Wednesday , May 24 2017
Home / Top Stories / مسلمان طلاق ثلاثہ کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت نہ دیں

مسلمان طلاق ثلاثہ کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت نہ دیں

A delegation of leaders from the Muslim Community, under the umbrella of the Jamiat Ulama-i-Hind, calls on the Prime Minister, Shri Narendra Modi, in New Delhi on May 09, 2017.

جمعیۃ العلمائے ہند سے ملاقات کے دوران نریندر مودی کا مشورہ ،وفد کے ارکان کی جانب سے وزیراعظم کی ستائش

نئی دہلی ۔ /9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ طلاق ثلاثہ مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت نہ دیں اور فرقہ کی نامور تنظیموں پر زور دیا کہ وہ اصلاحات کا آغاز کرنے کے سلسلے میں پہل کریں ۔ انہوں نے یہ تبصرہ مسلمانوں کی صف اول کی تنظیم جمعیۃ العلمائے ہند کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ۔ انہوں نے وفد کے ارکان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کی عظیم ترین طاقت ہم آہنگی اور خیرسگالی میں ہے ۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو شہریوں کے درمیان فرق و امتیاز نہیں کرنا چاہئیے ۔ نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان کی خصوصیت کثرت میں وحدت رہی ہے ۔ طلاق ثلاثہ کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ مسلم فرقہ کو اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کی اجازت نہ دینی چاہئیے ۔ انہوں نے وفد کے ارکان پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اصلاحات میں پہل کرنے کیلئے ذمہ داری قبول کریں ۔ وفد کے ارکان نے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر وزیراعظم کے موقف کی ستائش کی ۔ مودی کا تبصرہ سی پی آئی ایم قائد سیتارام یچوری کے یہ کہنے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ ’’وزیراعظم نے طلاق ثلاثہ کے خلاف جو مہم شروع کررکھی ہے وہ ایک فرقہ پرست مہم ہے ‘‘۔ مودی نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی نئی نسل کو انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کا شکار نہیں بننا چاہئیے ۔

مودی کے نظریہ کی ستائش کرتے ہوئے وفد کے ارکان نے امید ظاہر کی کہ ملک گیر سطح پر اعتماد بحال ہوگا کہ وہ عوام کے درمیان ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ سماج کے تمام شعبوں کی خوشحالی اور فلاح و بہبود ہو ۔ وفد کے ارکان نے کہا کہ مسلم فرقہ نئے ہندوستان کی تعمیر میں مساوی شراکت دار بننا چاہتا ہے ۔ وہ وزیراعظم کے عزم کا حوالہ دے رہے تھے ۔ دہشت گردی کو ایک بڑا چیالنج قرار دیتے ہوئے انہوں نے اس سے مقابلہ کا مشترکہ عہد کیا اور کہا کہ پوری طاقت کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں گے ۔ بیان کے بموجب انہوں نے کہا کہ یہ مسلم طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی حالت میں کسی کو بھی ملک کی صیانت یا بہتری سے سمجھوتہ نہیں کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم برادری کبھی بھی ہندوستان کے خلاف سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ وادی کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے ارکان وفد نے کہا کہ صرف مودی ہی یہ مسئلہ حل کرسکتے ہیں ۔ وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشیر قومی سلامتی اجیت ڈوول نے کہا کہ پوری دنیا کی نظریں ہندوستان پر جمی ہوئی ہیں ۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے تمام شعبوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک کو آگے بڑھائیں ۔ وفد کے قائدین نے وزیراعظم سے اتفاق کیا اور کہا کہ مقصد ملک کی پیشرفت ہونا چاہئیے ۔ ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم کے نعرے ’’ سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ (تمام کا تعاون ، تمام کیلئے ترقی ) پر عمل کرنا چاہئیے ۔ وفد میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صدر جمعیۃ العلمائے ہند ، مولانا محمود مدنی جنرل سکریٹری تنظیم ، ظاہر قاضی صدر انجمن اسلام ممبئی ، اختر الواسع اور مولانا بدرالدین اجمل شامل تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT