Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی کے موقف پر قائم ہوں : ٹرمپ

مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی کے موقف پر قائم ہوں : ٹرمپ

تارکین وطن خاندانوں کو بھی امریکہ چھوڑنا ہوگا، نامزدگی کا یقین ہوجانے پر ٹرمپ کھل کر سامنے آگئے

واشنگٹن ۔ 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ری پبلکن کے امکانی صدارتی امیدوار نامزد کئے جانے والے ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک بار پھر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر امتناع عائد کیا جائے گا اور ملک سے غیرقانونی تارکین وطن کو نکال باہر کیا جائے گا۔ اس طرح ٹرمپ نے اب کھل کر اپنے موقف کا اطہار شروع کردیا ہے کیونکہ انہیں معلوم ہوچکا ہیکہ اب ہلاری کے علاوہ ان کے راستے میںکوئی بھی حائل نہیں۔ ان کے اس بیان کا فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن نے کہا کہ صدر کی حیثیت سے وہ تقسیم کردینے والی سیاست ہرگز نہیں کریں گی جو یقیناً ملک کیلئے خطرناک ثابت ہوگی۔ ٹرمپ کو جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ وہ ری پبلکن کے امکانی امیدوار نامزد کئے جانے سے اب کچھ ہی فاصلے پر ہیں، تو انہوں نے اپنی متعدد انتخابی ریالیوں میں دیئے گئے اپنے متنازعہ بیانات سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا جن میں مسلمانوں پر امریکہ کے داخلہ پر پابندی عائد کرنا بھی شامل ہے۔

ایم ایس این بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہاکہ میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ مسلمانوں کی بات ہو چاہے یا کچھ اور بات ہو، وہ صرف صحیح کام ہی انجام دیں گے۔ اس میں اگر کسی کو برا لگتا ہے یا کسی کی دلآزاری ہوتی ہے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ اپنی عقل و دانش کو مدنظر رکھ کر کہہ رہا ہوں۔ مجھے جو صحیح نظر آرہا ہے وہی کہہ رہا ہوں۔ آج ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ ہمیں بیحد محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم ہزاروں افراد کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دے رہے ہیں اور ملک کے گوشے گوشے میں یہ لوگ پھیل گئے ہیں جن کے بارے میں ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ وہ کون ہیں۔ کئی تو ایسے ہیں جن کے پاس ان کے شناختی دستاویزات تک نہیں ہیں۔ اس پر المیہ یہ ہیکہ ہم خود (امریکی) یہ نہیں جانتے کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ دوسری طرف لاٹینو آؤٹ ریچ کے قومی ڈائرکٹر لوریلاپریلی نے بھی ٹرمپ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ بہت ہی عجلت میں معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ری پبلکن صدارتی امیدوار کی امکانی نامزدگی کا پتہ چلنے کے اندرون 24 گھنٹے انہوں نے ایسا بیان دیدیا ہے جس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں ہے کہ ان کی قیادت میں امریکہ کیسا ہوگا جہاں لاٹینو اور مسلم فرقہ اپنے آپ کو پرسکون محسوس نہیں کرے گا۔ پریلی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اب اپنے موقف اور دوگنا مستحکم کرلیا ہے یعنی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو امریکہ میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ دوسری طرف ہزاروں تارکین وطن خاندانوں کو امریکہ چھوڑنا پڑے گا جو اس وقت امریکہ کی معاشی اور سماجی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہلاری کلنٹن کی انتخابی مہم سے وابستہ عہدیداروں نے بھی ٹرمپ کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس طرح امریکہ ترقی کے راستے پر بہت پیچھے رہ جائے گا۔ ہلاری کلنٹن اگر صدر ب نگئیں تو وہ اس نوعیت کی خطھرناک اور تقسیم کرنے والی سیاست ہرگز نہیں کریں گی۔

ٹرمپ کے آخری حریف بھی صدارتی دوڑ سے دستبردار
واشنگٹن ۔ 5 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں اوہائیو کے گورنر جان کیسک کی جانب سے صدارتی امیدوار کی دوڑ سے دستبردار ہونے کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ رپبلکن پارٹی کے واحد امیدوار بن گئے ہیں۔ اوہائیو کے گورنر کے طور پر کیسک خاصے مقبول ہیں، لیکن وہ اوہائیو ریاست کے علاوہ کہیں بھی پرائمری انتخابات نہیں جیت پائے۔ ادھر، رپبلکن پارٹی ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت کے معاملے میں منقسم نظر آ رہی ہے۔ کچھ رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر رکنیت چھوڑنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تاہم ٹرمپ کی حمایت میں آنے والے رہنماؤں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ممکنہ امیدوار ہلاری کلنٹن کے مقابلے ٹرمپ کو زیادہ پسند کر رہے ہیں۔ انڈیانا میں فتح کے بعد ٹرمپ کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ ہی رپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوارہوں گے۔ اس اثنا میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ نائب صدر کے عہدے کے لیے اپنا امیدوار ایسے شخص کو منتخب کریں گے جسے سیاسی تجربہ ہو اور جو کانگریس سے قانون منظور کرا سکے تاہم انھوں نے کوئی نام نہیں بتایا۔ کیسک کو رپبلکن دعویداروں میں سب سے لبرل اور ہلاری کلنٹن کے مقابلے جیتنے کی اہلیت رکھنے والا امیدوار تصور کیا جا رہا تھا لیکن وہ لوگوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ان کی ممکنہ ڈیمو کریٹک حریف ہلاری کلنٹن ہوں گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT