Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / ’’مسلمان کے ہاتھوں اپنے مسلم بھائیوں کا قتل ناممکن ‘‘

’’مسلمان کے ہاتھوں اپنے مسلم بھائیوں کا قتل ناممکن ‘‘

Salman Farsi, Dr Farogh Magdumi, Noorulhuda Samshodduha and Raees Ansari after the verdict by the special MCOCA court. The four were among the eight who were discharged in the 2006 Malegaon bomb blast case. Express Photos.

اگر وہ چاہتے تو گنیش نمرجن کے دن دھماکے کرتے ‘ خصوصی این آئی اے جج وی وی پاٹل کا تاثر

مالیگاؤں دھماکے مقدمہ
۰۰۰  شب برات کے مقدس موقع پر
مسلمان یہ حرکت نہیں کرسکتے
۰۰۰   اے ٹی ایس عہدیداروں نے
اپنی ذمہ داری غلط انداز میں نبھائی
۰۰۰  مجرمانہ پس منظر رکھنے والوں کو
’’بلی کا بکرا ‘‘بنادیا
ممبئی۔ 26 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) خصوصی این آئی اے عدالت جس نے مالیگاؤں 2006ء دھماکہ مقدمہ میں 8 ملزمین کو رہا کردیا‘ یہ احساس ظاہر کیا کہ تمام ملزمین جو خود مسلمان ہیں‘ یہ ناممکن بات ہے کہ وہ محض دو فرقوں کے مابین منافرت پیدا کرنے کیلئے اپنے ہی لوگوں کا قتل کریں اور وہ بھی شب برات جیسے مقدس موقع پر تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ عدالت نے اے ٹی ایس عہدیداروں پر بھی اپنی ڈیوٹی غلط انداز میں بجا لانے پر انہیں قصوروار قرار دیا اور کہا کہ محض شبہ کی بنیاد پر انہیں مقدمہ میں ملزمین کے طور پر پیش کیا گیا۔ مالیگاؤں بم دھماکوں میں 37 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس واقعہ کے تقریباً 10 سال بعد عدالت نے 8 مسلم نوجوانوں کو کل شواہد کے فقدان کی بناء منسوبہ الزامات سے بری کردیا تھا۔ خصوصی این آئی اے جج وی وی پاٹل نے کہا کہ ان کی نظر میں اے ٹی ایس نے 8 ستمبر 2006ء کو ہوئے دھماکوں کے پس پردہ جو خاکہ کھینچا‘ وہ بنیادی طور پر غلط ہے اور ایک عام آدمی اسے قبول نہیں کرسکتا۔ وہ ایسا اس لئے کہہ رہے ہیں کیونکہ شب برات سے پہلے گنیش نمرجن جلوس تھا۔

کیا ملزمین کو مالیگاؤں میں فسادات برپا کرنے کے معاملے میں کوئی اعتراض تھا‘ اگر ایسا ہوتا تو وہ گنیش نمرجن کے دن بم دھماکے کرسکتے تھے اور ایسا کرنے سے زیادہ سے زیادہ ہندو افراد ہلاک ہوتے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اے ٹی ایس کے تحقیقاتی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ ملزمین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے خاطر خواہ بنیاد نہیں ہے۔ میری نظر میں ملزمین کے خلاف وضع الزامات کے لئے بادی النظر میں کوئی ثبوت نہیں‘ اور ان تمام کے خلاف درحقیقت کوئی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ملزمین کا مجرمانہ پس منظر تھا اور اسی وجہ سے وہ اے ٹی ایس کے ہاتھوں بلی کا بکرا بنے۔ اس کیساتھ ساتھ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اے ٹی ایس عہدیداروں نے جو اس معاملے کی تحقیقات کی‘ ان ملزمین کے بارے میں زیادہ کچھ معلومات حاصل کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا‘ اسی لئے ان کی نظر میں ان عہدیداروں نے اپنی ذمہ داری پوری طرح نہیں نبھائی لیکن غلط طور پر بھی انہیں موردالزام قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مالیگاؤں میں حمیدیہ مسجد کے باہر شب برات کے موقع پر سلسلہ وار بم دھماکوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔

TOPPOPULARRECENT