Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / مسلم اقلیت کو سیول سرویس کوچنگ کیلئے معیاری اداروں کا انتخاب موہوم

مسلم اقلیت کو سیول سرویس کوچنگ کیلئے معیاری اداروں کا انتخاب موہوم

طلبہ میں تشویش ، کیرئیر متاثر ہونے کا امکان ، عہدیداروں کی تساہلی
حیدرآباد۔/19مئی، ( سیاست نیوز) سیول سرویسس میں مسلم اقلیت کی نمائندگی میں اضافہ کیلئے تلنگانہ حکومت نے معیاری اداروں میں اقلیتی طلباء کو کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت کا یہ جذبہ یقیناً قابل ستائش ہے لیکن کوچنگ کیلئے ابھی تک کسی معیاری ادارہ کا انتخاب نہیں کیا گیا جس کے باعث منتخب طلباء میں تشویش پائی جاتی ہے۔ سیول سرویسیس سے متعلق شہر میں موجود تمام کوچنگ اداروں میں کلاسیس کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے ایسے میں اقلیتی طلباء کے داخلوں میں تاخیر سے نہ صرف طلباء کوچنگ میں پیچھے رہ جائیں گے بلکہ اندیشہ ہے کہ ان کے نتائج پر اثر پڑیگا۔ اقلیتی طلباء کو سیول سرویسیس میں منتخب کرانے کیلئے مقررہ مدت کی کوچنگ ضروری ہے جس طرح دیگر خانگی طلباء کو کوچنگ ادارے دے رہے ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے ایک منفرد فیصلہ کرتے ہوئے انتہائی معیاری اداروں میں کوچنگ دینے اور تمام اخراجات برداشت کرنے کا فیصلہ کیا لیکن عہدیداروں کے تساہل کے نتیجہ میں کوچنگ کیلئے منتخب طلباء اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں کہ آخر کوچنگ کا آغاز کب ہوگا۔ سابق میں سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز عثمانیہ یونیورسٹی کے ذریعہ ہر سال 100 طلباء کیلئے کسی ایک ادارہ میں کوچنگ کا اہتمام کیا جاتا رہا۔ کیونکہ اداروں کے انتخاب میں کم فیس والے اداروں کو ترجیح دی گئی لہذا نتائج حوصلہ افزاء نہیں رہے۔ حکومت نے جاریہ سال ٹاپ انسٹی ٹیوٹس میں ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے 62 طلباء کا انتخاب عمل میں آیا ہے۔ یہ ٹریننگ میناریٹیز اسٹڈی سرکل کے ذریعہ دی جائے گی اور حکومت نے اس ادارہ کو 12کروڑ روپئے کا بجٹ جاری کیا ہے۔

اسکریننگ کمیٹی نے سیول سرویسیس کوچنگ انٹرنس میں حصہ لینے والے طلباء میں سے 62 کا انتخاب کیا جن کے نتائج انٹرنس ٹسٹ میں حوصلہ افزاء رہے۔ طلباء کے انتخاب کو دو ہفتوں سے زائد کا وقت گذر گیا لیکن آج تک کوچنگ کیلئے ادارہ کا انتخاب نہیں ہوسکا۔ حکومت نے اس سلسلہ میں 3 عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں ضلع کلکٹر حیدرآباد راہول بوجا اور آئی پی ایس عہدیداران اکن سبھروال اور تفسیر اقبال شامل ہیں۔ کمیٹی سے کہا گیا کہ وہ معیاری اداروں کے ناموں کی سفارش کرے تاہم بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی نے آج تک اپنی رپورٹ پیش نہیں کی۔ کمیٹی کے ایک رکن کے رخصت پر چلے جانے سے یہ کام ابھی تک ادھورا ہے۔ منتخب طلباء روزانہ سی ای ڈی ایم کے دفتر اور اسٹڈی سنٹر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے تمام ٹاپ سیول سرویسیس ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس میں نئے بیاچس کا آغاز ہوچکا ہے جس سے اقلیتی طلباء کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ تاخیر سے کوچنگ میں شامل ہونے والے طلباء کو دیگر طلباء کے مقابلہ کورس پر عبور حاصل کرنے میں یقینی طور پر دشواری ہوسکتی ہے۔ حکومت نے اداروں کے انتخاب کا اختیار بھی منتخب طلباء کو دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اداروں کی فہرست تیار ہونا ابھی باقی ہے۔ طلباء نے شکایت کی کہ کوچنگ کے آغاز میں تاخیر کرتے ہوئے کس طرح بہتر نتائج کی امید کی جاسکتی ہے۔ اگر حکومت اور عہدیدار سیول سرویسیس میں اقلیتوں کی نمائندگی میں اضافہ میں سنجیدہ ہیں تو انہیں فوری ٹاپ کوچنگ انسٹی ٹیوٹس کے ناموں کا انتخاب کرنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT