Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / مسلمان خود اپنی تعلیمی و معاشی حالت کو بہتر بنانے آگے آئیں: زاہد علی خاں

مسلمان خود اپنی تعلیمی و معاشی حالت کو بہتر بنانے آگے آئیں: زاہد علی خاں

شادیوںمیں کفایت شعاری پر زور ۔ اسراف سے بچ کر کالج اور ہاسپٹل قائم کیا جاسکتا ہے ۔ 56 ویں دو بہ دو پروگرام سے ایڈیٹر سیاست کا خطاب

o  لڑکی کے انتخاب میں سیرت کو ترجیح دیں
o  قبول صورت لڑکی سارے خاندان کیلئے خوشی کا باعث
o  پانچ ہزار والدین ‘ سرپرستوں کی شرکت
o   لڑکوں کے 140 ‘ لڑکیوں کے 275 رجسٹریشن
حیدرآباد ۔ 21 فبروری ( دکن نیوز)  جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے آج مسلمانوں سے اپیل کہ وہ شادیوں کو آسان بنائیں ‘ اپنی تقاریب میں سادگی اور کفایت شعاری کو اختیار کریں تاکہ ملت اسلامیہ کو معاشی انحطاط سے بچایا جاسکے ۔ وہ آج ٹولی چوکی کے ایس اے ایمپرئیل گارڈن میں ادارہ سیاست اور میناریٹیز ڈیولپمنٹ فورم کے زیر اہتمام منعقدہ (56) ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام میں صدارتی تقریر کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں شادی کے اخراجات 5 تا 15 لاکھ روپئے تک ہو رہے ہیں اگر ہم شادیوں میں اسراف سے گریز کریںتو ایک سال کے اندر اندر ایک ہاسپٹل یا کالج قائم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کئی مسلمان محض جھوٹی شان کے خاطر مہینگے شادی خانوں میں اپنے لڑکے و لڑکیوں کی شادیاں انجام دے رہے ہیں  ۔ اس کے ساتھ پرتکلف لوازمات اسراف اور فضول خرچی کی علامت بن گئے ہیں اس صورتحال کے نتیجہ میں مسلم معاشرہ کا متوسط طبقہ زیادہ پریشان ہے ۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بعض شادیوں کی تقاریب سود لے کر انجام دی جا رہی ہیں ۔ حالانکہ اسلام میں سود حرام ہے اور سود کے پیسے سے تیار کیا جانے والا کھانا ہمارے لئے حرام ہوگا ۔ اس لئے انہوں نے  طئے کرلیا کہ وہ صرف غریبوں کی شادیوں میں شرکت کریں گے اور صرف ایسی شادیوں میں شرکت کریں گے جو اسراف اور فضول خرچی اور بے جا رسومات سے پاک ہوگی ۔ جناب زاہد علی خان نے ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنی معاشی اور تعلیمی حالات کو بہتر بنانے آگے بڑھیں کیونکہ وہی قومیں باعزت مقام حاصل کرسکتی ہیں جو تعلیم کے شعبہ میں آگے ہوں اور ان کی معاشی حالت مستحکم و طاقتور ہو ‘ انہوں نے کہاکہ والدین کا فریضہ ہے کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق اعلی تعلیم سے آراستہ کریں ۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لڑکیوں میں تعلیم کی اُمنگ بڑھتی جا رہی ہے  جو ہمارے معاشرہ کیلئے فال نیک ہے تاہم ضرورت یہ ہے کہ ہمارے لڑکے بھی غیر ضروری سرگرمیوں و مشاغل سے بچتے ہوئے اپنے مستقبل کی تعمیر ‘ معاشرہ کی ترقی کیلئے جدوجہدکریں۔ انہوںنے لڑکوں کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ صورت شکل کی اہمیت اور دولت کی لالچ کے رجحان کو ترک کر دیں بلکہ لڑکی کے انتخاب میں سیرت و کردار کو زیادہ اہمیت دیں ۔ ایک قبول صورت لڑکی پورے خاندان کیلئے خوشی اور خوشحالی کا باعث بن سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوبہ دو ملاقات پروگرام نہ صرف شہر حیدرآباد بلکہ اضلاع میں بھی کافی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ دیگر ریاستوں  سے بھی نمائندگی کی جا رہی ہے کہ اس نوعیت کے پروگرام  وہاں بھی منعقد ہوں ۔ انہوں نے جناب محمد معین الدین پروپرائٹر ایمپرئیل گارڈن کی ملی سماجی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ دوبہ دو ملاقات پروگرام کی کامیابی میں اُن کی نیک نیتی اور اخلاص کو بڑا دخل ہے ۔ انہوں نے سنٹرل پبلک اسکول (خلوت) کے طالب علم محمد مظفرالدین کی صلاحیتوں کی ستائش کرتے ہوئے انہیں رقمی انعام عطاکیا۔ اس کے علاوہ محمد معین الدین ‘ ڈاکٹر ایوب حیدری نے بھی نقد انعامات دیئے ۔ مہمان خصوصی جناب محمد معین الدین صدرنشین فیڈریشن آف ٹولی چوکی کالونیز نے کہا کہ آج کے نفسا نفسی کے دور میں دوسروں کے مسائل کو حل کرنا آسان کام نہیں ہے ۔ جناب زاہد علی خان کی صبح  اس فکر سے شروع ہوتی ہے کہ ا ٓج وہ ملت اسلامیہ کیلئے کیا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ در حقیقت رشتے  آسمانوں میں طئے ہوتے ہیں لیکن اس کی تکمیل کیلئے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو ذمہ داری عطا کی ہے ۔ انہوں نے لڑکیوں کے والدین کو مشورہ دیاکہ وہ تہجد کی نماز ادا کریں اور اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعائیں کریں ۔ جناب معین الدین نے کہا کہ آج کل رشتے طئے کرنے میں والدین کاروباری انداز فکر اختیار کر رہے ہیں ۔ دوسروں کی برائیوں پر نظر عام بات  ہوتی جا رہی ہے  اس سلسلہ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے انداز فکر میں تبدیلی لائیں ۔ جناب عاصدیقی صدر ایم ڈی ایف نے کہا کہ والدین کے لئے اولاد سب سے بڑی نعمت ہے ۔ اُن کی پرورش ‘ تعلیم اور دیکھ بھال والدین کی ذمہ داری ہے اسی طرح اُن کو ایک اچھی ازدواجی زندگی فراہم کرنا بھی ہمارا اولین فریضہ ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنے بچوں کے رشتے طئے کرنے میں اس تعلق سے غیر ذمہ دار ہوگئے ہیں ۔ اکثر والدین شادیوںکیلئے رشتوں کے انتخاب میں حسن و جمال اور دولت و ثروت کو ترجیح دینے لگے ہیں جو ازدواجی زندگی کیلئے کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتے ۔ انہوںنے کہا کہ ماں باپ کے اس طرز عمل سے لڑکے ہوں کہ لڑکیاں ان کی عمریں تجاوز کرتی جا رہیں ۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حضور اکرم ﷺ نے نکاح کو آسان بنانے کہا لیکن ہم نکاح کو انتہائی مشکل بناتے جا رہے ہیں ۔ سنٹرل پبلک اسکول خلوت کے کمسن طالب علم محمد مظفرالدین نے جہیز اور لین دین کے خلاف اپنی پرجوش و پراثر تقریر کے ذریعہ داد تحسین  حاصل کی ۔ اُن کی ٹیچر محترمہ حمیدہ بیگم اور اسکول پرنسپل ظفر اللہ فہیم بھی موجود تھے ۔ دوبہ دو ملاقات پروگرام میں جناب علی الگتمی ‘ کے سی کلاپا صدرنشین کھادی اینڈ ویلیج انڈسٹریز کمیشن ‘ محمد غوث خلیل احمد ‘  میر لیاقت علی ہاشمی ‘  محمد نظام الدین سلمان‘ ماجد انصاری ‘ ڈاکٹر سید غوث الدین اوردیگر معززین نے شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT