Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / مسلمانوں کی پسماندگی ثابت کرنے RTI ایک اہم ہتھیار

مسلمانوں کی پسماندگی ثابت کرنے RTI ایک اہم ہتھیار

محمد مصطفی علی سروری
ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (HPCL) ایک سرکاری ادارہ ہے ۔ حکومت ہند کی اس کمپنی کا شمار ’’نورتن‘‘ کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ (HPCL)کمپنی کا Forbes کی جانب سے دو ہزار بڑی کمپنیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ غرض HPCLایک ہندوستان کی سرکاری کمپنی ہے مگر اس کا کاروبار اتنا وسیع ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیاجاتاہے۔ اس کمپنی میں (11)ہزار سے زائد لوگ کام کرتے ہیں۔
HPCLمیں ملازمت کیلئے ہر سال سینکڑوں نوجوان درخواستیں داخل کرتے ہیں اوران میں سے چند ایک ہی خوش قسمت ہوتے ہیں جنھیں ملازمت مل پاتی ہے۔ ناکام ہونے والے بیشتر نوجوان اپنی ناکامی کیلئے مختلف وجوہات کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن بعض نوجوان اپنی صلاحیتوں پر اتنے پُراعتماد ہوتے ہیں کہ وہ اپنی ناکامی والے نتیجے کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کو چیالنج کرتے ہیں اور اپنے حق کیلئے آواز بھی اُٹھاتے ہیں۔
(24)سالہ موہت کمار گپتا نے بھی HPCLمیں ملازمت کیلئے درخواست دی اور ٹسٹ بھی کامیاب کرلیا تھا لیکن موہت کو کمپنی کی طرف سے ملازمت نہیں ملی۔ موہت اپنے ٹسٹ کے مظاہرے سے پُراعتماد تھا اس نے ہمت نہیں ہاری اور Right to Information Actکے تحت ایک درخواست داخل کی اور دریافت کیا کہ ٹسٹ کا کیا نتیجہ نکلا اور اس کو کیوں ملازمت کی آفر نہیں ملی۔
RTIکی درخواست کا نتیجہ یہ نکلا HPCLکے ممبئی آفس نے موہت کمارکو جواب دیا کہ HPCLمیں ان کا Selectionہوچکا ہے اور وہ (15)دن میں اپنی ملازمت سے رجوع ہوجائیں۔ کیا موہت کمار نے HPCLکی نوکری جوائین کرلی یا نہیں؟ اس سوال کا جواب جاننا دلچسپ ہوگا۔ اخبار انڈین اکسپریس نے 17؍دسمبر 2016ء کی اشاعت میں موہت کمار گپتا کے متعلق ایک تفصیلی رپوٹ شائع کی۔ موہت کمارکوآرٹی آئی کا ہیرو قرار دیتے ہوئے انڈین ایکسپریس نے “DU’S RTI hero makes impossible  possible” کی سرخی کے تحت رپوٹ دی کہ موہت کمار نے HPCLسے لڑائی جیت کر وہاں کی نوکری جوائن نہیں کی بلکہ آگے بڑھ کر دہلی یونیورسٹی کے کالج آف لاء میں ایل ایل بی کاکورس جوائن کرلیا۔ RTIکو مسلسل استعمال کرتے ہوئے موہت کمار مختلف عوامی مسائل پر کامیابی حاصل کی ہے اور دہلی کے اس لاء کالج میں موہت کمار کا تعارف ہی “RTI Man” کے نام سے ہی ہونے لگا ہے۔ لاء کالج میں پہلے طلباء کو اپنے Answer Sheetsدیکھنے کیلئے 750 روپئے فیس دینی ہوتی تھی اب موہت کمارنے مختلف RTIکی درخواستوں اور لڑائی کے بعد اس کو 10 روپئے تک محدود کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ ریزروبنک آف انڈیا میں انٹرن شپ کرنے کیلئے صرف پانچ سالہ لاء کورس کرنے والے طلباء کو ہی اجازت تھی مگر موہت کمار نے یہ انٹرن شپ تین سال کا لاء کورس کرنے والوں کیلئے بھی ممکن بنادی
