Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کیلئے اسمبلی میں قانون سازی

مسلمانوں کے تحفظات میں اضافہ کیلئے اسمبلی میں قانون سازی

حیدرآباد۔17 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات میں اضافے کے لیے اسمبلی کے بجٹ سیشن میں قانون سازی کی تیاری شروع کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قانونی ماہرین اور تحفظات کے مسئلہ پر عبور رکھنے والی شخصیتوں کو اس سلسلہ میں رائے پیش کرنے کی خواہش کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے بعض سینئر آئی اے ایس عہدیدار اور برسر اقتدار پارٹی کے قائدین مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کو یکجا کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ دونوں طبقات کے لیے یکساں طور پر تحفظات میں اضافے کی صورت میں عدالت میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ حکومت نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائل کے تحفظات کو بڑھاکر فی کس 12 فیصد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس سلسلہ میں بی سی کمیشن اور ایس ٹی کمیشن سے رائے حاصل کی جاچکی ہے۔ دونوں کمیشنوں نے حکومت کو تجویز پیش کی کہ دونوں طبقات کے تحفظات کو 9 فیصد تک اضافہ کیا جائے تو قانونی اور دستوری رکاوٹوں سے بچنے کا موقع رہے گا۔ دونوں صورتوں میں ریاست میں مجموعی تحفظات 50 فیصد کو عبور کرلیں گے۔ سپریم کورٹ نے مجموعی تجفظات کی حد 50 فیصد مقرر کردی ہے۔ لہٰذا اس حد کو عبور کرنے کے لیے ریاستی حکومت کو دستوری ترمیم کا سہارا لینا پڑے گا۔ تلنگانہ میں درج فہرست قبائل کو 6، درج فہرست اقوام کو 15 ، پسماندہ طبقات کو 25 اور مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات حاصل ہیں جو مجموعی طور پر 50 فیصد ہورہے ہیں۔ حکومت درج فہرست قبائل کے تحفظات کو 6 سے بڑھاکر 9 فیصد اور مسلمانوں کے تحفظات کو 4 سے بڑھاکر 9 فیصد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ایسی صورت میں ریاست میں مجموعی تحفظات بڑھ کر 58 فیصد ہوجائیں گی جو سپریم کورٹ کی حد سے 8 فیصد زیادہ ہوں گے۔ (سلسلہ صفحہ 7 پر)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT