Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / مسلمان ، اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار بنائیں

مسلمان ، اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار بنائیں

مسلمان ، اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار بنائیں
ملت کی معاشی بدحالی کے باوجود فضول خرچی افسوسناک، دوبدو ملاقات پروگرام کا انعقاد ، ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا خطاب

شادی کیلئے سیرت و کردار کو معیار بنانے کا مشورہ
رسومات و خرافات سے مسلمانوں کا وقار متاثر
انداز فکر اور طرز عمل میں تبدیلی لانے کی ضرورت
تعلیمی پسماندگی سے روزگار کے امکانات معدوم
حیدرآباد ۔ 20 ؍ مارچ ( دکن نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے آج مسلم نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر اِس بات کا عہد کریں کہ اپنی شادی میں جہیز لین دین اور بے جا رسومات سے گریز کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم شادیوں میں بے جا اسراف اور دھوم دھام کے باعث والدین کی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے ۔ جناب زاہد علی خان آج ملاپ گارڈن فنکشن ہال (مہدی پٹنم) رنگ روڈ میں ادارہ سیاست اورمیناریٹی ڈیولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ 57 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام کو مخاطب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ  اپنی زندگی کے معاملات کو اسلامی تعلیمات کا آئنہ دار بنائیں ۔ مسلمانوں میں پہلے ہی سے تعلیمی پسماندگی نے اُن کے روزگار کے امکانات کو معدوم کر دیا ہے ۔ دوسری طرف مسلمانوں کی اکثریت معاشی بدحالی سے دو چار ہے اور سماج و معاشرہ میں ان کا کوئی رتبہ بھی نہیں رہا ان ساری محرومیوں کے باوجود اگر مسلمان اپنی شادیوں میں اسراف اور فضول خرچی سے باز نہیں آئے تو پھر کس طرح اُن کی زندگی میں خوشحالی ممکن ہے ۔ جناب زاہد علی خان نے دولتمند مسلم گھرانوں کی شادیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے شادی خانوں میں 20 تا 25 قسم کے لوازمات دراصل اپنی دولت کے مظاہرے کے سوا کچھ اور نہیں ہے ۔ لیکن ان متمول حضرات کو اس تلخ حقیقت سے واقف ہونا چاہئے کہ ان کے اس طرز عمل سے اوسط درجہ اور غریب مسلمانوں کے لئے کتنے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور وہ اپنے بچوں کی شادیوں کے لئے سخت پریشان ہیں ۔ دولتمند افراد کو چاہئے کہ وہ اپنے لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کے ساتھ کم از کم  10غریب لڑکیوں کی شادیوں کا اہتمام کریں ۔ ایڈیٹر سیاست نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ غریب و متوسط طبقات کو اپنے لڑکیوں کی شادیوں کے لئے سودی قرض لینا پڑ رہا ہے  جب کہ اسلام نے سود کے لینے او ر دینے کو حرام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم شادیوں میں نظم و ضبط کی کمی محسوس کی جاتی ہے ۔ وقت کی پابندی کا کوئی خیال نہیںکیا جاتا شادی کی تقریب اور ولیمہ میں بیانڈ باجہ ‘ آتش بازی اور دیگر خرافات کے باعث دوسری قوموں میں مسلمانوں کا وقار متاثر ہونے لگا ہے ۔ ہم کب تک اپنے اندر فکر اور طرز عمل میں تبدیلی نہیں لائیں گے ۔ جناب زاہد علی خان نے لڑکوں کی ماؤں کی خصوصی طور پر مشورہ دیا کہ وہ لڑکی کے انتخاب میں حسن و جمال اور خوبصورتی سے زیادہ سیرت و کردار‘ دینداری ‘ تعلیم کو اپنی پسند کا معیار بنائیں ۔ جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سیاست  نے دوبہ دو پروگرام کی نگرانی کی اور والدین سے تبادلہ خیال کیا ۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے کہا کہ عصر حاضر میں مسلم والدین دولت کی لالچ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ہمارے معاملات زندگی میں خرابیاں پیدا ہوتی جار ہی  ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جہیز کی مانگ اورجوڑے کی رقم کے مطالبہ کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے ۔ لیکن ہم ان تمام باتوں سے واقف ہونے کے باوجود اپنے لئے ایسا طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں جس کے نتائج نہ صرف  ماں باپ بلکہ پورا مسلم معاشرہ بھگت رہاہے ۔ حیدرآباد میں خلع اور طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات ہمارے اسی طرز عمل کا نتیجہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ سیاست اور ایم ڈی ایف کا کاروان خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ نہایت کامیابی کے ساتھ رواں رواں ہے ۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران  صرف انجنیئرنگ کے 372 رجسٹریشن میں سے 154 لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں طئے پائیں ‘ ہماری کوشش ہے کہ مسلم معاشرہ کی سوچ و فکر میں تبدیلی لائی جائے ۔ انہوں نے اس موقع پر ملاپ گارڈن فنکشن ہال کے مالک سید کلیم الدین اور سید فہیم الدین سے اظہار تشکر کیا جن کے تعاون سے 57 واں دوبہ دو ملاقات پروگرام نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد کیا جاسکا ۔ جناب زاہدعلی خان ایڈیٹر سیاست نے جناب سید فہیم الدین کی گلپوشی کی ۔ دلشادنگر یوتھ ویلفیر اسوسی ایشن کے صدر غلام معین الدین فاروقی نے جناب زاہد علی خان کی خدمات کے اعتراف میں دتہنیت پیش کی ۔ اس موقع پر شہ نشین پر جناب محمد تاج الدین ڈپٹی ڈائرکٹر لو ک ایوت ‘ ایم اے قدیر ‘ ڈاکٹر ایوب حیدری ‘ میر انورالدین ‘ سید الیاس پاشاہ ‘ محمد عبدالصمد خان اور دیگر موجود تھے ۔ جناب سید اصغر حسین نے پروگرام کی کارروائی چلائی ۔ قاری سید الیاس باشاہ کی قرأت سے دوبہ پروگرام کا آغاز ہوا ۔ جناب احمد صدیقی مکیش نے بارگاہ رسالتؐ میں ہدیہ نعت پیش کی ۔ 10  بجے صبح سے رجسٹریشن کا آغاز ہوا اور شام 4 بجے تک لڑکوں کے 90 اور لڑکیوں کے 192 رجسٹریشن کئے گئے ۔ محمد احمد ‘ ایم اے واحد ‘ محمد برکت علی ‘ اے اے کے امین ‘ سراج الدین قریشی ‘ ڈاکٹر دردانہ ‘ خدیجہ سلطانہ ‘ محمد نصر اللہ خان ‘ سیدہ محمدی ‘ رئیس النساء ‘ لطیف النساء ‘ ثانیہ ‘ صالح عبداللہ باحاذق ‘ ڈاکٹر ناظم علی ‘ ڈاکٹر سیادت علی نے کونسلنگ میں حصہ لیا اور والدین کی رہنمائی کی ۔ رجسٹریشن کاونٹر پر ایم اے قدیر کی نگرانی میں امتیاز ترنم ‘ فرزانہ ‘ ہیما ‘ شبانہ نعیم ‘ ریحانہ نواز اور فرحت خاتون ‘  نے بائیو ڈاٹا اور فوٹوز رجسٹریشن کئے اس کے علاوہ صباء ترنم ‘ آمنہ فاطمہ ‘ شبانہ لطیف اور مہر النساء ‘ وحید النساء ‘ سیدہ سراج اور احمدی نے والینٹرس کے فرائض  انجام دیئے ۔ دوبہ دو پروگرام میں کئی معززین نے شرکت کی جس میں جناب سمیع صدیقی ‘ ڈاکٹر سید غوث الدین ‘ محمد ابصار (مقیم امریکہ) زاہد محمود صدیقی ‘  سید اختر ‘ مسعود ‘ خواجہ نصیرالدین ‘ حبیب خان حیات ‘ ماجد انصاری ‘ حفیظ فاروقی  شامل تھے ۔ ملاپ گارڈن فنکشن ہال پر معقول انتظام کیا گیا ۔ جناب عابد صدیقی صدر ایم ڈی ایف نے سیاست اور ایم ڈی ایف کے اسٹاف کے علاوہ شادی خانہ کے مالکین اور منیجر عظمت اللہ خان عابد و دیگر ورکز کے تعاون و اشتراک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے اختتام کا اعلان کیا ۔

TOPPOPULARRECENT