انڈین اکسپریس سے بات کرتے ہوئے موہت کمار گپتا نے بتلایا کہ میں نے لاء کا کورس ڈگری حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا بلکہ طلباء کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے کیا۔موہت کے مطابق ہر مسئلہ حل کرنے کیلئے وزیراعظم کو خط لکھنا حل نہیں ہے اور نہ ہی ہر مسئلہ کا حل عدالت سے ہی نکالا جاسکتاہے۔ حکومت نے ہمارے ٹیکس کے پیئوں سے ہی لوگوں کو مقرر کر رکھا ہے کہ وہ ہماری جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ان عوامی خدمت گذاروں سے کام لینا سیکھیں اور اُنھیں ہمارا کام کرنے کیلئے درخواست کے ذریعہ قانونی دباؤ کے ذریعہ مجبور کریں۔
12؍اکتوبر 2005ء سے قانون حق معلومات نافذ العمل ہے۔ اس قانون کے سہارے ہر سرکاری ادارے یا ہر اس ادارے سے جواب طلب کیا جاسکتاہے جہاں سرکار کا ؍حکومت کا ایک بھی پیسۂ لگا ہوا ہے۔
نو سالہ منوج کا تعلق تلنگانہ کے ضلع نظام آباد سے ہے۔ یہ سال تعلیمی سال 2011-12 کی بات ہے جب منوج کو اور اس کے ساتھی کلاس کے طلباء کو سرکاری اسکالرشپس نہیں ملی اس صورتحال پر سب کو مایوسی تھی مگر منوج نے کسی کے مشورے پر ایک درخواست RTIکے قانون کے تحت لکھی اور سرکاری محکمے سے دریافت کیا کہ اس کی اسکالرشپ کیوں نہیں آئی اور اسکالرشپ کے جاری ہونے میں اور کتنا وقت لگ سکتا ہے۔
منوج تو صرف چوتھی جماعت کا طالب علم تھا اور اس کے مانباپ بیڑی ورکر تھے۔ RTIکی اس درخواست کے جواب میں صرف منوج کو ہی نہیں بلکہ اس کے (10) دوستوں کی بھی اسکالرشپ جاری ہوگئی۔ یہ ڈسمبر 2006 ء کی بات ہے جب الہ آباد کے ایک سرکاری پرائمری اسکول کے طلباء نے RTIکی درخواست لکھتے ہوئے سرکاری محکمے سے سوال کیا کہ جون سے لیکر دسمبر کا مہینہ آگیا مگر ان کے اسکول ڈریس اب تک نہیں ملے۔ اسکول کے بچوں کی اس درخواست کے جواب میں جنوری 2007ء میں ان بچوں کے اسکول ڈریس ان تک پہونچا دیئے گئے۔ ان ساری مثالوں کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان جب اپنے ساتھ نا انصافی کی شکایت کرتا ہے تو اس شکایت کا ازالہ اس قانون حق معلومات کے استعمال کے ذریعہ سے کرسکتاہے۔ بی سی کمیشن کے روبرو مسلمان اپنی پسماندگی کو ثابت کرنے کیلئے RTI کا بھرپوراستعمال کرسکتے ہیں۔ اسی قانون حق معلومات کے 2005 ء کے ایکٹ کے تحت ہم نے بھی ایک درخواست انسپکٹر جنرل آف جیلس تلنگانہ کو راونہ کی اور دریافت کیا کہ ریاست تلنگانہ میں جملہ کتنی جیلیں ہیں اور ان میں مسلم قیدیوں کی تعداد کتنی ہے۔

ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی (12.68) فیصد ہے اورجب ہم جیلوں میں قید مسلمانوں کی تعداد دیکھیں تو یہ ان کی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ آخرمسلمان جیل میں کیوں زیادہ ہے۔ اس بات کا جب ہم تجزیہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چل سکتا ہے جب ہم مفروضات کے سہارے اصل اسباب کو جاننے کی کوشش کریں تو کچھ اس طرح کی صورتحال ہوسکتی ہے۔ اول مسلمانوں کے ساتھ تعصب اور امتیاز برتا جاتاہے۔ دوم مسلمانوں کے مقدمات لڑنے کیلئے سہولیات ؍وکیل نہیں ہیں۔ سوم واقعی مسلمانوں میں جرائم کرنے کی عادتیں بڑھ گئی ہیں۔ مندرجہ بالا تینوں صورتحال قابل تشویش ہیں۔ اگر مسلمانوں کے ساتھ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں تعصب برت رہی ہیں تو اس کے سدباب کیلئے اقدامات کرنے چاہئے۔مثال کے طورپر پولیس میں مسلمانوں کی بھرتی کو بڑھانا ایک حل ہوسکتا ہے۔ پولیس کو مسلمانوں کے متعلق حساس بنایا جائے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلم ذہین نوجوانوں کو اعلیٰ قانونی تعلیم حاصل کرنے کی جانب راغب کیا جائے۔ NALSAR یونیورسٹی جیسے معیاری قانونی تعلیم فراہم کرنے والے ادارے سے جب ہم نے دریافت کیا کہ وہاں کتنے مسلمان طالب علم تعلیم حاصل کررہے ہیں تو نلسار یونیورسٹی نے RTI کے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس مسئلے سے قطع نظر مسلم نوجوانوں کو اعلیٰ عدالتوں اور نچلی عدالتوں میں بھی تقررات کے لئے تیارکرنا ہوگا اور بالفرض مسلمان واقعی جرائم کی زیادہ وارداتوں میں ملوث ہوتا ہے تو یہ مسلم کمیونٹی اور حکومت ہر دو کے لئے تشویش کی بات ہے۔ بحیثیت مسلم کمیونٹی ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہہ دینی ہوگی۔ ساتھ ہی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کریں اور پھر تحفظات دیتے ہوئے انھیں روزگار دیں۔ جب مسلم بچے پڑھیں گے اور ان کو نوکریاں ملنے لگیں گی تو کوئی بھی جرائم کی طرف راغب نہیں ہوگا۔
تعلیم کی بنیاد پر ملنے والے روزگار کے مواقعوں میں مسلم کی پسماندگی کا اندازہ درج ذیل جدول سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔

تلنگانہ آرٹی سی میں ڈرائیور‘ میکانک سے لیکر گزیٹیڈ عہدوں پر ملازمتیں ہیں اور آرٹی سی میں کام کرنے والے مسلمانوں کی تعداد دیکھیں تو یہ ان کی آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے صرف (0.79) صفر اعشاریہ ساتھ نو فیصد آرٹی سی ملازمین مسلمان ہیں۔ یہ تناسب ان کی آبادی کے حساب سے بہت کم ہے۔ اسی پس منظر میں مسلمانوں کو تحفظات ضروری قرار پاتے ہیں۔مسلمانوں کو تحفظات کے مسئلے پر ہم اپنی تحقیق کا سلسلہ RTI کے ذریعہ مزید مستحکم بنا سکتے ہیں۔ کیا ہم مسلم ادارے اور افراد و دانشور آرٹی آئی کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی کو ثابت کرسکتے ہیں۔ اس کا جواب آنے والا وقت ہی دے سکے گا۔ صرف جذباتی اپیلیں مسلمانوں کو تحفظات ہرگز نہیں دلاسکتی ہاں قانونی نکات اور سائنٹفک انداز میں اُٹھائے جانے والے اقدامات تحفظات کیلئے لڑکی جانے والی لڑائی میں RTI سے حاصل کردہ معلومات ہمارا ایک اہم قانونی ہتھیار ثابت ہوسکتے ہیں۔ کیا دستور ہند نے ہمیں جو موقع دیا ہے ہم اس سے استفادہ بھی کرسکتے ہیںیا ہمیشہ کی طرح حکومت وقت کے آگے کا سۂ لئے آواز لگاتے رہیں گے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT