Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمانوں کے کمیشن آف انکوائری کے ساتھ حکومت کا معاندانہ سلوک

مسلمانوں کے کمیشن آف انکوائری کے ساتھ حکومت کا معاندانہ سلوک

تنخواہوں اور بنیادی سہولتوں کی فائیل زیر التواء ، عمارت میں لفٹ غیر کارکرد

حیدرآباد۔/11ڈسمبر، ( سیاست نیوز) اقلیتوں کو تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر سروے کے کام میں مصروف کمیشن آف انکوائری کی زبوں حالی کے بارے میں ’سیاست‘ میں خبر کی اشاعت کے باوجود حکومت نہیں جاگی اور دوسری طرف درج فہرست قبائیل کیلئے قائم کردہ کمیشن آف انکوائری کا بھی یہی حال سامنے آیا ہے۔ حکومت نے مسلمانوں اور درج فہرست قبائیل کیلئے 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اس سلسلہ میں دو علحدہ کمیشن آف انکوائری قائم کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے کمیشن آف انکوائری کے ساتھ حکومت کا جو سلوک ہے وہی حال ایس ٹی کمیشن آف انکوائری کا ہے۔ وہاں کے صدرنشین اور ارکان بھی قیام کے بعد سے آج تک نہ صرف تنخواہوں سے محروم ہیں بلکہ کمیشن کو بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  اعلیٰ عہدیدار اس بارے میں توجہ دہانی پر ذمہ داری چیف منسٹر کے دفتر پر ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ فائیل چیف منسٹر کی منظوری کی منتظر ہے۔ دونوں کمیشنوں کے صدورنشین اور ارکان حکومت کی عدم توجہی کے باوجود پوری سنجیدگی کے ساتھ خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں سے متعلق سدھیر کمیشن کی تنخواہوں اور دیگر سہولتوں سے متعلق فائیل محکمہ فینانس میں زیر التواء ہے۔ اسی دوران ایک اور افسوسناک پہلو منظرعام پر آیا کہ سدھیر کمیشن کیلئے شکر بھون میں جو عمارت الاٹ کی گئی اس میں لفٹ تو موجود ہے لیکن وہ غیر کارکرد ہے جس کے نتیجہ میں گزشتہ چھ ماہ سے صدرنشین، ارکان اور عہدیداروں کے علاوہ عام افراد کو سیڑھیوں کے ذریعہ دوسری منزل تک پہنچنا پڑرہا ہے۔ ضعیف افراد کیلئے دوسری منزل تک سیڑھیوں کے ذریعہ پہنچنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔ خود کمیشن کے ذمہ دار بھی بار بار اس مشقت کو برداشت کرنے کے موقف میں نہیں ہیں لیکن عہدیداروں کو ان کی حالت پر کوئی رحم نہیں آرہا ہے۔ کمیشن کے قیام کے بعد جولائی میں آفس الاٹ کیا گیا اسوقت سے ہی لفٹ کارکرد نہیں ہے اور اس سلسلہ میں کئی بار آر اینڈ بی اور اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو توجہ دلائی لیکن کسی نے لفٹ کی بحالی کے اقدامات نہیں کئے۔ کمیشن سے نمائندگی کیلئے آنے والے افراد جو سیڑھیوں کے ذریعہ دوسری منزل تک نہیں پہنچ پاتے وہ مایوسی سے واپس ہورہے ہیں۔ ایک طرف کمیشن کے صدرنشین اور ارکان تنخواہوں سے محروم ہیں تو دوسری طرف بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں حکام کی عدم دلچسپی نے حکومت کی سنجیدگی پر سوال کھڑے کردیئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT