Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلمان تحفظات کے لیے خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں

مسلمان تحفظات کے لیے خواب غفلت سے بیدار ہوجائیں

بی سی کمیشن سے نمائندگی ، تحفظات کے مخالفین کو ناکام بنانے کا بہترین موقع
حیدرآباد ۔ 14 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : ہندوستان بالخصوص ریاست تلنگانہ میں مسلمان تعلیمی و معاشی لحاظ سے انتہائی پسماندہ ہیں ۔ سرکاری ملازمتوں میں بھی مسلمانوں کا تناسب انتہائی افسوسناک ہے ۔ زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی حالت ایس ٹی ایس سی یہاں تک کہ بدھسٹوں سے بھی ابتر ہے ۔ مسلمانوں کی حالت میں بہتری کے لیے انہیں ایس سی ایس ٹی اور بی سی کی طرح فراخدلانہ تحفظات فراہم کیے جانے چاہئے ۔ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور حکومت میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے لیکن ریاست کی تقسیم کے بعد حکومت تشکیل دینے والے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو تعلیم اور ملازمتوں کے شعبہ میں 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا ۔ انتخابی مہم کے دوران بھی کے سی آر نے اقتدار ملنے کے فوری بعد مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات دینے کا اعلان کیا تاہم ان کا وہ وعدہ اب تک وفا نہ ہوسکا ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے 12 فیصد مسلم تحفظات کے لیے سارے تلنگانہ میں مہم چلائی ۔ اضلاع میں بھی اس تحریک میں مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ حکومت نے مسلمانوں کی حالت زار کا جائزہ لینے سدھیر کمیشن کا قیام عمل میں لایا اور اس کی توسیع میں تقریبا چار مرتبہ توسیع کی گئی چوتھی مرتبہ میعاد میں توسیع کی مدافعت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کا مقصد اس مسئلہ پر رپورٹ کی تیاری میں بی سی کمیشن کی مدد کرتا ہے ۔ بی ایس راملو کی قیادت میں بی سی کمیشن نے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر عوامی سماعت کا آغاز بھی کردیا ہے اور 17 دسمبر تک یہ سماعت جاری رہے گی ۔ مسلمانوں کو تحفظات کے مخالفین کی کمی نہیں ہے اور اس سماعت میں وہ تحفظات کی شدید مخالفت کریں گے ایسے میں مسلم شخصیتوں اداروں اور تنظیموں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بی سی کمیشن کے دفتر واقع میٹرو واٹر ورکس بلڈنگ خیریت آباد میں صبح 11 تا شام 5 بجے رجوع ہو کر تحریری یا زبانی نمائندگی کریں اور بی سی کمیشن پر یہ واضح کریں کہ ریاست کے مسلمانوں کی ترقی کے لیے انہیں تعلیم اور ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات دئیے جانے ضروری ہیں کیوں کہ سچر کمیٹی رپورٹ اور رنگناتھ مشرا کمیشن کے بعد اب سدھیر کمیشن نے بھی ریاست میں مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی حالت کو انتہائی ابتر بتایا ہے ۔ واضح رہے کہ ریاست تلنگانہ میں 2011 کی مردم شماری کے مطابق 44.64 لاکھ مسلمان ہیں اس طرح ان کی آبادی ریاست میں 12.7 فیصد ہے ۔ سدھیر کمیشن نے واضح طور پر کہا ہے کہ ریاست تعلیم اور ملازمتوں کے شعبہ میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہے ۔ ان میں ناخوانگی کی شرح دیگر ابنائے وطن سے کہیں زیادہ ہے ۔ پولیس اور دوسرے مرکزی و ریاستی حکومتوں میں بھی مسلمانوں کی تعداد قابل نظر انداز ہے ۔بیروزگاری اور خراب معاشی حالت نے مسلمانوں میں تشویش اور بے چینی کی کیفیت پیدا کردیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ زائد از 54 فیصد مسلم خاندان یومیہ اجرت پر کام کر کے اپنی زندگیوں کا سامان کرتے ہیں ۔ 81 فیصد ہنوز تعلیمی اور معاشی طور پر پسماندہ ہے ۔ ان حالات میں مسلمانوں کو ماضی میں فراہم کردہ 4 فیصد تحفظات کی سطح بڑھاکر 12 فیصد کردینا چاہئے ۔ بہر حال بی سی کمیشن نے نمائندگیوں کی وصولی اورسماعت کا آغاز کردیا ہے ۔ مسلمان انفرادی طور پر اور کسی تنظیم یا ادارہ کی جانب سے بھی کمیشن سے نمائندگی کرسکتے ہیں ۔ مسلمانوں کے لیے نمائندگی کا یہ اچھا موقع ہے ۔ اگر اب بھی ہم خواب غفلت میں پڑے رہیں تو تحفظات کے مخالفین اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب ہوں گے اور آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی ۔ حلف نامہ کا نمونہ روزنامہ سیاست سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT