Thursday , April 27 2017
Home / اداریہ / مسلمان بحیثیت ووٹر

مسلمان بحیثیت ووٹر

تم فقط کھیل رہے ہو مرے ارمانوں سے
غم کے دریا میں رہی منزلِ راحت کی تلاش
مسلمان بحیثیت ووٹر
اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مسلم ارکان اسمبلی کی تعداد گذشتہ کے مقابل گھٹ گئی ہے ۔ سال 2012 کے انتخابات میں 69 مسلم ارکان منتخب ہوئے تھے اس مرتبہ صرف 24 مسلم ارکان ایوان میں داخل ہوں گے ۔ اترپردیش میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے یہ تعداد بہت کم ہے ۔ اس ریاست کی جملہ آبادی میں 19 فیصد تناسب رکھنے والے مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں کمی باعث تشویش ہے ۔ 403 رکنی ایوان اسمبلی میں بی جے پی کو اکثریت کا ملنا ہندوستانی جمہوریت کے لئے اگر اچھی خبر نہ سمجھا جا رہا ہے تو اس میں قصور کہاں اور کس کا ہے یہ غور طلب امر ہے ۔ یو پی کے اہم حلقوں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے بی جے پی امیدوار کا منتخب ہونا بھی سیاسی حلقوں میں حیرانی کا باعث بنا ہوا ہے ۔ اس کامیابی کو بی جے پی کی حکمت عملی قرار دے کر کہیں کسی سچائی کو پوشیدہ رکھنے کی بھی کوشش ہوسکتی ہے ۔ بی جے پی نے یو پی میں انتخابی مہم کو جارحانہ طور پر انجام دیا اور ترقی و خوشحالی کے بجائے فرقہ وارانہ کارڈ استعمال کیا ۔ سماجی سیکولر مسلم ووٹوں کو یکسر نظرانداز کرنے اور فرقہ پرست قائدین کے ذریعہ اشتعال انگیز بیانات دے کر ماحول کو گرمانے کا جو کام کیا گیا تھا اس کا راست اثر سیکولر رائے دہی پر مرتب ہوا ہے ۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ دیوبند میں جہاں دنیا کا عظیم دینی مدرسہ دارالعلوم دیوبند ہے وہاں سے بی جے پی امیدوار نے اپنی کامیابی کا ریکاڈ قائم کیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی ۔ کانگریس اتحاد یا بی ایس پی سربراہ مایاوتی کی دلت ۔ مسلم اتحاد کی مہم پس منظر میں چلی گئی ۔ بی جے پی نے انتخابات میں ایک بھی مسلم کو ٹکٹ نہیں دیا اس کے باوجود مسلم علاقوں کی 42 نشستوں سے 31 پر بی جے پی امیدوار کامیاب ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ بھی بتائی گئی کہ ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان مسلم ووٹ منقسم ہوئے سے بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے ۔ اس کے برعکس یو پی کے ہندو ووٹ منقسم ہونے سے روکنے کے لئے بی جے پی نے جو حکمت عملی بنائی تھی اس میں وہ کامیاب رہی۔ ہندو ووٹ میں مختلف ذاتوں کے ووٹ شامل ہیں اس کا راست فائدہ وزیراعظم نریندرمودی کی مہم سے بھی ہوا ہے ۔ ہندو ووٹ کو متحد کرنے میں بی جے پی کے قائدین نے جو حکمت عملی اختیار کی تھی مسلم ووٹ کو متحد رکھنے میں سیکولر پارٹیاں ناکام رہیں ۔ اس کی وجہ خود مسلمانوں کا غیر متوازن موقف ہوسکتی ہے ۔ مسلم اتحاد میں فقدان کا فائدہ بی جے پی نے پوری طرح اٹھایا ہے ۔ گذشتہ 3 سال کی ناقص کارکردگی کے باوجود جب وزیراعظم نے انتخابی مہم میں سحر انگیزی کا سہارا لے کر جذبات و احساسات کی چادر پھیلا کر ہندو ووٹوں کو مجتمع کرلیا ۔ اور اس جھانسے میں آنے والے ووٹرس کو اس کا خمیازہ بھگتنے کا وقت آئے گا تب تک کافی دیر ہوچکی ہوگی  ۔ اصل سوال مسلمانوں کے ووٹوں کی اہمیت کو نظرانداز کرنے یا ان کی اہمیت کو گھٹا کر پیش کرنے میں کامیاب ہونے والی قیادت سے چوکنا رہنے کا ہے ۔ یو پی کے انتخابات نے مسلمانوں کو یہ اشارہ دیا ہے کہ سیاسی حکمت عملی کسے کہتے ہیں اور اسے کیسے اختیار کیا جاتا ہے ۔ ہندوتوا کا لبادہ  اوڑھے قوم پرستی کا ایک بھیانک تصور پیش کرنے والی سیاسی طاقت کا آئندہ کس طرح مقابلہ کیا جانا چاہئے ۔ اس سے سیکولر پارٹیاں بے خبر دکھائی دیتی ہیں ۔ اس کی ایک وجہ ان کا ناقص مظاہرہ بھی ہے ۔ حکمرانی کے مزے حاصل کرنے کے دوران جب حکمراں پارٹی اصل مسائل پر بے حسی کا رویہ اختیار کرتی ہے تو اس کا شکار مسلم رائے دہندے ہوتے ہیں۔ اگر مسلم رائے دہندے سیاسی پارٹیوں کے تعلق سے اپنے غافل مزاج کو برقرار رکھیں تو پھر آنے والے برسوں میں سیاسی میدان میں بلکہ ہر محاذ پر خود ایک دوسرے کو ویران ہوتا دیکھتے رہیں گے اگر حرکت نہ کریں تو منفی قوتیں ایک ایک کر کے سب کو کنارہ پر لا کھڑا کر دیں گی ۔ چنانچہ یو پی انتخابی نتائج کی روشنی میں صورتحال پر غور کرنے اور اسے بدلنے کی کوشش کرنا ناگزیر ہوگیا ہے ۔ اس سیاسی بے عقلی یا بے حسی کے خاتمے کے لئے معطل دماغوں اور مفلوج سوچ کو نشترزنی کی ضرورت ہے ۔ یو پی انتخابی نتائج نے مسلمانوں کے سامنے جو سچائی اورحالات تخلیق کئے ہیں وہ اگر جھنجوڑنے کا ذریعہ بنتے ہیں تو بہتری کی جانب پہل کرنے کی فکر ضرور ہوگی ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT