Monday , August 21 2017
Home / فیچر نیوز / مسلمانوں کی معیشت سدھارنے میں سعودی عرب کا اہم رول

مسلمانوں کی معیشت سدھارنے میں سعودی عرب کا اہم رول

ہندوستان کے مسلمان سب سے زیادہ مستفید

عامر علی خاں
ہندوستان اور سعودی عرب کے مابین ہمہ جہتی تعلقات ہیں۔ اس سے دونوں ملکوں کے صدیوں قدیم معاشی اور ثقافتی رشتوں کا تپہ چلتا ہے ۔ ہندوستان اور سعودی عرب قدیم کاروباری پارٹنرس ہیں۔ ان کے تجارتی تعلقات کئی صدیوں قدیم ہیں۔ وزارت خارجہ حکومت ہند کے بموجب ایک اہم شراکت دار کے علاوہ ہندوستان ‘ سعودی عرب کو اپنی توانائی سکیوریٹی کا ایک اہم ستون سمجھتا ہے اور سرمایہ کاری ‘ مشترکہ پراجیکٹس ‘ ٹکنالوجی کی منتقلی کے پراجیکٹس کیلئے ایک اہم معاشی پارٹنر بھی سمجھتا ہے ۔
قدیم ہندوستان اور عربستان کے مابین تجارتی اور ثقافتی تعلقات اور رشتے تیسری صدی قبل مسیح سے ہیں۔ عصر حاضر کے ہندوستان اور سعودی عرب کے مابین رسمی سفارتی تعلقات 1947 میں ہندوستان کی آزادی کے فوری بعد قائم ہوگئے تھے ۔ سعودی عرب ہندوستان کو تیل سربراہ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ ہندوستان کی تیل کی جملہ ضروریات کا پانچواں حصہ سعودی عرب سے آتا ہے ۔
سعودی عرب نے ہندوستان کی معاشی ترقی میں اہم رول نبھایا ہے ۔ سعودی عرب دنیا میں ہندوستان کی ایکسپورٹس کیلئے پانچویں بڑی مارکٹ کی حیثیت بھی رکھتا ہے اور ہندوستان کی عالمی ایکسپورٹس میں 3.6 فیصد حصہ سعودی عرب جاتا ہے ۔ ہندوستان سے سعودی عرب کی درآمدات 7 بلین ڈالرس مالیتی ہیں جو ہندوستان 2015 میں ہندوستان کی جملہ ایکسپورٹس کا 2.7 فیصد حصہ رہا ہے ۔ ہندوستان سے جو اشیا زیادہ تر سعودی عرب کو برآمد کی جاتی ہیں ان میں تیل ‘ اناج ‘ مشینری ‘ لوہا یا فولادی پیداوار ‘ آرگانک کیمیکلس ‘ گوشت ‘ گاڑیاں ‘ سیرامک اشیا ‘ الیکٹرانک آلات اور کپڑے وغیرہ شامل ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب بھی ہندوستان کی کئی صنعتی ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ سعودی عرب قدرتی وسائل کی مالیت اور کثرت میں دنیا کے 10 بڑے ممالک میں تیسرا مقام بھی رکھتا ہے ۔ 2015 میں سعودی عرب سے ہندوستان کو برآمدات جملہ 21.4 بلین ڈالرس کے رہے جو ہندوستان کی جملہ در آمدات کا 5.5 فیصد حصہ تھا ۔ سعودی عرب سے ہندوستان کو جو اشیا برآمد کی جاتی ہیں ان میں تیل ‘ آرگانک کمیکلس ‘ پلاسٹکس ‘ کھادیں ‘ جواہرات ‘ قیمتی دھاتیں ‘ طیارے ‘ اسپیس کرافٹ ‘ غیر آرگانک کمیکلس ‘ المونیم ‘ تانبہ اور دوسری کیمیاوی اشیا شامل ہیں۔
ممالک کے اعتبار سے ہندوستان میںراست بیرونی سرمایہ کاری کے جوائنٹ وینچرس میں سعودی عرب کو 15 واں مقام حاصل ہے ۔ اگسٹ 1991 سے ڈسمبر 1999 تک اس نے 6.3 ملین ڈالرس کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ اس کے علاوہ اس نے جنوری 2000 سے اگسٹ 2008 کے درمیان 10 ملین ڈالرس کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ سعودی عرب سے جو سرمایہ کاری کی جاتی ہے وہ کئی شعبہ جات میں ہوتی ہے ۔ ان میں پیپر مینوفیکچرنگ ‘ کمیکلس ‘ کمپیوٹر سافٹ ویر ‘ گرانائیٹ پراسیسنگ ‘ صنعتی پیداوار اور مشینری ‘ سمنٹ ‘ دیگر صنعتیں وغیرہ بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب ہندوستانی کمپنیوں کو اپنی سرزمین پر تجارتی مواقع بھی فراہم کرتا ہے ۔ سعودی سرمایہ کاری اتھاریٹی سروے کے بموجب ہندوستان کے سعودی عرب میں 56 راست بیرونی سرمایہ کاری پراجیکٹس ہیں جن کی مالیت 304 ملین سعودی ریال کی سال 2005 میں تھی ۔ سعودی عرب جنرل انوسٹمنٹ اتھاریٹی کے بموجب اس نے اپریل 2015 تک ہندوستانی کمپنیوں کو 426 مشترکہ وینچرس یا صد فیصد مالیتی اداروں کے قیام کیلئے لائسنس جاری کئے ہیں۔ یہ لائسنس بھی مختلف شعبوں میں جاری کئے گئے ہیں جن میں مینجمنٹ و کنسلٹنسی خدمات ‘ تعمیراتی پراجیکٹس ‘ ٹیلی کمیونیکیشن ‘ انفارمیشن ٹکنالوجی ‘ فارما سیوٹیکلس وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ہندوستانی کمپنیوں نے سعودی عرب کی مختلف کمپنیوں کے ساتھ بھی اشتراک کیا ہوا ہے اور وہ مملکت میں ڈیزئننگ ‘ کنسلٹنسی ‘ معاشی خدمات اور فاسٹ ویر ڈیولپمنٹ جیسے شعبہ جات میں کام کر رہی ہیں۔ سعودی عرب میں جو بڑی ہندوستانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں ان میں لارسن اینڈ ٹوبرو ( ایل اینڈ ٹی ) ‘ ٹاٹا کنسلٹنسی سرویس ( ٹی سی ایس ) ‘ ٹیلی کمیونیکیشن کنسلٹنسی انڈیا لمیٹیڈ ( ٹی سی آئی ایل ) ٹاٹا موٹرس ‘ وپرو ‘ ڈائم پنج لائیڈ ‘ شاپورجی پالونجی ‘ انفوسیس ‘ ائر انڈیا ‘ گودریج اینڈ بوئیس ‘ جیٹ ائرویز ‘ اسٹیٹ بینک آف انڈیا ‘ افکانس ‘ کلپاترو پاور ٹرانسمیشن ‘ انجینئرنگ پراجیکٹس آف انڈیا لمیٹیڈ ( ای پی آئی ایل ) وغیرہ شامل ہیں۔
جنوری 2006 میںسعودی عرب کے شاہ عبداللہ نے ہندوستان کا خصوصی دورہ کیا تھا ۔ 51 سال میں ہندوستان کا دورہ کرنے والے وہ پہلے سعودی بادشاہ تھے ۔ سعودی حکمران اور اس وقت کے ہندوستانی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ایک حکمت عملی توانائی شراکت کیلئے ایک معاہدہ پر دستخط کئے تھے جسے دہلی اعلامیہ کا نام دیا گیا تھا ۔ اس معاہدہ کی رو سے طویل مدتی معاہدوں کے ذریعہ ہندوستان کو خام تیل کی قابل بھروسہ مستحکم اور اضافی سربراہی کو یقینی بنایا گیا تھا ۔ سعودی عرب سالانہ ہندوستان کو تقریبا 175 ملین بیاریلس ( 25 میٹرک ٹن ) خام تیل سربراہ کرتا ہے ۔ وزیر اعظم ہند کی حیثیت سے ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 2010 میں سعودی عرب کا جوابی دورہ کیا تھا اور اس کے نتیجہ میں دونوں ملکوں کے مابین باہمی مصروفیات میں اضافہ ہوا اور ریاض اعلامیہ پر اس دورہ کے موقع پر دستخط کئے گئے جس کے ذریعہ سیاسی ‘ معاشی ‘ سکیوریٹی اور دفاعی شعبوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید استحکام پیدا ہوا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT