Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم اساتذہ پر محکمہ تعلیمات کا رویہ قابل اعتراض

مسلم اساتذہ پر محکمہ تعلیمات کا رویہ قابل اعتراض

اساتذہ کے دیرینہ مسائل جوں کے توں ، خادم الحجاج کے لیے درخواستوں کی عدم منظوری
حیدرآباد۔16اگسٹ (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ تعلیم کی جانب سے مسلم اساتذہ کے متعلق اختیار کردہ رویہ قابل اعتراض ہوتا جا رہا ہے اور ان اساتذہ کے مسائل کے حل کے لئے کوئی تیار نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ کو معمولی مسئلہ تصور کرتے ہوئے نظر انداز کیا جانے لگا ہے ۔ ریاستی حج کمیٹی کی جانب سے ہر سال حج بیت اللہ کے دوران خادم الحجاج کا انتخاب عمل میں لاتے ہوئے انہیں حاجیوں کی رہبری و رہنمائی کے علاوہ مدد کیلئے روانہ کیا جاتا ہے اورخادم الحجاج کے زمرہ میں سرکاری ملازمین کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے فرائض میں کوئی غفلت کرتے ہیں تو ان کے خلاف کاروائی کو ممکن بنایا جاسکے لیکن گذشتہ دو برسوں سے ریاست تلنگانہ کے محکمہ تعلیم کی جانب سے خادم الحجاج کے زمرہ میں منتخب ہونے والے اساتذہ و ملازمین کو برسر خدمت خادم الحجاج کی حیثیت سے روانہ ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے بلکہ انہیں رخصت حاصل کرتے ہوئے حج کو روانہ ہونے پر مجبور کیا جا رہاہے۔ جاریہ سال ریاستی حج کمیٹی نے 17خادم الحجاج کو منتخب کیا ہے جن میں 6کا تعلق محکمہ تعلیم سے ہے لیکن اس مرتبہ بھی ان 6ملازمین کو رخصت حاصل کرنے کیلئے کہا جا رہاہے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملازمین اپنی مرضی سے درخواست داخل کرتے ہوئے منتخب ہوتے ہیں اور خادم الحجاج کی حیثیت سے روانہ ہوتے ہیں تو ان کے اس عمل کے لئے محکمہ تعلیم کی جانب سے برسر خدمت کیوں کر روانہ کیا جائے؟ ریاست کے دیگر خادم الحجاج جن کا مختلف محکمہ جات سے تعلق ہے انہیںان کے محکمہ جات کی جانب سے برسر خدمت خادم الحجاج کی خدمات کیلئے روانہ ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن صرف محکمہ تعلیم میں ایسا نہیں کیا جا رہاہے جو کہ نہ صرف محکمہ تعلیم کے ملازمین کیلئے بلکہ ریاستی حج کمیٹی اور ریاستی حج کمیٹی کے توسط سے روانہ ہونے والے عازمین کیلئے بھی تکلیف کا سبب بن سکتا ہے ۔ کیونکہ اگر ریاستی حج کمیٹی کے توسط سے روانہ ہونے والے یہ خادم الحجاج خدمات میں کوتاہی یا لاپرواہی کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی اعتبار سے مشکل ہوجائے گی کیونکہ انہیں قانونی لچک حاصل رہے گی کہ وہ برسرخدمت نہیں تھے اسی لئے ان کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش کے عازمین کے لئے منتخب کئے گئے خادم الحجاج کو تمام محکمہ جات نے برسرخدمت روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ریاست تلنگانہ میں محکمہ تعلیم کے ماسواء دیگر محکمہ جات کی جانب سے انہیں برسر خدمت روانہ کیا جا رہا ہے لیکن محکمہ تعلیم میں ایسا نہیں کیا جا رہاہے۔ اساتذہ و ملاز مین کی تنظیموں کے ذمہ داران محکمہ تعلیم کے اس رویہ کو اعلی عہدیداروں کی متعصب ذہنیت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ گذشتہ ایک برس سے اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود مسئلہ کی عدم یکسوئی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے آگے بے بس ہے۔

TOPPOPULARRECENT