Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / مسلمانوں کے تعلق سے ٹرمپ کے نظریات کے خلاف ہلاری کلنٹن کی مہم

مسلمانوں کے تعلق سے ٹرمپ کے نظریات کے خلاف ہلاری کلنٹن کی مہم

ری پبلکن پارٹی لیڈر پر سبقت لے جانے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز

واشنگٹن ۔ 23 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار کی حیثیت سے نامزد ہونے کی قطعی مرکہ آرائی میں داخل ہونے کا اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ہلاری کلنٹن نے آج ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ پر سبقت لے جانے کی سرگرم کوششوں کا آغاز کیا ۔ انھوں نے مسلمانوں کے تعلق سے ڈونالڈ ٹرمپ کے نظریہ کے خلاف مہم چلاتے ہوئے تارکین وطن اور خواتین کے بارے میں بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی سوچ کو آشکار کرنے کا عہد کیا ۔ ان کی اس طرح سوچ سے امریکی معاشرہ پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے امریکیوں کو واقف کرانے کی زبردست مہم چلائی جارہی ہے اگرچیکہ ہلاری کلنٹن نے ان کی کرداری کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کے کئے گئے رکیک ریمارکس کا کوئی جواب نہیں دیا ہے بلکہ امریکہ کے رئیل اسٹیٹ کے سب سے کھرب پتی تاجر کی مخالف مسلم ، تارکین وطن اور خواتین کے بارے میں ان کی رائے کی نفی کرتے ہوئے سچائی کو بیان کرنا شروع کیا ہے ۔ ہلاری کلنٹن نے کہاکہ میں اس بات پر دھیان نہیں دے  رہی ہوں کہ ٹرمپ نے میر ے بارے میں ذاتی طورپر کیا ریمارکس کئے ہیں

بلکہ میری توجہ ان کی مخالف مسلم ، مخالف تارکین وطن اور مخالف خواتین سوچ سے  امریکی عوام کو خبردار کرنے پر مرکوز ہے ۔ سابق سکریٹری آف اسٹیٹ نے پنسلوانیا میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے جہاں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن کے 26 اپریل کو پرئمریز مقرر ہیں کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کا نظریہ امریکی روایات کے مغائر ہے ۔ نیویارک کی سابق سنیٹر نے بظاہر ٹرمپ کے حالیہ ریمارکس کا حوالہ دیا ۔ انھوں نے ٹرمپ اور کلنٹن کو پنسلوانیہ میں اپنے پرائمری مخالفین میں سبقت حاصل ہے ۔ کلنٹن نے کہاکہ میں اپنے بارے میں ٹرمپ کی رائے کی پرواہ نہیں کرتی بلکہ میں آپ کو یہ بتانے جارہی ہوں کہ ٹرمپ خواتین کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ۔ میں یہ بتانے جارہی ہوں کہ وہ تارکین وطن کے لئے کیا پالیسی رکھتے ہیں ۔ انھوں نے مسلمانوں کے بارے میں کیا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس سے امریکیوں کو واقف کرانا ضروری ہے اور میں آپ تمام لوگوں کی جانب سے ٹرمپ کی نفرت آمیز اور توہین آمیز مہم کو نشانہ بنارہی ہوں ۔ اس ہفتہ نیویارک میں اپنی کامیابی کے بعد ٹرمپ کے خلاف ان کا یہ پہلا سب سے بڑا حملہ و شدید ردعمل تھا ۔ لیکن اخباری اطلاعات میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے سابق خاتون اول کے خلاف اپنی لڑائی کو تیز کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔ کلنٹن اور ٹرمپ کو امریکہ کی کئی ریاستوں میں سبقت حاصل ہے جہاں آئندہ ہفتہ پرائمریز کا مقابلہ ہورہا ہے ۔ آئندہ کی صدارتی پرائمریز دونوں ہلاری اور ٹرمپ کیلئے اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ دونوں کو ضروری مندوبین کی تائید حاصل کرنے کا نشانہ پورا کرنا ہے ۔ نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے لئے ہلاری کلنٹن کو سبقت حاصل کرنے کی جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ ری پبلکن گروپ میں بھی ٹرمپ کی خلاف مہم شروع ہوئی ہے البتہ ری پبلکن کے سنیٹر قائدین نے اختلافات کو ختم کرکے بنیادی طورپر ٹرمپ کے موقف کو مضبوط بنانے پر غور کررہے ہیں ۔ ری پبلکن پارٹی کے قومی کمیٹی چیرمین رینس بریبس نے کہاکہ پارٹی میں اتحاد سے ہی کامیابی کے لئے جدوجہد کی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT