Saturday , May 27 2017
Home / ہندوستان / مسلم اصلاح پسندوں کی سماعت کیلئے جدوجہد

مسلم اصلاح پسندوں کی سماعت کیلئے جدوجہد

طلاق ثلاثہ مقدمہ‘ رواج کے خاتمہ کا مطالبہ ‘ پرسنل لاء بورڈ کے موقف پر تنقید
نئی دہلی ۔ 7مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) مسلم گروپ کی ایک مشہور تنظیم  نے مبینہ طور پر شرعی قوانین کی طلاق ثلاثہ کی متنازعہ روایت کی تائید کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران تنظیم کو بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہیئے ۔ مسلم برادری کی جانب سے ایسی آوازیں اٹھنے کی رفتار میں شدت آگئی ہے جو زبانی طور پر طلاق ثلاثہ کو خواتین کے وقار کے منافی سمجھتے ہیں ‘ ان کا خیال ہے طلاق ثلاثہ کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ کُل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے شرعی قوانین کی تائید کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ کو جائز قرار دیا ہے ۔ اس کے اس موقف نہ صرف خواتین کی جانب سے چیلنج کیا جارہا ہے بلکہ شادی کے تعلق کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے پر مسلم طبقہ کے دانشوروں اور محققین نے بھی غیر درست قرار دیا ہے ۔ شیعہ اور بوہرہ طبقہ کے علمائے دین اور دیگر دانشوروں نے کہاکہ قرآن مجید میں اور حدیث شریف میں مبینہ طریقہ کار کے مطابق پیغمبر اسلام نے اقوال اور اعمال میں یکسانیت پر زور دیا ہے اور ایک ہی نشست میں طلاق کی ان اقوال کی روشنی میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ روایات ‘ رواج اور اسلام کے قانون میں فرق کو شناخت کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسلامی دانشوروں نے مقدمہ کی سماعت کے دوران اپنی رائے پیش کرنے کی سپریم کورٹ سے اجازت طلب کی ہے ۔ سپریم کورٹ 11مئی کو اس مسئلہ پر چند درخواستوں کی سماعت کرنے والی ہیں جب کہ سیاسی لب و لہجہ جارحیت اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ کل ہند شیعہ پرسنل لاء بورڈ اس رواج کو ختم کرنے کیلئے ایک سخت قانون کی ضرورت پر زور دے رہا ہے ۔ بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس نے کہا کہ ستی مخالف قانون کی طرح ایک سخت گیر قانون ضروری ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT