Tuesday , April 25 2017
Home / Top Stories / مسلمان عملی سطح پرمثالی نمونہ پیش کریں،اسلامی قوانین ابدی

مسلمان عملی سطح پرمثالی نمونہ پیش کریں،اسلامی قوانین ابدی

اعتراضات  غلط فہمی کا نتیجہ : مولانا رابع حسنی ندوی ، حکمت و تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس

کولکتہ ۔ /18 نومبر (پرویز باری) آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مسائل کے حل کے لئے جذباتیت کی بجائے حکمت اور تدبرکے ساتھ آگے بڑھنے اور مسلک ومشرب سے اوپر اٹھ کر اتحاد امت پرزوردیاگیا۔ اجلاس میں مزید تفہیم شریعت کیلئے اسلامی قوانین کی افادیت ، اس کی معنویت اورعوام میں پھیلی غلط فہمی اورغلط معلومات کے ازالہ پرغوروفکرکیا گیا۔ ساتھ ہی اس امر پر توجہ دی گئی کہ نکاح وطلاق اوردیگرعائلی وسماجی معاملات میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے مسلم معاشرہ میں جوکوتاہی ہوتی ہے، اس کاسدباب کیاجائے، جس کے سبب عام مسلمانوں کی غلطی کو اسلامی تعلیمات کی غلطی بتائی جاتی ہے اورمسلمانوں کی غلطی کو شریعت کی غلطی سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ دین کامل ہے اورخداکے بنائے ہوئے قوانین فطرت انسانی اورعام ضرورت کے مطابق ہیں ۔ طلاق کے مسئلہ پرجواعتراضات کئے جارہے ہیں اس میں خاصادخل نکاح اورطلاق کے مسئلہ کوصحیح طورپرنہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ یہ قانون انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے اللہ رب العزت کا ہے جوانسانوں کاخالق اوران کی ضرورتوں اوردشواریوں کوسب سے زیادہ جاننے والا ہے۔

اس میں کسی طرح کاشبہ نہیں کرناچاہئے۔ عاملہ کی میٹنگ صدرمسلم پرسنل لاء بورڈمولانا رابع حسنی ندوی کی صدارت میں ہوئی جس میں جنرل سکریٹری بورڈ مولانا محمد ولی رحمانی، مولانا کلب صادق مولانا جلال الدین عمری،کاکاسعید ، مولانا فخرالدین کچھوچھوی ، مولانا خلیل الرحمان سجاد نعمانی، مولانا عبدالوہاب خلجی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ، مولانا فضل الرحیم مجددی ، مولانا عتیق احمد سنبھلی ، مولانا عبداللہ مغیثی ،کمال فاروقی ، مولانا سفیان قاسمی، مولانامصطفیٰ رفاعی ندوی ، قمرالاسلام ، مولانا اسرارالحق  قاسمی ، مولانا عبداللہ پھولپوری ، ڈاکٹراسماء  زہرا ، ڈاکٹرقاسم رسول  الیاس ، ظفریاب جیلانی ، مولانا انیس الرحمان قاسمی اور مولانا ابو طالب رحمانی شامل رہے۔ اراکین نے خطبہ صدارت کی تائیدکی اور ملک کے موجودہ پس منظرمیں بورڈکی کوششوں کوسراہا نیزصدر بورڈ اور جنرل سکریٹری بورڈکے اقدام کی تحسین اوربورڈکی کارگذاریوں پر اظہا راطمینان کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کیا ۔ نظامت امیرشریعت مولانا محمد ولی رحمانی نے کی۔ صدربورڈمولانارابع حسنی ندوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اسلام کے مذہبی قوانین کو یہ خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ وہ  آسمانی کتاب قرآن مجیداورآخری نبی کوملنے والی وحی کے ذریعہ مقررکردہ اور ابدی ہیں ۔ وہ آسمانی ہدایات کے تحت ہونے کی بنا پر ناقابل  تغیر اور ناقابل تنسیخ ہیں۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کیلئے اس میں کسی طرح کی ترمیم کرنا یا ترمیم کا مشورہ  دینا قابل قبول نہیں ہے۔ اور ہندوستان کے سیکولر دستورکی بنا پر مسلمانوں کو اس بات کاحق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عمل کریں ۔

صدر بورڈ نے اس سلسلہ میں تین اہم پہلوؤں کی طرف اشارہ فرمایا اورکہاکہ ایک تواس سلسلہ میں ناواقف لوگوں کے اشکالات رفع کئے جائیں اورانہیں مطمئن کیا جائے۔ دوسرے  یہ کہ عدالتی ضرورت پڑنے پرقانونی جدوجہدکی جائے تیسرے یہ کہ مسلمانوں کوعملی سطح پرمثالی نمونہ پیش کرنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔ صدر محترم  نے واضح کیا کہ طلاق کے مسئلہ پرجو اعتراضات کئے جارہے ہیں اس میں خاصا دخل نکاح اور طلاق کے مسئلہ کوصحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ۔ یہ قانون انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ اللہ رب العزت کا ہے جوانسانوں کاخالق اور ان کی ضرورتوں اور دشواریوں کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔اس میں کسی طرح کا شبہ نہیں کرنا چاہئے ۔ مولانا رابع حسنی ندوی نے واضح کیا کہ طلاق  بظاہر سختی کاعمل سمجھا گیا ہے لیکن وہ سخت خطرہ سے بچانے کیلئے بطور ضرورت رکھی گئی ہے۔

نکاح و طلاق و میراث میں عورتوں کیلئے فائدہ کی صورتیں مردوں سے زیادہ رکھی گئی ہیں ۔ صدر بورڈ نے اس پرزوردیاکہ اسلام میں مذہبی عمل کادائرہ صرف عبادات تک محدودنہیں، وہ عقیدہ توحید ، عائلی تعلقات ، سماجی معاملات اور مالی احکامات تک پھیلا ہوا ہے اور عبادات کی طرح ہی قابل عمل ہیں ۔ ان میں انسان کے نفع وضرردونوں کا بہت حکیمانہ انداز پایا جاتا ہے اوران تفصیلات ومصلحتوں کی صحیح تشریح  ، قرآن وحدیث کوتفصیل و توجہ سے پڑھے بغیرکوئی انسان نہیں کرسکتا اس  سلسلہ میں قرآن وحدیث کا علم رکھنے والے ہی ان کی مصلحت وانسانی ضرورت سے ان کی مطابقت بتاسکتے ہیں خواہ نکاح کامسئلہ ہو یا طلاق کا ۔ مولانارابع حسنی ندوی نے یہ بھی کہاکہ شادی کو اسلام میں معاہدہ کی شکل دی گئی ہے ، ہاں مسلمان بہت سے امورکونظراندازکرتے ہیں اس کی وجہ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی غلطی شریعت کی غلطی سمجھی جاتی ہے جو درست نہیں۔ صدر محترم نے کہا کہ ہمارا یہ اجلاس ملک کے خاص حالات میں منعقد ہورہا ہے جس میں بورڈلائحہ عمل طے کرے گا ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈکے نائب صدرمولانا کلب صادق نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج ہمیں یہ تہیہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف مسلمان ہیں ۔ میں صرف مسلمان سمجھتا ہوں اپنے آپ کو ،  مسائل اسی لئے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو شیعہ ، سنی ، دیوبندی  ، بریلوی میں بانٹ رکھا ہے۔ جب تک ہمارے اندر سے یہ برائی ختم نہیں ہوگی ہم کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ آج ہمیں عقل اور تدبر سے کام لینا ہوگا اور عقل کیلئے علم کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کا سب سے اہم اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت جلد مشتعل ہوجاتے ہیں بہت جلد غصہ ہوجاتے ہیں اور نعرے لگانے لگتے ہیں لیکن یادرکھیں کہ مسائل صرف تدبر اور عقل سے حل ہوتے ہیں جذبات اور نعرہ سے نہیں ۔  آج ہم نے عقل وتدبرسے کام لینا چھوڑ دیا ہے تو دیگر قومیں ہمارے اوپر سوارہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT