Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے تجاویز طلب

مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے تجاویز طلب

کمیشن آف انکوائری کی جامع رپورٹ کی اندرون 6 ماہ پیشکشی
حیدرآباد۔/18اگسٹ، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ کمیشن آف انکوائری نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ اندرون چھ ماہ اپنا کام مکمل کرلے گا اور ایک جامع رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔ کمیشن کے صدرنشین جی سدھیر اور ارکان ڈاکٹر عامر اللہ خاں اور پروفیسر عبدالشعبان نے آج پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن بہت جلد مسلمانوں کی صورتحال کے بارے میں تجاویز طلب کرے گا۔ جی سدھیر نے بتایا کہ کمیشن کی جانب سے بہت جلد اعلامیہ جاری کرتے ہوئے عوام سے تجاویز طلب کی جائیں گی جن میں مسلمانوں کو درپیش مسائل اور ان کی ترقی کیلئے کمیشن کو امکانی اقدامات کی صلاح دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن تحریری طور پر یا پھر ای میل کے ذریعہ بھی تجاویز کو قبول کرے گا، اس سلسلہ میں کمیشن کے مستقل ای میل اڈریس کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری، نیم سرکاری اور خانگی اداروں میں مسلمانوں کی ملازمتوں میں حصہ داری کے سلسلہ میں مختلف شعبوں سے معلومات طلب کی گئی ہیں۔ بینک قرضوں اور دیگر بینکنگ خدمات میں مسلمانوں کی حصہ داری کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر میں کمیشن اضلاع کے دوروں کا آغاز کرے گا جہاں ضلع کلکٹر کی نگرانی میں عوامی سماعت کی جائے گی۔ ضرورت پڑنے پر مسلم علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے حالات زندگی کا برسر موقع جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اداروں کی جانب سے کمیشن کو تفصیلات روانہ کی گئی ہیں جن میں حکومت ہند کا ادارہ مردم شماری اور تلنگانہ کا محکمہ تعلیم شامل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صدرنشین انکوائری کمیشن نے کہا کہ حکومت نے 3مارچ 2015کو کمیشن کے قیام کا اعلان کیا لیکن کمیشن کیلئے باقاعدہ دفتر کے حصول میں طویل عرصہ لگ گیا اور دیڑھ ماہ قبل ہی اسے باقاعدہ دفتر الاٹ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے کام کاج کے آغاز کیلئے درکار بنیادی سہولتوں کی فراہمی ابھی باقی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیشن مقررہ چھ ماہ کی مدت میں تحقیقات مکمل کرلے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کمیشن کی تشکیل کو چھ ماہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے، جس پر صدرنشین نے کہا کہ مسلمانوں کے سروے کے کام کے آغاز کے بعد سے چھ ماہ میں رپورٹ  پیش کرنی ہے اور کمیشن مقررہ مدت میں کام کی تکمیل کو یقینی بنائے گا۔ اگر یہ ممکن نہ ہوسکا تو پھر حکومت توسیع پر غور کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ کمیشن کو جو ذمہ داری دی گئی ہے اس میں مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں تحفظات کی سفارش کرنا ہے۔ جی سدھیر نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے حال ہی میں جو جامع سروے کیا ہے اس کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھی کمیشن تجاویز حاصل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مختلف محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا گیا اور ضروری تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ پریس کانفرنس میں کمیشن کے رکن ایم اے باری، سکریٹری انچارج اقلیتی بہبود جی ڈی ارونا اور منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن شفیع اللہ موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT