Friday , August 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلمانوں کی پسمادنگی دور کرنے تحفظات کی فراہمی ناگزیر

مسلمانوں کی پسمادنگی دور کرنے تحفظات کی فراہمی ناگزیر

سنگاریڈی اور سداسیوپیٹ کے تنظیموں اور قائدین کی بی سی کمیشن سے نمائندگی
سنگاریڈی /16 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں موجودہ 4 فیصد تحفظات میں اضافہ کے مسئلہ پر تلنگانہ اسٹیٹ کمیشن فار بیاک ورڈ کلاس نے اپنے دفتر واقع خیریت آباد حیدرآباد میں 14 تا 17 ڈسمبر عوامی سماعت منعقد کر رہا ہے ۔ عوامی سماعت کے آج تیسرے دن ضلع سنگاریڈی کے سداسیوپیٹ اور سنگاریڈی ٹاون کے 14 تنظیموں اور افراد نے انفرادی طور پرجناب ایم اے قادر فیصل اسٹیٹ سکریٹری ورکنگ جرنلٹ یونین کے ہمراہ پہونچ کر چیرمین بی سی کمیشن و اراکین کمیشن سے ملاقات کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں موجودہ 4 فیصد تحفظات کو بڑھاکر 12فیصد تحفظات کرنے اور اس کے علاوہ سید ، پٹھان اور دیگر طبقات کو بھی بی سی ای زمرہ میں شامل کرتے ہوئے انہیں تحفظات فراہم کئے گئے تلنگانہ اسٹیٹ اردو جرنلسٹ فورم کی جانب سے ایم اے قادر فیصل نے کمیشن کو نمائندگی کرتے ہوئے بتایاکہ 1980 سے لیکر 2016 تک قائم کردہ تمام سرکاری کمیشنوں اور کمیٹیوں نے اپنی رپورٹ میں مسلمانوں کو انتہائی پسماندہ قرار دیا اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے تحفظات کی فراہمی کی وکالت کی ۔ ٹاملناڈو میں 69 فیصد تحفظات فراہم کئے جارہے ہیں ۔ اس طرح ریاست تلنگانہ میں بھی تحفظات فراہم کئے جائیں ۔ جس کا تحفظ دستور کے شیڈیول 9 سے ہونا چاہئے ۔ دستور میں اب تک 120 ترمیمات کی گئیں اور اگر ایک ترمیم ملک کے مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو تحفظات فراہم کئے جائیں تو یہ ایک تاریخی عمل ہوگا جو ملک میں متوازن سماجی معاشرہ کی تشکیل میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا ۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کو مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو ان کی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ آج بی سی کمیشن کو علحدہ علحدہ نمائندگی کرتے ہوئے بتایا کہ مسلمان سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور معاشی طور پر ایس سی اور ایس ٹی طبقات سے بھی پسماندہ ہیں 95 فیصد مسلمان غریب ہیں اور چھوٹے کاموں کے ذریعہ اپنی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ مسلمان یکساں مواقع سے محروم ہیں اور بیشتر جگہوں پر ان سے انصاف نہیں کیا جاتا ۔ مسلمانوں میں سماجی محرومی تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ سدھیر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ تقریباً 90 فیصد مسلمان پہلے ہی بی سی اے ، بی سی بی اور بی سی ای طبقات میں تحفظات حاصل کر رہے ہیں ۔ چنانچہ ان کے فیصد تحفظآت کو 4 سے بڑھاکر 12 کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ سدھیر کمیشن رپورٹ نے واضح کیا کہ مسلمانوں کو بنک سے لونس ، ملازمتیں اور اسکیمات کے فوائد منصفانہ طور پر حاصل نہیں ہوتے ۔ سدھیر کمیٹی کی رپورٹ سے ہم اتفاق رکھتے اور بی سی کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلم تحفظات کو 4 فیصد سے بڑھاکر 12 فیصد کرنے کی سفارش کرے ۔ انہوں نے بی سی کمیشن سے خواہش کی کہ وہ اضلاع کا دورہ کرے اور حقائق کا خود مشاہدہ کرتے ہوئے ایسی مضبوط و جامع رپورٹ پیش کرے جس کو عدالتوں میں بھی چیالنج نہیں کیا جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT