Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کی پسماندگی پر شہر میں آج ماہرین کا اجلاس

مسلمانوں کی پسماندگی پر شہر میں آج ماہرین کا اجلاس

تلنگانہ کے مسلمانوں کیلئے تحفظات پر تبادلہ خیال کیلئے ملک کی ممتاز شخصیات کو سدھیر کمیشن کی دعوت
حیدرآباد ۔ 16۔ نومبر (سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لینے والے جی سدھیر کمیشن آف انکوائری نے ملک کے مختلف ماہرین اور اسکالرس سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں کل 17 نومبر کو حیدرآباد میں اجلاس طلب کیا گیا، جس میں مسلم مسائل پر عبور رکھنے والی اہم شخصیتوں کو مدعو کیا گیا ہے ۔ اس اجلاس میں ملک کے مختلف کمیشنوں میں خدمات انجام دینے والے ماہرین کو بھی مدعو کیا گیا تاکہ تلنگانہ میں حکومت کو پیش کی جانے والی رپورٹ پر غور کیا جاسکے۔ سدھیر کمیشن آف انکوائری فروری یا مارچ میں حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے ۔ ماہرین سے مشاورت کا مقصد قطعی رپورٹ میں مسلمانوں کی پسماندگی کے خاتمہ کے سلسلہ میں تجاویز کو قطعیت دی جائے گی ۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن آف انکوائری نے اب تک مختلف اضلاع اور شہر کا دورہ کرتے ہوئے جو نتیجہ اخذ کیا ہے ، اس کی تفصیلات سے ماہرین کو واقف کرایا جائے گا اور ان سے رائے حاصل کی جائے گی ۔ کمیشن نے ملک بھر کے جن ماہرین کو مشاورت کے لئے مدعوت کیا ہے ، ان میں صدرنشین قومی بی سی کمیشن جسٹس ایم این راؤ ، پروفیسر فیضان مصطفی، پروفیسر سلیمان صدیقی ، پروفیسر امیت  بگنا ، پروفیسر سنجے ، پروفیسر احسان عابد ، پروفیسر ہری ہرن ، پروفیسر اختر علی، جسٹس امیتابھ کونڈو، پی سی موہن ، رام برہمم، شانتا سنہا ، رفعت حسین اور دیگر ماہرین شامل ہیں۔ اجلاس کی پہلی نشست میں کمیشن اپنی رپورٹ پیش کرے گا اور ماہرین سے تجاویز طلب کی جائیں گی ۔ ماہرین کی تجاویز کی بنیاد پر کمیشن اپنی رپورٹ میں رد و بدل کرتے ہوئے نئی تجاویز کو شام کرے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کو بھی اس ا جلاس میں خصوصی مدعو کی حیثیت سے شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن آف انکوائری ماہرین سے مشاورت کے بعد شہر اور اضلاع میں سوالنامے کے ذریعہ مسلمانوں کی پسماندگی کا سروے کرے گا۔ اس سلسلہ میں مختلف سوالات پر مبنی سوالنامہ تیار کیا گیا ہے ، جو مسلمانوں کے مختلف طبقات کو پر کرنے کیلئے دیا جائے گا ۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ جامع رپورٹ کی تیاری کی کوشش کی جارہی ہے اور صدرنشین جی سدھیر چاہتے ہیں کہ فروری کے اواخر یا مارچ کے اوائل میں حکومت کو رپورٹ پیش کردی جائے۔

TOPPOPULARRECENT