیا کہ وہ ریاست کو ترقی دینے کے ساتھ اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دیں گے۔ ریاست کی ترقی اور گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کے ذریعہ تمام طبقات کی بھلائی اور ریاست میں امن و امان کا ماحول پیدا کرنے کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے حج کے مقدس سفر پر جانے والوں کو مبارکباد دی۔ یہ بات درست ہے کہ کروڑہا افراد ہر سال حج کی سعادت حاصل کرنے کی تمنا رکھتے ہیں مگر بہت کم خوش نصیب ہوتے ہیں جن کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے، ان کیلئے میدان عرفات کا وہ منظر دیکھنے کا موقع ملتا ہے جہاں دنیا کا سب سے بڑا عالم گیر انسانی اجتماع ہوتا ہے۔

کم و بیش50لاکھ مرد و خواتین، بوڑھوں اور جوانوں کے اس اجتماع میں دنیا کے گوشے گوشے سے ہر رنگ و نسل اور ہر زبان و قومیت کے افراد کائنات کے خالق و مالک کی کبریائی کا اعلان کرنے کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ حج کے اس اجتماع کا ایک بنیادی مقصد مسلمانان عالم کو ان کی ذمہ داری کی یاددہانی بھی کرتا ہے جو اللہ نے انہیں قرآنی اصطلاحات کے مطابق خیر امت، شاہد حق اور امت وسط کے مرتبے پر فائز کرنے عائد کی ہے۔ آج مسلمان اللہ کے اصطلاحات کو فراموش کرچکے ہیں تو ان کی بادشاہی چھن رہی ہے اور ان پر کافر طاقتیں غالب آرہی ہیں۔ عالم اسلام میں اس وقت حج و قربانی، جذبہ ایثار کی فضاء پائی جاتی ہے تو دوسری جانب مخالف اسلام طاقتوں کے آلہ کار بن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات پر فلم کی تیاری کرتے ہوئے گستاخی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایران کے فلم ساز کی فلم  ’’ محمد ؐ  ‘‘کے خلاف ساری دنیا کے مسلمانوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز نے اس فلم کی تیاری کی مذمت کی ہے اور اس حرکت کو ناپاک جسارت قرار دیا ہے۔ حیدرآباد میں مخالف اسلام طاقتوں کے خلاف ہمیشہ آواز بلند ہوتی ہے لیکن اس مرتبہ گستاخانہ فلم کے بارے میں مسلمانوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ فلم کی نمائش پر پابندی کیلئے زور دیا جارہا ہے۔ حکومت ایران پر دباؤ ڈالا جانا ضروری ہے کہ وہ اس فلم پر پابندی عائد کرے۔ فلم کے کچھ حصوں کی شوٹنگ کی اجازت کیلئے تین سال قبل ہندوستان کی منموہن سنگھ حکومت سے اپیل کی گئی تھی لیکن منموہن سنگھ نے اس فلم کی شوٹنگ ہندوستان میں کرنے کی اجازت نہیں دی تھی جس کے بعد فلم کو تہران کے قریب ہی ایک کھلے میدان میں مکہ معظمہ کے قدیم محلات ، مکانات اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے دور کے مناظر کے لئے سیٹس بناکرفلم کی شوٹنگ کی مذموم حرکت کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فلم کو حکومت ایران کی سرپرستی حاصل ہے اور ایران میں اس فلم کی نمائش کے بعد دنیا بھر میں دیگر گستاخانہ و ناپاک اسکرپٹ رکھنے والوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ ایسی فلموں کے خلاف اب تک عالم اسلام میں زبردست احتجاج ہوتا رہا تھا مگر ایران کے فلم ساز کی اس گستاخانہ حرکت پر عالم اسلام کی خاموشی پر افسوس کیا جارہا ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT