Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / مسلمان 9تا 12 فیصد تحفظات کے مستحق ۔ سدھیر کمیشن کی سفارش

مسلمان 9تا 12 فیصد تحفظات کے مستحق ۔ سدھیر کمیشن کی سفارش

مسلم ارکان کی موجودگی کے باوجود حکومت کو گمراہ کرنے کا طریقہ بتایا گیا

مسلم ارکان کے تقرر کی سفارش جماعت نے کی تھی

حیدرآباد۔/25اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے مسئلہ پر قائم کردہ سدھیر کمیشن آف انکوائری نے تلنگانہ میں 80 فیصد مسلمانوں کو انتہائی پسماندہ قرار دیتے ہوئے کم سے کم 9 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 12فیصد تحفظات کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے تحفظات کی فراہمی کیلئے قانونی رائے حاصل کرتے ہوئے اسمبلی میں قانون سازی کی سفارش کی۔ سدھیر کمیشن نے جس طرح تحفظات کے حق میں اپنی رائے دی ہے اس سے تحفظات کی فراہمی کے طریقہ کار میں واضح طور پر فرق نظر آئے گا۔ کسی بھی طبقہ کو تحفظات کی فراہمی کیلئے بی سی کمیشن کی جانب سے سفارش ضروری ہے لیکن سدھیر کمیشن آف انکوائری نے حکومت کو اپنی سفارشات میں اگرچہ تحفظات کی فراہمی کا مشورہ دیا تاہم اس کے لئے جو طریقہ کار پیش کیا ہے وہ قانونی اور دستوری طریقہ کار سے مختلف ہے۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی قیادت میں قائم کردہ کمیشن نے 18 ماہ تک مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ پیش کی۔ کمیشن نے سرکاری ملازمتوں، تعلیم اور دیگر تمام شعبوں میں مسلمانوں کی پسماندگی کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اپنے سروے کے حق میں اعداد و شمار بھی پیش کئے۔ کمیشن نے ریاست میں جاریہ 4 فیصد تحفظات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ تحفظات سرکاری اعلامیہ کے تحت فراہم کئے گئے ہیں اور ریاست میں مجموعی تحفظات 50فیصد ہیں۔ کمیشن کی جانب سے اپنی سفارشات میں تحفظات کے مسئلہ کو بی سی کمیشن سے رجوع کرنے کے بارے میں کوئی تجویز نہ ہونے سے مزید اُلجھن پیدا ہوچکی ہے۔ کمیشن آف انکوائری میں اگرچہ سچر کمیٹی اور کنڈو کمیشن میں خدمات انجام دینے والے ماہرین موجود تھے اس کے باوجود کمیشن نے تحفظات کے مسئلہ کو بی سی کمیشن سے رجوع کرنے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ انکوائری کمیشن حکومت کو دستوری اور قانونی طریقہ کار کی رہنمائی کرتا۔ واضح رہے کہ کمیشن کے مسلم ارکان کے تقرر میں مقامی سیاسی جماعت کا اہم رول ہے جو برسراقتدار پارٹی کی حلیف جماعت ہے۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ کے خلاصہ میں کہا ہے کہ مسلمانوں کی آبادی کا 80 فیصد حصہ معاشی اور تعلیمی طور پر پسماندہ ہے اور اس حالت کو سدھارنے کیلئے حکومت کو چاہیئے کہ انہیں 12 فیصد تحفظات یا کم سے کم 9 فیصد تحفظات فراہم کرے۔ کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا کہ مسلمان نہ صرف پسماندہ ہیں بلکہ شدید طور پر محرومی کا شکار ہیں۔ تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت کو سرعت کے ساتھ قدم اٹھانے چاہیئے۔ قانونی رائے حاصل کرنے کے بعد قانون سازی کی ضرورت ہے جیسا کہ موجودہ 4فیصد تحفظات سپریم کورٹ نے عبوری احکامات کے تحت جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔ سدھیر کمیشن کی ان سفارشات کو حکومت نے قانونی رائے حاصل کرنے کیلئے ماہرین کے حوالے کیا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ سدھیرکمیشن نے تحفظات کی فراہمی کے قانونی اور دستوری طریقہ کار کو کس طرح نظرانداز کردیا جبکہ کمیشن اس بات سے ضرور واقف ہوگا کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے جب صرف قانون سازی کے ذریعہ 5 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے تو عدالت نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ بی سی کمیشن کے بغیر تحفظات فراہم نہیں کئے جاسکتے۔ لہذا حکومت نے بی سی کمیشن تشکیل دیا جس نے 4 فیصد تحفظات کی سفارش کی تھی۔ اب جبکہ حکومت نے علحدہ بی سی کمیشن قائم کردیا ہے ایسے میں تحفظات کے مسئلہ کو بی سی کمیشن سے رجوع کرنا ایک اہم سوال بن چکا ہے۔ اگر حکومت سدھیر کمیشن کی سفارشات پر عمل کرنا چاہے تو اسے راست طور پر قانون سازی کرنی ہوگی یا پھر حکومت اپنے طور پر تحفظات کے مسئلہ کو بی سی کمیشن سے رجوع کرسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے مسلم تحفظات کے مسئلہ کو بی سی کمیشن سے رجوع کرنے کے بارے میں ابھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ الغرض سدھیر کمیشن کی رپورٹ میں تحفظات کے قانونی اور دستوری طریقہ کار کا عدم تذکرہ اور بی سی کمیشن سے رجوع کرنے کی سفارش نہ ہونے سے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT