Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کے مسائل پر وزراء کے اتحاد یا پھر مسلمانوں کی قیادت کے فقدان پر سوال

مسلمانوں کے مسائل پر وزراء کے اتحاد یا پھر مسلمانوں کی قیادت کے فقدان پر سوال

رمضان کی تیاریوں پر سرینواس یادو اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا علحدہ علحدہ اجلاس
حیدرآباد۔15مئی(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں مسلم مسائل پر وزراء متحد نہیں ہیں یا پھرمسلمانان ریاست قیادت کے فقدان کا شکار ہیں۔ماہ رمضان المبار ک کی تیاریوں کے سلسلہ میں سکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس کے علاوہ ریاستی وزیر انیمل ہسبنڈری مسٹر ٹی سرینواس یادو نے اپنے حلقہ کی حد تک علحدہ اجلاس منعقد کیا اور اس اجلاس میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو بھی طلب کیا گیا تھا۔اسی طرح سیکریٹریٹ میں ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کی زیر نگرانی ریاستی سطح کا اجلاس منعقد ہوا اوراس اجلاس میں مختلف محکمہ جات کے علاوہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار شریک رہے۔چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے پاس محکمہ اقلیتی بہبود کا قلمدان ہونے اور چیف منسٹر کی جانب سے ان اجلاسو ںمیں عدم شرکت کے سبب یہ صورتحال پیدا ہونے لگی ہے اور قائدین خود کو ماہ رمضان المبار ک کے انتظامات کے مرکزی کردار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں عہدیدار کسی ایک اجلاس کے احکامات پر مؤثر عمل آوری سے قاصر ہیں۔متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں سیکریٹریٹ میں ماہ رمضان المبار ک کے انتظامات کے سلسلہ میں ایک وسیع اجلاس منعقد ہوا کرتا تھا جس میں ریاست کے تمام اضلاع کے لئے احکامات کی اجرائی عمل میںلائی جاتی تھی لیکن ریاست تلنگانہ میں وزارت اقلیتی بہبود کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہونے اور چیف منسٹر کی شدید مصروفیات کے باعث اس قلمدان کے امورکا ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کی جانب سے جائزہ لیئے جانے کے سبب پیدا ہو رہی ان دشواریوں کے متعلق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزراء کا احساس برتری اور ان کے درمیان موجود رسہ کشی کا شکارمختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کو بننا پڑ رہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT