Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / مسلمانوں کے خلاف تاریخی غلطیوں کی اصلاح کی ضرورت

مسلمانوں کے خلاف تاریخی غلطیوں کی اصلاح کی ضرورت

بانی صدر کُل ہند علماء و مشائخ بورڈ کا اختتامی اجلاس سے خطاب ‘ وزیراعظم نریندر مودی پر عالمی صوفی فورم کا دباؤ
نئی دہلی ۔20مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) اولین عالمی صوفی فورم نے آج حکومت پر زور دیا کہ مسلمانوں کے خلاف ’’ تاریخی ہمالیائی غلطیوں ‘‘ کی اصلاح کی جائے اور تعلیم کے شعبہ میں ہر سطح پر تصوف کا مضمون شامل کیا جائے ۔ چار روزہ عالمی صوفی فورم اجلاس کے آخری دن رام لیلا میدان پر خطاب کرتے ہوئے نامور صوفی حضرت سید محمد اشرف نے کہا کہ گذشتہ چند دہائیوں سے صوفی تحریک کو ہندوستان میں کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور اُس کے بدلے بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کے نظریہ کو دیئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بانی صدر کُل ہند علماء و مشائخ بورڈ نے کہا کہ حالیہ طریقہ عمل صرف مسلم برادری کیلئے نہیں بلکہ خود پورے ملک کیلئے خطرناک ہے ۔ کُل ہند علماء و مشائخ بورڈ نے اس چار روزہ تقریب کا اہتمام کیا ہے ۔ بانی صدر بورڈ نے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کی کہ ان تاریخی ہمالیائی غلطیوں کی اصلاح کی جائے

اور ہندوستان میں تصوف کے لاکھوں پیروؤں کے مطالبات تکمیل کی جائے ۔ انہوں نے وزارت داخلہ سے مطالبہ کیا کہ چھوٹے اور بڑے فرقہ وارانہ واقعات کے بارے میں جو ملک کے مختلف علاقوں میں پیش آئے ہیں اپنے اقدامات کی وضاحت کرے ۔ مولوی اشرف نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مختلف اقلیتی اداروں میں مسلمانوں کی نمائندگی بہت کم ہے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کو تصوف کی روایات پر عقیدہ ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ آبادی کے تناسب میں انہیں مختلف اداروں جیسے مرکزی وقف کونسل ‘ ریاستی وقف بورڈس ‘ مرکزی و ریاستی حج کمیٹیوں اور قومی اقلیتی فینانس ڈیولپمنٹ کارپوریشن میں نمائندگی دی جائے ۔ کُل ہند علماء و مشائخ بورڈ ہندوستان میں صوفیوں کی نمائندہ سب سے بڑی تنظیم ہے جس نے 25نکاتی منشور اس موقع پر بے نقاب کیا ہے ۔ کُل ہند علماء و مشائخ بورڈ نے حکومت سے اپیل کی کہ صوفی یونیورسٹی قائم کی جائے ‘ جسے صوفی سنت خواجہ غریب نواز کے نام سے منسوب کیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ ایک مرکزی صوفی تنظیمیںنئی دہلی میں اور تمام ریاستی دارالحکومتوں میں قائم کی جائیں تاکہ صوفی ادب ‘ صوفی تمدن اور صوفی موسیقی کو فروغ دیا جاسکے ۔ صوفی سیاحت کے فروغ کیلئے انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک صوفی راہداری قائم کی جانی چاہیئے جو ملک کی تمام درگاہوں کو مربوط کرتی ہو ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے عالمی صوفی فورم کے اولین اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مذہب اسلام اور تصوف کی بھرپور ستائش کی تھی اور کہا تھا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا مذہب ہے اور تصوف کا نور موجودہ تاریک دنیا کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT